ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔
جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک ( جوان اونٹنی حاصل ہو ئی ۔ ایک اور جوان اونٹنی ( خمس میں سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما ئی ۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھا یا اور میں ان دو نوں پر بیچنے کے لیے اذخر ( کی خوشبو دار گھاس ) لا دکر لا نا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ اور اس ( کی قیمت ) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کے ساتھ اپنی شادی ) کے ولیمے میں مدد لینا چا ہتا تھا ۔ حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں ( بیٹھے ) شراب پی رہے تھے ، ان کے قریب ایک گا نے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گا نے لگی ۔ سنیں حمزہ ! ( اٹھ کر ) فربہ اونٹنیوں کی طرف بڑھیں ( دوسرا مصرع ہے ۔ وَهُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ "" اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہو ئی ہیں ۔ ) "" حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑسے کاٹ لیا ان کے پہلو چیردیے پھر ان کے کلیجے نکا ل لیے ۔ میں نے ابن شہاب سے کہا : اور کو ہان بھی ؟ انھوں نے کہا : وہ ( حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دونوں کے کو ہان جڑ سے کا ٹ کر لے گئے ۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس مو جو د تھے ۔ آپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ نکل پڑے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فر ما یا ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ اٹھا ئی اور کہنے لگے : تم میرے آبا واجداد کے غلاموں سے برھ کر کیا ہو ! ( وہ دونوں جناب عبد المطلب کے پو تے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے ۔ انھوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبا لغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو ئے اور ان کی محفل سے نکل آئے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ، بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَاىَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ - قَالَ - فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ - قَالَ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ فَقَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ .
۔ عبد اللہ بن وہب نے کہا : مجھے یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے علی بن حسین بن علی نے بتا یا کہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی ۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں ۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان ، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں ۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں ، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لئے گئے ۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں ( یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمۃالزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی ، اس خیال سے تھا ) میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں ، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لئے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر ( کلیجہ ) نکال لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا ، ان کے کوہان کاٹ لئے ، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے ، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ لوگوں نے اجازت دی ۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں ( نشے کی وجہ سے ) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، پھر آپ رضی اللہ عنہ کے گھٹنوں کو دیکھا ، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا ۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور ( نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے ) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن شرا ب حرام کی گئی ، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ( لو گوں کو ) شراب پلا رہا تھا ۔ ان کی شرا ب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شرا ب کے سوا اور کو ئی نہ تھی ، اتنے میں ایک اعلا ن کرنے والا پکا رنے لگا ۔ انھوں نے کہا : میں جاؤں اور دیکھوں تو ( دیکھا کہ وہاں ) ایک منا دی اعلا ن کر رہا تھا : ( لوگو ) سنو! شراب حرام کر دی گئی ۔ کہا : پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ ( سب ) بہادی ۔ تو لو گوں نے کہا ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا ۔ ۔ ۔ فلا ں شہید ہوا تھا اور فلا ں شہید ہوا تھا تو یہ ( شراب ) ان کے پیٹ میں مو جو د تھی ۔ ۔ ۔ ( ایک راوی نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں یہ ( بھی ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں سے ہے ( یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ( لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا إِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ) نازل فرمائی : " جو لو گ ایمان لا ئے اور نیک کا م کیے جب انھوں نے تقوی اختیار کیا ایمان لا ئے اور نیک عمل کیے ( تو ) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انھوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھا یا پیا ( تھا ۔)
عبد العز یز بن صہیب نے کہا : لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ ( ملی جلی کچی اور پکی ہو ئی کھجوروں کا رس جس میں خمیراٹھ جا ئے ) کے متعلق سوال کیا ۔ انھوں نے کہا : تمھا رے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کو ئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو ، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابو طلحہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : تمھیں خبر پہنچی ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ اس نے کہا : شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انس ! ( شراب کے ) یہ سارے مٹکے بہا دو ۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں ( کبھی ) کچھ پوچھا ۔
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے بتا یا کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی ( شراب ) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا ، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا : "" شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ان ) لوگوں نے کہا : انس ! اس کو بہا دو ۔ میں نے وہ سب بہا دی ۔ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : وہ کیا تھا ( جس سے شراب بنا ئی گئی تھی ؟ ) انھوں نے کہا : وہ کچی اور پکی کھجور یں تھیں ( تیمی نے ) کہا : ابو بکر بن انس نے کہا : ان دنوں یہی ان کی شراب تھی ۔ سلیمان نے کہا : مجھے ایک شخص نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انھوں نے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھی یہی کہا تھا ۔
محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہوا قبیلے ( کے لوگوں ) کو شراب پلا رہا تھا ، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انھوں نے ( معتمر ) نے کہا : ابو بکر بن انس نے بتا یا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خود بھی ) مو جو د تھے اور انھوں نے اس کا انکا ر نہیں کیا ۔ ( سلیمان نے کہا : ) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا : اس نے ( خود ) انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی ۔
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں انصاری کی ایک جمیعت میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شراب پلا رہاتھا ، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا : شراب کی حُرمت نازل ہوگئی ہے ، ( یہ سنتے ہی ) ہم نے اسی دن اسے ( شراب کو ) بہادیا ، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب تھی ۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : شراب حرام کردی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی ، نیم پختہ اور خشک کھجور کی ( بنی ہوئی ) ہوتی تھی ۔
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایک مشکیزے سے شراب پلارہاتھا ، ملی جلی نیم پختہ اورخشک کھجوروں کی شراب تھی ، جس طرح سعید ( بن ابی عروبہ ) کی حدیث ہے ۔
عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط ( پانی ملارس ) بنایاجائے ، پھر ( اس میں خمیر اٹھنے کے بعد ) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی ۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت ابو طلحہ اورحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب پلارہاتھا ، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا : شراب حرام کردی گئی ہے ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انس!جاکر اس گھڑے کو توڑدو ، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر ( ہاون دستہ ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا ۔
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور ( کسی چیز کی بنی ہوئی ) شراب نہیں پی جاتی تھی ۔
حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوا ل کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انھوں نےکہا : میں اس کو دوا کے لئے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ ابو کثیر نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شراب ان دو درختوں ( کے پھلوں ) سے بنائی جاتی ہے ۔ : کھجور اورانگورسے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
عبداللہ بن نمیر نےکہا : اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو کثیر نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرمارہے تھے : " شراب ان دودرختوں ( کے پھلوں ) سے تیار ہوتی ہے : کھجور سے اورانگور سے ۔
زہیر بن حرب اور ابوکریب نے کہا : ہمیں وکیع نےاوزاعی ، عکرمہ بن عمار اورعقبہ بن توام سے حدیث بیان کی ، انھوں نےابوکثیر سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شراب ان دودرختوں سے بنائی جاتی ہے : انگور کی بیل اورکھجور کے درخت ( کے پھل ) سے ۔ ابو کریب کی روایت میں ( الْكَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ کی بجائے ) " الكرم والنخل " ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ .
جریر بن حازم نے کہا : میں نے عطاء ابن ابی رباح سے سنا ، کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش اور کچی کھجوروں اورپختہ کھجوروں کو ملا کر مشروب بنانے سے منع فرمایا ۔ ( کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں اس کا خمیر اٹھ جاتاہے اور یہ شراب میں تبدیل ہوجاتاہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا .
لیث نے عطاء ابن ابی رباح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اورتازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
ابن جریج نے کہا : عطاء نے مجھ سے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تازوہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو اور کشمش اور خشک کھجوروں کو نبیذ بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاؤ ۔
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کشمش اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے اورکچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا .
تیمی نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بناتے ہوئے ) خشک کھجوروں اورکشمش کو ملانے سے اورپختہ کھجوروں اورکچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَخْلِطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَأَنْ نَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ .
سعید بن یزید ابو مسلمہ نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ( نبیذ بنانے کے لئے ) کشمش اور خش کھجوروں کو ایک دوسرے سے ملا دیں اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم یکجا کرلیں ۔
وکیع نے اسماعیل بن مسلم عبدی سے ، انھوں نے ابو متوکل ناجی سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سےجو شخص نبیذ پیے وہ صرف کشمش کا نبیذ پیے یا صرف خشک کھجوروں کو نبیذ پیے یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پیے ۔
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن مسلم عبدی نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نبیذ میں ) کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے ساتھ ملانے ، یا کشمش کوخشک کھجور کے ساتھ یا کشمش کو نیم پختہ کھجوروں کے سات ملانے سے منع کیا اور یہ فرمایا : " تم میں سے جوشخص اسے پیے ۔ ۔ ۔ " آگے وکیع کی حدیث ( 5152 ) کے مانند بیان کیا ۔
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ادھ پکی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور کشمش اور خشک کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ اور دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلاَ تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَلَكِنِ انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ " . وَزَعَمَ يَحْيَى أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا .
علی بن مبار ک نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" نیم پختہ اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ اور تا زہ کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ البتہ ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بنا ؤ ۔ "" یحییٰ نے یہ بھی بتا یا کہ ان کی عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا قات ہو ئی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حسین معلم نے کہا : یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں انھی دونوں سندوں سے حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : " تازہ کھجور اور رنگ بدلتی کھجور خشک کھجور اور کشمش کی ( نبیذنہ بنا ؤ)
۔ ابان عطار نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی کہا : مجھے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذبنا نے کے لیے ) خشک بدلتی اور تازہ کھجوروں کو اور رنگ بدلتی اور تازہ کھجوروں کو ملا نے سے منع کیا اور فر ما یا : " ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
وکیع نے عکرمہ بن عمار سے انھوں نے ابو کثیر حنفی سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجوروں کچی اور خشک کھجوروں ( کو ملا کر نبیذ بنا نے ) سے منع کیا اور فر ما یا : " ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا ئی جا ئے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ الْغُبَرِيُّ - حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ہا شم بن قاسم نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن عبد الرحمٰن بن اذینہ نے اور وہ ابو کثیر عنبری ہیں ۔ حدیث بیان کی کہا : مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا اسی کے مانند ۔
علی بن مسہر نے ہمیں شیبانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حبیب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بنا نے کے لیے ) خشک کھجوروں اور کشمش کو باہم ملا نے اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم ملا نے سے منع فرما یا اور آپ نے اہل جرش کی طرف لکھا اور اس بات سے منع کیا کہ وہ خشک کھجوروں اورکشمش کو ملا کر مشروب بنائیں ۔
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے بتا یا انھوں نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ وہ کہاکرتے تھے : کچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر اور خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنا نے سے منع کر دیا گیا ۔
روح نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے نا فع سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کچی اور تازہ کھجوروں کو اور ( اسی طرح ) خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ .
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو ( کے بنے ہوئے ) اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ .
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو ( کے بنے ہوئے ) اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
قَالَ وَأَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ .
۔ ( گزشتہ سند سے روایت کرتے ہوئے سفیان بن عینیہ نے ) کہا : انھیں ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن میں نبیذ نہ بناؤ اور نہ روغن زفت ملے ہوئے برتن میں ۔ " پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے تھے : سبز گھڑوں سے اجتناب کرو ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ . قَالَ قِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ الْجِرَارُ الْخُضْرُ .
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ، سبز گھڑوں اور کھوکھلی ( کی ہوئی ) لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا ۔ ( ابو صالح نے ) کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاگیا کہ حنتم کیا ہے؟انھوں نے بتایا : سبز ( رنگ کے کپڑے ) گھڑے ۔
محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفدسےفرمایا : " میں تم کو کدو کے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، حنتم ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن قارملے ہوئے برتنوں سےمنع کرتا ہوں ۔ حنتم وہ مشکیزے ہیں جن کے منہ کٹے ہوئے ہوں ۔ لیکن اپنے مشکیزوں سے پیو اور ان کا منہ باندھ دیاکرو ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ . هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ . وَفِي حَدِيثِ عَبْثَرٍ وَشُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ .
عبشر ، جریر اور شعبہ سب نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے حارث بن سوید سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔ یہ جریر کی روایت ہے ۔ عبثر اور شعبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور روغن زفت ملے برتن سے منع فرمایا ہے ۔
منصور نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : میں نے اسود سے کہا : کیا تم نے ام المومنین ( عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے ان بر تنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟انھوں نے کہا : ہاں ، میں نے عرض کی تھی : ام المومنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا ۔ ( ابراہیم نے ) کہا : میں نے ( اسود سے ) پوچھا : انھوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟انھوں نےکہا : میں تم کو وہی حدیث بیان کرتاہوں جو میں نے سنی ہے ۔ کیا میں تمھیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ .
اعمش نے ابراہیم سے انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اورروغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
منصور ، سلیمان اور حماد نے ابراہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ، حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيذِ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ .
ثمامہ بن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ ( بنو ) عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدوکے ( بنے ہوئے ) برتن ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ .
ابن علیہ نے کہا : ہمیں اسحاق بن سوید نے معاذہ سےحدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن ، سبز گھڑوں ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔
253 میں سے 50
253 روایات · نمبر 5127–5383
عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔