نمبر 5217کتاب 36، نمبر 91عربی نمبر شمار 2002
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ - وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ - فَسَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا جیشان یمن میں ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سر زمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنا یا جا تا تھا اس کا نام مزر تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہرنشہ آور چیز حرام ہے بلا شبہ اللہ عزوجل کا ( اپنے اوپر یہ ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرما یا : " جہنمیوں کا پسینہ یا ( فرمایا : ) جہنمیوں کا نچوڑ ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔