سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 5187

نمبر 5187کتاب 36، نمبر 61عربی نمبر شمار 1997.02
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ ‏.‏ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلاَ تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ وَمَا يَقُولُ قُلْتُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ ‏.‏ فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ ‏.‏ فَقُلْتُ وَأَىُّ شَىْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ فَقَالَ كُلُّ شَىْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ ‏.‏
یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کوحرام قرار دیا ہے ۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور کہا : کہا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا فرماتے ہیں؟انھوں نےکہا : وہ کیا کہتے ہیں؟میں نے کہا : وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے ۔ تو انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کردیا ہے ۔ میں نے پوچھا : گھڑوں کی نبیذسے کیا مراد ہے؟انھوں نے کہا : ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے ۔ ( اس میں بنائی گئی نبیذ)

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 36 · The Book of Drinks

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔