عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کو لوٹنے کے لیے ان پر ہتھیار اٹھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ جس نے ناحق ایسا کیا، اس نے بہت بڑا جرم اور کبیرہ گناہ کیا اور اس سخت وعید کا حق دار ہو گیا۔
فوائد
اس حدیث میں اس بات سے بڑے سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا اور ان کو قتل کرنا بہت ہی غلط کام اور زمین میں بہت بڑا فساد برپا کرنا ہے۔
مذکورہ وعید کے دائرے میں حق کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگ، جیسے باغیوں اور فساد برپا کرنے والوں وغیرہ سے جنگ نہیں آتی۔
مسلمانوں کو ہتھیار وغیرہ دکھاکر خوف زدہ کرنا جائز نہيں ہے۔ چاہے مذاق کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 49) (7071).
صحيح مسلم (1/ 98) (100).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص406).
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص815).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 195).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص752).
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: "کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آئے گی"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کوئی کسی سے یہ کہے کہ تم فاسق ہو یا تم کافر ہو۔ کیوں کہ سامنے والا شخص اگر فاسق یا کافر نہ ہو، تو کہنے والا ہی اس صفت کا حق دار ہو جائے گا اور اس کی کہی ہوئی بات اسی کی جانب لوٹ جائے گی۔ البتہ اگر اس کی کہی ہوئی بات درست ہو تو کہنے والے کا کوئی نقصان نہيں ہوگا کیوں کہ اس کی کہی ہوئی بات سچی ہے۔
فوائد
کسی شرعی جواز کے بغیر کسی کو کافر یا فاسق کہنا حرام ہے۔
لوگوں کے بارے میں احکام صادر کرنے سے پہلے ان کے بارے میں تفتیش ضروری ہے۔
ابن دقیق عید کہتے ہيں: کسی شخص کو، جو سچ مچ کافر نہ ہو، کافر کہنے والے کے لیے یہ بہت بڑی وعید ہے۔
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: کسی کو کافر یا فاسق کہنے سے اس کے فاسق یا کافر نہ ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایسا کہنے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا۔ دراصل اس کی تھوڑی سی تفصیل ہے۔ اگر سامنے والے کی خیرخواہی یا اس کا حال بتاکر کسی اور کی خیرخواہی کرنا مقصد ہو، تو جائز ہے۔ اگر عار دلانا، بدنام کرنا اور تکلیف دینا مقصد ہو، تو جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ حکم پردہ پوشی کرنے، تعلیم دینے اور سمجھانے بجھانے کا ہے اور یہ کام نرمی سے ہو جائے، تو سختی سے کرنا جائز نہیں ہے۔ سختی کرنے سے کبھی کبھی انسان بھڑک جاتا ہے اور اصرار کرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگوں کی طبیعت میں انانیت ہوتی ہے، جو خاص طور سے اس وقت جاگ اٹھتی ہے، جب بتانے والا سامنے والے سے کم مقام و مرتبے والا ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 15) (6045).
صحيح مسلم (1/ 79) (61).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1073).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (18/ 446).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 82).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 220).
التنوير شرح الجامع الصغير، للصنعاني (9/ 275).
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من خَبَّبَ زوجة امْرِئٍ أو مَمْلُوكَهُ فليس مِنَّا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جو کسی کی بیوی کو اس کے شوہر کے برخلاف اکسائے، ایسا کرنے والا مرد ہو یا کہ عورت بایں طور کہ اس کے سامنے اس کے شوہر کی برائی اوراس کےغلط اخلاق کو کچھ اس انداز سے بیان کرے تاکہ وہ اس سے نفرت کرنے لگے اورسرکشی پر آمادہ ہو اور پھر طلاق یا خلع کے ذریعہ اس سے علٰیحدگی کا مطالبہ کرنے لگے، یا یہ کہ کسی غلام کو اس کے مالک کے برخلاف ورغلائے اور مختلف حربے اپنا کر مالک کے برخلاف سرکشی پر آمادہ کرے اورپھر اس کے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کرے توایسا شخص ہمارے منہج اور راستے پر چلنے والا نہیں اوراس کا یہ عمل شیطانی عمل ہے۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
صحيح الجامع الصغير وزيادته، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي.
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السَِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com