اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کو لوٹنے کے لیے ان پر ہتھیار اٹھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ جس نے ناحق ایسا کیا، اس نے بہت بڑا جرم اور کبیرہ گناہ کیا اور اس سخت وعید کا حق دار ہو گیا۔
- اس حدیث میں اس بات سے بڑے سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
- مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا اور ان کو قتل کرنا بہت ہی غلط کام اور زمین میں بہت بڑا فساد برپا کرنا ہے۔
- مذکورہ وعید کے دائرے میں حق کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگ، جیسے باغیوں اور فساد برپا کرنے والوں وغیرہ سے جنگ نہیں آتی۔
- مسلمانوں کو ہتھیار وغیرہ دکھاکر خوف زدہ کرنا جائز نہيں ہے۔ چاہے مذاق کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔
صحيح البخاري (9/ 49) (7071). صحيح مسلم (1/ 98) (100). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص406). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص815). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 195). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص752).