سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جاہلیت کے مسائل

8 احادیث

لوگو، دین میں غلو سے بچو۔ کیوں کہ دین میں غلو نے ہی تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ: «الْقُطْ لِي حَصًى» فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ، هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ، فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ وَيَقُولُ: «أَمْثَالَ هَؤُلَاءِ فَارْمُوا» ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّما أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عَقَبَہ کی صبح، جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، فرمایا: "میرے لیے کچھ کنکر چن کر لاؤ۔" چنانچہ میں نے سات کنکر چن کر پیش کیے، جو چنے کے دانے کے برابر تھے۔ آپ انھیں اپنی ہتھیلی میں رکھ کر جھاڑنے لگے اور کہنے لگے : "اسی طرح کے کنکر مارا کرو"۔ پھر فرمایا : "لوگو، دین میں غلو سے بچو۔ کیوں کہ دین میں غلو نے ہی تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔"
رواه ابن ماجه والنسائي وأحمددرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر، قربانی کے دن، جمرہ عقبہ میں کنکر مارنے کی صبح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے ان کو کچھ کنکر چن کر لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انھوں نے سات کنکر چن کر پیش کیے۔ ہر کنکر چنے کے دانے کے برابر تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کنکروں کو اپنی ہتھیلی میں رکھ کر ہلایا اور فرمایا : اسی سائز کے پتھر مارا کرو۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دینی معاملوں میں غلو و تشدد سے کام لینے اور حد سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔ کیوں کہ دینی معاملوں میں یہی غلو، حد سے تجاوز، افراط اور انتہا پسندی نے پچھلی امتوں کو ہلاک کیا ہے۔

فوائد
  1. دین میں غلو سے ممانعت، اس کے برے انجام اور اس بات کا بیان کہ دین میں غلو ہلاکت کا سبب ہے۔
  2. پچھلی امتوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے بچنے کے لیے ان سے عبرت حاصل کرنی چاہيے۔
  3. سنت کی پیروی کرنے کی ترغیب۔
حوالہ

سنن النسائي (5/ 268)(3057). سنن ابن ماجه (4/ 228) (3029). مسند أحمد (5/ 298) (3248). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص165). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص179).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ سے نُشرَہ کے بارےمیں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔

عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن النُّشْرَةِ؟ فقال: هي من عمل الشيطان.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نُشرَہ ( زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ سے جادو کے علاج کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جیسے جاہلیت میں علاج کیا جاتاتھا مثلاً جادو کا علاج جادو کے ذریعے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ یہ شیطانی عمل ہے یا اس کے واسطے سے ہے کیوں کہ اس میں بہت ساری جادو کی اقسام اور شیطانی خدمات کا استعمال ہوتا ہے، لہذا یہ شرکیہ اور حرام عمل ہے۔ اور ’’جائز نشرہ‘‘ جادو کا ــــــــــ دم کے ذریعہ، یا اس کا کھوج کرکے توڑنا ہے، اسی طرح اسے ہاتھ کے ذریعہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ یا جائز ادویات سے توڑنا ہے۔

فوائد
  1. جس چیز کا حکم معلوم نہ ہو پا رہا ہو، اس کے بارے میں علما سے سوال کرنے کی حکم، تاکہ غلطی میں پڑنے سے بچا جاسکے۔
  2. جاہلیت کے طریقہ پر نُشرہ (زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کرنے کی ممانعت، کیوں کہ یہ جادو ہے اور جادو کفر ہے۔
  3. تمام شیطانی کام حرام ہیں۔
حوالہ

1- الملخص في شرح كتاب التوحيد، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م. 2- الجديد في شرح كتاب التوحيد، محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي، تحقيق: محمد بن أحمد سيد، مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م. 3- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا، بيروت. 4- مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. 5- سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت کی کچھ چيزوں کا ذکر، ان سے خبردار رکھنے اور یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کچھ بھی اس کے فیصلے اور تقدیر سے ہٹ کر نہيں ہوتا۔ اور وہ چیزیں درج ذیل ہیں: 1- دور جاہلیت کے لوگ سمجھتے تھے کہ مرض بذات خود متعدی ہوا کرتی ہے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا دیا کہ کوئی بیماری طبعی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ اس کائنات کا تصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی بیماری اتارتا اور اٹھاتا ہے۔ یہ سب اس کے ارادے اور فیصلے کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ 2- دور جاہلیت کے لوگ جب سفر یا تجارت کے ارادے سے نکلتے، تو کسی پرندے کو بھگاتے۔ وہ اڑ کر دائيں طرف جاتا، تو خوش ہو جاتے۔ لیکن اگر بائیں طرف جاتا، تو برا شگون لیتے اور لوٹ جاتے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح پرندہ اڑا کر برا شگون لینے سے منع فرمایا اور بتایا کہ یہ ایک غلط عقیدہ ہے۔ 3- دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے: کسی گھر پر الو بیٹھ جائے، تو اہل خانہ مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ 4- آپ نے صفر مہینے سے برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ صفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صفر ایک کیڑا ہے، جو جانور یا انسان کے پیٹ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ خارش کی بیماری سے بھی زیادہ متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ آپ نے اس عقیدے کی نفی کر دی۔ 5- آپ نے کوڑھ کے مرض کے شکار انسان سے اسی طرح بھاگنے کا حکم دیا ہے، جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے۔ دراصل یہ حکم اپنے لیے احتیاط، طلب عافیت اور اللہ کے حکم کردہ اسباب پر عمل کرنے کے قبیل سے ہے۔ کوڑھ ایک بیماری ہے، جس کا شکار ہونے والے انسان کے جسم کے اعضا گلنے لگتے ہيں۔

فوائد
  1. اللہ پر توکل و اعتماد اور مشروع اسباب اختیار کرنا واجب ہے۔
  2. قضا و قدر اور اس بات پر ایمان رکھنا واجب ہے کہ اسباب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان کو مؤثر بناتا اور وہی انہیں بے اثر بناتا ہے۔
  3. جو لوگ سیاہ و سرخ وغیرہ رنگوں، بعض ارقام، ناموں، اشخاص اور معذور افراد سے بد شگونی لیتے ہیں، ان کا یہ عمل باطل و بے بنیاد ہے۔
  4. مجذوم اور اسی طرح متعدی امراض کے شکار لوگوں کے قریب جانے کی ممانعت دراصل ان اسباب میں سے ہے، جن کے بطن سے عموماً اللہ کے حکم سے مسببات پیدا ہوا کرتے ہيں۔ دیکھا جائے تو اسباب کا اپنا مستقل وجود نہيں ہوتا، بلکہ اللہ چاہے تو ان کی تاثیر ختم کر کے بے اثر بنا دے اور چاہے تو ان کے اثر کو باقی رکھ کر ان کو مؤثر رہنے دے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 126) (5707). صحيح مسلم (4/ 1742) (2220). فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (ص307). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 565). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص228). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص253). التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص77).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت والوں کے کچھ افعال سے منع اور خبردار کیا ہے۔ فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے: 1- جو رخسار پیٹے۔ آپ نے بطور خاص رخسار پیٹنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس طرح کے موقعوں پر عام طور سے رخسار ہی پیٹا جاتا ہے۔ ورنہ چہرے کے باقی حصے کو پیٹنا بھی ممانعت میں داخل ہے۔ 2- جس نے جزع فزع کرتے ہوئے گریبان پھاڑا۔ 3- دور جاہلیت کے لوگوں کی بول بولے۔ مثلا ہائے ہائے اور بربادى کا الاپ لگائے, نوحہ اور ماتم وغیرہ کرے۔

فوائد
  1. اس حدیث میں وارد وعید بتاتی ہے کہ یہ اعمال کبیرہ گناہوں میں داخل ہيں۔
  2. مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔ اور اللہ کی تکلیف دہ تقدیر پر ناراض ہونا اور نوحہ وماتم یا سر منڈواکریا گریبان پھاڑ کر یا اس طرح کا کوئى اور کام کرکے اللہ کى تقدیر سے ناراضگى کا اظہار کرنا حرام ہے۔
  3. دور جاہلیت کے ان کاموں کی تقلید کرنا حرام ہے، جنھیں شریعت نے برقرار نہیں رکھا ہے۔
  4. غمزدہ ہونے اور رونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالی کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رحمت ہے، جسے اللہ نے رشتہ داروں اور احباب کے دل میں پیدا فرمایا ہے۔
  5. مسلمان کی ذمے داری ہے کہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔ اگر راضی نہیں بھی ہو سکا، تو کم از کم صبر کرنا واجب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 81) (1294). صحيح مسلم (1/ 99) (103). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص287). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 379) .

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے بدشکونی لی, یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی گئی, یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گيا

عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لَيْسَ ‌مِنَّا ‌مَنْ ‌تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ، وَمَنْ عَقَدَ عُقْدَةً، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے بدشکونی لی, یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی گئی, یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گيا۔ جس نے کوئی گرہ لگائی اور جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کو سچ مانا، اس نے اس شریعت کا انکار کیا، جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتاری گئی ہے۔"
رواه البزاردرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ مخصوص کام کے بارے میں فرمایا کہ میری امت کے جو لوگ ایسے کام کریں گے وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ یہ کام کچھ اس طرح ہیں : 1- "ایسا شخص جس نے بدشگونی لی یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی"۔ اس کى اصل یہ ہے کہ: کسی بھى کام جیسے سفراور تجارت وغیرہ کے شروع کرتے وقت پرندے کو اڑایا جائے۔ پرندہ اگر دائیں اڑے، تو نیک شگون لے اور جس کام کا ارادہ ہو، اسے کرگذرے۔ لیکن اگر بائیں اڑے، تو بد شگونی لے اور جو کام کرنا ہو، اسے چھوڑ دے۔ یہ کام نہ تو خود کرنا جائز ہے اور نہ کسی سے کروانا جائز ہے۔ یاد رہے کہ اس ممانعت کے اندر کسی بھی چیز سے لی جانے والی بد شگونی داخل ہے۔ چاہے اس چیز کا تعلق سننے سے ہو یا دیکھنے سے۔ وہ چیز پرندہ ہو، جانور ہو، جسمانی معذوری والے لوگ ہوں، عدد ہوں یا دن وغیرہ۔ 2- "ایسا شخص جس نے خود کہانت کی یا کسی سے کروائی"۔ پس جس نے ستاروں وغیرہ کا سہارا لے کر غیب کی بات جاننے کا دعوی کیا یا پھر کسی ایسے شخص کے پاس گیا، جو غیب کی بات جاننے کا دعوی کرتا ہو اور اس کی بات کو سچ بھی مانا، اس نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنے والی شریعت کا انکار کیا۔ 3- "ایسا شخص جس نے جادو کیا یا جادو کروایا"۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے، جس نے کسی کو فائدہ پہنچانے یا کسی کا نقصان کرنے کے مقصد سے جادو کیا یا جادو کروایا یا ناجائز منتر پڑھ کر دھاگہ وغیرہ پر پھونک ماری اور گرہ لگائی۔

فوائد
  1. اللہ پر بھروسہ کرنے اور اس کی قضا و قدر پر ایمان رکھنے کا وجوب اور بدشگونی، جادو، کہانت کرنے یا کسی سے کرانے کی حرمت۔
  2. غیب کی بات جاننے کا دعوی کرنا شرک اور توحید کے منافی ہے۔
  3. کاہنوں کی تصدیق کرنا اور ان کے پاس جانا حرام ہے اور اس حکم میں ہاتھ دیکھنا، پیالی پڑھنا اور ستاروں کی گردشوں وغیرہ کے ذریعے غیب کی بات بتانا بھی شامل ہے۔
حوالہ

مسند البزار = البحر الزخار (9/ 52) (3578). شرح السنة للبغوي (12/ 182). مجموع الفتاوى (35/ 173). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 543). التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص315). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص242). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص217).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کے اپنا باپ ہونے کا دعوی کیا تو اس نے کفر کیا۔ اور جس شخص نے کسی ایسی شے کا دعوی کیا جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ اور جس کسی نے دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارا، یا یہ کہا کہ اے اللہ کے دشمن۔ اور وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو اس کا یہ کہنا اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

عن أبي ذر رضي الله عنه مرفوعًا: (ليس من رجل ادَّعَى لغير أبيه -وهو يعلمه- إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له، فليس منا وَلَيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ من النار، ومن دعا رجلا بالكفر، أو قال: عدو الله، وليس كذلك، إلا حَارَ عليه).
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کے اپنا باپ ہونے کا دعوی کیا تو اس نے کفر کیا، جس شخص نے کسی ایسی شے کا دعوی کیا جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے بعینہ جس کسی نے کسی دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارا، یا یہ کہا کہ: او اللہ کے دشمن۔ اور وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو اس کا یہ کہنا اس کی طرف لوٹ آتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور شدید ڈراوا ہے جو ان تینوں اعمال میں سے کسی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ان تینوں ہی کا مرتکب ہو؟۔ اول: جو شخص اپنے حقیقی باپ کو جانتا ہو اور جس کا نسب ثابت شدہ ہو لیکن پھر بھی وہ اس کا انکار کرے اور اس سے انجان بنے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے یا پھر اپنے قبیلے کے بجائے کسی اور قبیلے کی طرف اپنی نسبت کرے۔ دوم: یا پھر جانتے بوجھتے ہوئے کسی ایسے نسب، مال، حق، عمل یا علم کا دعوی کرے یا پھر اپنے آپ میں کسی ایسی صفت ہونے کا مدعی ہو جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو۔ ایسا کرنے کا عذاب بہت بڑا ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے اظہار برأت کیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے کیونکہ وہ جہنمی ہے۔ سوم: کسی برے شخص پر کفر یا یہودیت یا نصرانیت کا الزام لگائے اور یہ کہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ہے۔ ایسا کہنا اسی شخص ہی پر لوٹ آتا ہے کیونکہ وہ ان قبیح صفات کا اس مسلمان سے زیادہ حق دار ہے جو برائی اور اس کے برے اقوال سے غافل ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، دار طوق النجاة، ط 1422هـ. صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي. تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006 م. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى 1381هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا : "وہ کچھ نہيں ہیں۔" ان لوگوں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی کوئی بات کہہ جاتے ہیں، جو صحیح نکل آتی ہے۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو آنے والے وقت سے متعلق غیب کی باتیں بتایا کرتے ہيں، تو آپ نے کہا کہ ان پر دھیان مت دو، ان کی بات پر عمل نہ کرو اور ان کی پرواہ مت کرو۔ لوگوں نے کہا کہ کبھی کبھی ان کی کہی ہوئی کوئی بات اصل صورت حال کے مطابق نکل آتی ہے۔ مثلا وہ کسی مہینے کے کسی دن کوئی واقعہ پیش آنے کی بات کہتے ہیں اور وہ واقعہ پیش آ بھی جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : دراصل ہوتا یہ ہے کہ جن آسمان کی جو خبر سنتے ہيں، اسے اچک لیتے ہیں اور اپنے کاہن دوستوں کے پاس آکر بتا دیتے ہيں اور پھر جن سے سنی ہوئی اس ایک بات میں کاہن سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔

فوائد
  1. کاہنوں کی بات کو سچ ماننے کی ممانعت اور اس بات کی نشان دہی کہ ان کی باتیں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ چاہے ان کی ایک آدھ بات صحیح بھی نکل آئے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد آسمان کو شیطانوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے لیے وحی اور دوسری خبروں کو سننا ممکن نہ رہا۔ ہاں، کوئی چوری چھپے سن لے اور شہابوں سے محفوظ رہ جائے تو بات الگ ہے۔
  3. جن بعض انسانوں کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 47) (6213). صحيح مسلم (4/ 1750) (2228). نزهة المتقين (2/ 1143). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 557). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 177). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (7/ 2904). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 404).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوم الفتح فقال: «ألا إن كل مَأْثُرَة كانت في الجاهلية من دم أو مال تُذْكَرُ وَتُدْعَى تحت قدمي، إلا ما كان من سِقَايَةِ الحاج، وسِدَانَة البيت» ثم قال: «ألا إن دِيَةَ الخطإ شِبْه العمد ما كان بالسَّوْطِ والعَصَا مِائة من الإبل: منها أربعون في بُطُونِهَا أولادُهَا».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے"۔ اس کے بعدآپ ﷺ نےفرمایا کہ " آگاہ ہو جاؤ کہ قتلِ خطا کی دیت قتلِ عمد کی سی ہےجو کہ کوڑے یا لاٹھی سے واقع ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہونی چاہیے جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔ زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔

حوالہ

سنن أبي داود، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد-الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي-الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. سنن للنسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، الناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب،الطبعة: الثانية، 1406 – 1986. مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام،محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة، الطبعة الأولى، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423. منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهري-الناشر: دار الفلق، الرياض، الطبعة: السابعة، 1424 هـ. سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث. عون المعبود شرح سنن أبي داود، محمد أشرف الصديقي، العظيم آبادي،الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة: الثانية، 1415 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com