ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عَقَبَہ کی صبح، جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، فرمایا: "میرے لیے کچھ کنکر چن کر لاؤ۔" چنانچہ میں نے سات کنکر چن کر پیش کیے، جو چنے کے دانے کے برابر تھے۔ آپ انھیں اپنی ہتھیلی میں رکھ کر جھاڑنے لگے اور کہنے لگے : "اسی طرح کے کنکر مارا کرو"۔ پھر فرمایا : "لوگو، دین میں غلو سے بچو۔ کیوں کہ دین میں غلو نے ہی تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔"
رواه ابن ماجه والنسائي وأحمددرجہصحيح
تشریح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر، قربانی کے دن، جمرہ عقبہ میں کنکر مارنے کی صبح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے ان کو کچھ کنکر چن کر لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انھوں نے سات کنکر چن کر پیش کیے۔ ہر کنکر چنے کے دانے کے برابر تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کنکروں کو اپنی ہتھیلی میں رکھ کر ہلایا اور فرمایا : اسی سائز کے پتھر مارا کرو۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دینی معاملوں میں غلو و تشدد سے کام لینے اور حد سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔ کیوں کہ دینی معاملوں میں یہی غلو، حد سے تجاوز، افراط اور انتہا پسندی نے پچھلی امتوں کو ہلاک کیا ہے۔
فوائد
دین میں غلو سے ممانعت، اس کے برے انجام اور اس بات کا بیان کہ دین میں غلو ہلاکت کا سبب ہے۔
پچھلی امتوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں سے بچنے کے لیے ان سے عبرت حاصل کرنی چاہيے۔
سنت کی پیروی کرنے کی ترغیب۔
حوالہ
سنن النسائي (5/ 268)(3057).
سنن ابن ماجه (4/ 228) (3029).
مسند أحمد (5/ 298) (3248).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص165).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص179).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com