عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: «أراني في المنام أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فجاءني رجلان، أحدهما أكبر من الآخر، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأصغرَ، فقيل لي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إلى الأكبر منهما».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں۔ اسی درمیان دو آدمی میرے پاس آئے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی، مگر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ چنانچہ میں نے ان میں سے بڑے کو مسواک دے دی“۔
امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ مسواک کر رہے ہیں۔ اسی دوران آپ ﷺ کے پاس دو آدمی آئے؛ جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ آپ ﷺ نے مسواک ان میں سےچھوٹے کو دینا چاہا، لیکن آپ ﷺ کو کہا گیا کہ دینے میں بڑے کو مقدم رکھیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ ان میں سے بڑے کو دے دی۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أسامة بن زيد رضي الله عنهما قال: أشرفَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على أُطُم من آطام المدينة، فقال: «هل ترون ما أرى؟» قالوا: لا، قال: «فإنِّي لأرى الفتنَ تقع خِلال بيوتكم كوَقْع القَطْر».
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے مدینے کے بلند قلعوں میں ایک اونچی جگہ سے دیکھا اور صحابہ سے فرمایا کہ کیا جو میں دیکھ رہا ہوں تمھیں نظر آ رہا ہے؟ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمھارے گھروں کے درمیان اس طرح اتر رہے ہیں جیسے موسلادھار بارش ہورہی ہو! یہ در اصل مدینے میں ہونے والی جنگوں اور فتنوں کی طرف اشارہ تھا، جیسے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور واقعۂ حرہ وغیرہ۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد القسطلاني القتيبي، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة 1323هـ.
شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض، السعودية، الطبعة: الثانية 1423هـ، 2003م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
- دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
- یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8)، صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82)، فتح الباري لابن رجب (1/ 22)، جامع العلوم والحكم (1/147)، شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62)، شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29)، شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95)، التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن المقدام بن معدِيْكَرِب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَلَا هَلْ عَسَى رَجُلٌ يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ عَنِّي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللهُ».
مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو ہم حرام جانیں گے۔ یاد رکھو! بلاشک و شبہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے، وہ ویسے ہی حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز"۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے، جب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ ان میں سے ایک آدمی اپنی مسند پر بیٹھا ہوگا اور جب اس کے پاس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچے گی، تو وہ کہے گا کہ تمام معاملات میں ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی چیز قرآن مجید ہے۔ وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے، اسی سے اجتناب کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ہر وہ چیز جسے آپ نے اپنی سنت میں حرام ٹھہرایا یا اس سے منع فرمایا، اس کا بھی حکم وہی ہے، جو حکم قرآن میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ہے، کیوں کہ آپ اپنے رب کی جانب سے دین پہنچانے والے کی حیثیت سے آئے تھے۔
فوائد
- حدیث کی تعظیم بھی اسی طرح کی جائے گی جس طرح قرآن کی کی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی قرآن ہی طرح کیا جائے گا۔
- رسول کی اطاعت در اصل اللہ کی اطاعت ہے اور رسول کی نافرمانی در اصل اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔
- حدیث کی حجیت کا ثبوت اور احادیث کا رد یا انکار کرنے والے کی تردید۔
- جو شخص حدیث سے اعراض کرے اور صرف قرآن پر اکتفا کرنے کا دعوی کرے، وہ در اصل قرآن و حدیث دونوں سے اعراض کرنے والا ہے اور اتباع قرآن کے دعوے میں جھوٹا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ نے مستقبل میں کسی چیز کے واقع ہونے کی پیشین گوئی فرمائی اور وہ چیز ہوبہو اسی طرح واقع ہو بھی گئی۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 13) (4604)، سنن الترمذي (4/ 399) (2664)، سنن ابن ماجه (1/ 9) (12)، نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار (13/ 154).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
ابو عبدالرحمن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
- دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
- یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8).
صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82).
فتح الباري لابن رجب (1/ 22).
جامع العلوم والحكم (1/147).
شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62).
شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29).
شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95).
التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com