سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے۔

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ليلةَ أُسْرِيَ بي مررتُ على جبريل في المَلَأ الأعلى كالحِلْسِ البالي مِن خَشيةِ الله عز وجل ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے“۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اسراء اور معراج کی شب جب انہیں اوپر لے جایا گیا تو ان کا گزر جبرائیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا جو مقرب فرشتوں کے ہمراہ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اللہ عز و جل کے خوف کی شدت کی وجہ سے پرانے اور رقیق کپڑے کی مانند ہوئے پڑے ہیں۔ یہ بات جبرائیل علیہ السلام کے علم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جو شخص اللہ تعالی کا جتنا زیادہ علم رکھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اس سے ڈرتا ہے۔

حوالہ

- النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. - تاج العروس من جواهر القاموس، للزبيدي، نشر: دار الهداية. - المعجم الأوسط، لسليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي الطبراني، المحقق: طارق بن عوض الله بن محمد , عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، الناشر: دار الحرمين - القاهرة. - السنة، لابن أبي عاصم، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، نشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400ه. - التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ, محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، المعروف بالأمير, المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم, مكتبة دار السلام، الرياض, الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م. - المصباح المنير في غريب الشرح الكبير, أحمد بن محمد بن علي الفيومي ثم الحموي، أبو العباس, المكتبة العلمية - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فرشتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com