سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔

عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال في هذه الآية: {ولقد رآه نَزْلَةً أُخرى} [النجم: 13]، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «رأيتُ جبريلَ عند سِدْرةِ المُنْتَهى، عليه ستُّمائة جَناح، يَنْتَثِرُ من رِيشِه التَّهاوِيلُ: الدُّرُّ والياقُوتُ».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں کہا: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ (سورہ نجم:۱۳) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ کی تفسیر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ نے جبریل علیہ السلام کو جنت کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، ان کی اس ہیئت و خلقت میں دیکھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پروں سے مختلف رنگ کے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔

حوالہ

- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. - النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري, محمَّد الخَضِر بن سيد عبد الله بن أحمد الجكني الشنقيطي, مؤسسة الرسالة، بيروت, الطبعة: الأولى، 1415 هـ. - المصباح المنير في غريب الشرح الكبير, أحمد بن محمد بن علي الفيومي ثم الحموي، أبو العباس, المكتبة العلمية – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فرشتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com