سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أُذِنَ لي أنْ أُحَدِّثَ عن مَلَك مِن ملائكة الله مِن حَمَلَةِ العَرْش، إنَّ ما بين شَحْمةِ أُذُنِه إلى عاتِقِه مَسِيرةُ سبعِمائة عام».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت کا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، نبی ﷺ خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ وہ اپنی امت سے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے کا وصف بیان کریں، ان فرشتوں میں سے جو رحمان کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں جو کہ اللہ کی مخلوقات میں سب سے عظیم مخلوق ہے اور اس فرشتے کے کان کے نچلے حصے کی لو سے لے کر اس کی گردن کے نچلے حصے تک کی مسافت و دوری ایک تیز رفتار گھوڑے کے سات سو برس تک چلنے کے برابر ہے۔

حوالہ

-سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. -فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى. -سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. -مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. -المفاتيح في شرح المصابيح, الحسين بن محمود بن الحسن المُظْهِري, تحقيق لجنة من المحققين بإشراف: نور الدين طالب, دار النوادر، وهو من إصدارات إدارة الثقافة الإسلامية - وزارة الأوقاف الكويتية, الطبعة: الأولى، 1433 هـ - 2012 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فرشتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com