عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: دخلتُ على النبيِّ صلى الله عليه وسلم وهو يُوعَكُ، فَمَسَسْتُهُ، فقلتُ: إنّكَ لَتُوعَكُ وَعَكًا شَدِيدًا، فقالَ: «أجَلْ، إنِّي أُوعَكُ كما يُوعَكُ رَجُلانِ منكُم».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ ﷺ کو سخت بخار تھا۔ میں نے آپ ﷺ کو چھو کر دیکھا اور کہا:آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ شدید بیماری میں مبتلا تھے۔انھوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا: یا رسول اللہ! بیماری کے دوران آپ پر بہت سخت تکلیف آتی ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ ﷺ کو بیماری کے دوران اتنی سخت تکلیف ہوتی ہے، جتنی ہم میں سے دو آدمیوں کو ہوتی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے؛ تاکہ آپ ﷺ صبر کے بلند مراتب کو پا سکیں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن - الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين، فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا -الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما : «أنه كان يسير على جمل فأعيا، فأراد أن يُسَيِّبَهُ. فلحقني النبي صلى الله عليه وسلم فدعا لي، وضربه، فسار سيرا لم يَسِرْ مثله. ثم قال: بِعْنِيهِ بأُوقية. قلتُ: لا. ثم قال: بِعْنِيه. فَبِعْتُهُ بأوقية، واستثنيت حُمْلَانَهُ إلى أهلي. فلما بلغت: أتيته بالجمل. فنقدني ثمنه. ثم رجعت. فأرسل في إثري. فقال: أتَرَانِي مَاكستُكَ لآخذ جملك؟ خذ جملك ودراهمك، فهو لك».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر جا رہے تھے، جو بہت تھک چکا تھا۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ اسے چھوڑ دیں۔ نبی ﷺ پیچھے سے میرے ساتھ آن ملے۔ آپ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا، تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اس کو مجھے فروخت کر دو! تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ کے عوض فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل وعیال تک جانے کا استثنا کرلیا۔ جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ پھر میں واپس آگیا۔ آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہ ایک اونٹ پر سوار تھے، جو لاغر و کمزور ہونے کی وجہ سے چلنے اور لشکر والوں کی ہمراہی سے قاصر تھا۔ یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا کہ وہ جہاں چاہے چلا جائے؛ کیوںکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں رہ گیا تھا۔ یہ نبی ﷺ کی اپنے صحابہ اور امت کے ساتھ شفقت کا ایک مظہر تھا کہ آپ ﷺ کمزور و ناتواں اور الگ ہو جانے والے افراد کا خیال کرتے ہوئے لشکر کے پیچھے پیچھے چلا کرتے تھے۔ آپ ﷺ پیچھے سے جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آن ملے جو کہ اپنے لاغر اونٹ پر سوار تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے اونٹ کو مارا۔ آپ ﷺ کی اس پرشفقت مار نے لاغر و کمزور اونٹ میں طاقت بھر دی، اسے اس سے مدد ملی اور وہ ایسے چلنے لگا، جیسے وہ کبھی چلا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ چوں کہ گرم گستر اور لطف و مہربانی کے پیکر تھے، اس لیے جابر رضی اللہ کا دل بہلانے اور انہیں باتوں میں لگانے کا فیصلہ کیا، تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اونٹ ایک اوقیہ کے عوض بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ اللہ کے فضل کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اورانھیں یہ علم تھا کہ اس اونٹ کو نبی ﷺ کے ہاتھوں نہ بیچنے سے ان کے دین میں کوئی کمی نہیں آنی ہے۔ کیوںکہ یہ نبی کی واجب اطاعت میں داخل نہیں۔ دراصل یہ حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی پابندی ضروری ہو۔ اس کے باوجود نبی ﷺ نے ان سے دوبارہ بیچنے کو کہا، تو انہوں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے آپ ﷺ کو بیچ دیا اور شرط لگائی کہ وہ مدینے میں موجود اپنے اہل خانہ تک اس پر سوار ہو کر جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان کی شرط قبول کر لی۔ جب وہ پہنچ گئے تو وہ آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر آئے اور نبی ﷺ نے انھیں قیمت ادا کر دی۔ جب وہ واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمھارے اس اونٹ کو لینے کی لالچ میں تم سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا تھا؟۔ اپنا اونٹ لے لو اور دراہم بھی۔ دونوں تمھارے ہیں۔ آپ ﷺ کے فضل و کرم اور آپ ﷺ کے اخلاق اور لطف و مہربانی کو دیکھا جائے تو یہ کوئی انوکھی بات محسوس نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں تو آپ ﷺ سے بہت سے بڑے بڑے واقعات منقول ہیں۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم قال: «ما مِنْ أحَدٍ يُسلِّمُ علي إلا ردَّ اللهُ عليَّ رُوحي حتى أردَّ عليه السَّلامَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔
رواه أبو داود وأحمددرجہإسناده حسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی روح آپ کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، تاکہ آپ کسی بھی سلام کرنے والے کو سلام کا جواب دے سکیں۔ خواہ وہ دور ہو یا نزدیک۔ یاد رہے کہ برزخ اور قبر کی زندگی کا تعلق عالم غیب سے ہے، جس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا، جو ہر چیز پر قادر ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنے کی ترغیب۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی برزخی زندگی کسی بھی انسان کو برزخ میں حاصل ہونے والی کامل ترین زندگی ہے۔ اس کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قبر کے اندر ہماری اس دنیوی حیات کی طرح مکمل طور سے باحیات ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ ورنہ اہل شرک اسے آپ سے فریاد کرنے کی دلیل بنا لیتے۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ اس وقت برزخی زندگی میں ہیں۔
حوالہ
سنن أبي داود (3/ 384) (2041).
مسند أحمد (16/ 477) (10815).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 486).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 477).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 964).
عن أنس قال: قال أبو طَلحَة لأم سليم: قد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفًا أعرف فيه الجُوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم، فَأَخْرَجَت أَقْرَاصًا من شَعير، ثم أَخَذْتْ خِمَارًا لها، فَلفَّت الخُبْزَ بِبَعْضِه، ثم دسَّتْهُ تحت ثوبي ورَدَّتني ببعضِه، ثم أرسَلَتني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَتُ به، فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسًا في المسجد، ومعه الناس، فَقُمتُ عليهم، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أرسلك أبو طلحة؟» فقلت: نعم، فقال: « أَلِطَعَام؟» فقلت: نعم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «قوموا» فانْطَلَقُوا وانطَلَقتُ بين أيديهم حتى جئت أبا طَلَحة فَأَخْبَرتُهُ، فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نُطعِمُهُم؟ فقالت: الله ورسوله أعلم. فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم معه حتى دخلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « هَلُمِّي ما عندك يا أم سليم» فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عليه أم سليم عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ، ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقول، ثم قال: «ائْذن لعشرة» فَأَذِنَ لَهُم فأكلوا حتى شَبِعُوا ثم خرجوا، ثم قال: «ائْذَن لعشرة» فأذن لهم حتى أكل القُوم كلُّهم وشَبِعُوا والقوم سبعون رجلا أو ثمانون. متفق عليه. وفي رواية: فما زال يَدخُل عشرة، ويخرج عشرة حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل، فأكل حتى شَبِع، ثم هَيَّأهَا فإذا هي مِثْلُهَا حين أكلوا منها. وفي رواية: فأكلوا عشرة عشرة، حتى فعل ذلك بثمانين رجلا، ثم أكل النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك وأهل البيت، وتركوا سُؤْرَا. وفي رواية: ثم أفْضَلُوا ما بَلَغُوا جِيرانهم. وفي رواية عن أنس، قال: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، فوجدته جالسا مع أصحابه، وقد عَصَبَ بَطنه، بِعُصَابة، فقلت لبعض أصحابه: لِم عَصَبَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بطنه؟ فقالوا: من الجُوع، فذهبت إلى أبي طلحة، وهو زوج أم سليم بنت مِلْحَان، فقلت: يا أبَتَاه، قد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عَصَبَ بطنه بِعِصَابَة، فسألت بعض أصحابه، فقالوا: من الجُوع. فدخل أبو طلَحَة على أمي، فقال: هل من شيء؟ قالت: نعم، عندي كِسَرٌ من خُبزٍ وتمرات، فإن جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وحده أشْبَعنَاه، وإن جاء آخر معه قَلَّ عنهم... وذكر تمام الحديث.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم (انس کی والدہ) سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ توکیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں ہے۔ یہ کہہ کر ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اس دوپٹے کا کچھ حصہ میرےاوپر لپیٹ دیا، اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ چنانچہ میں اسے لے کر گیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بيٹھے ہوئےپايا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ اور لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:”کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں! پھر دریافت کیا :”کيا کھانے کے ليے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے (تمام لوگوں سے) فرمایا کہ اٹھو۔ پس سب لوگ چل ديےاور ميں ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر خبر دی تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان (سب) کو کھلا سکیں۔ ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کےرسول بہتر جانتے ہیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکل کر چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“۔ ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے ان پر گھی کی کپّی نچوڑ دی جس نے ان کو سالن بنا دیا (یعنی وہ سالن کا کام دیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نےجو کچھ اللہ نے چاہا،اس میں پڑھا (یعنی خیر و برکت کی دعا کی) اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ ابو طلحہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔ (متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔ ايک اور روايت ميں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ميں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ کے پیٹ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ بھوک کی وجہ سے، تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جو کہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر تھےاور ان سے عرض کیا :اے ابا جان! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ ام سلیم نے کہا: جی ہاں، میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ ﷺ کو سیراب کر دیں گے اور اگر آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی آئے گا تو ان کے ليے کم پڑ جائے گا...پھر پوری حدیث ذکر کی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ آپ ﷺ سخت بھوک کی حالت ميں تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی کمزور آواز سن کر حالت سے باخبر ہوگئے۔ چنانچہ اپنی بيوی ام سلیم سے نبی ﷺ کے بارے ميں بتلايا اور پوچھا کہ كيا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ ام سليم رضی اللہ عنہا نے جواب ديا کہ ہاں، يعنى ہمارے پاس ايسی چيز ہے جس سے آپ ﷺ کی بھوک مٹ جائے گی،پھرجو کی روٹی کے چند ٹکڑے نکالے، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹ کر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے کے نيچے چھپاديا اورباقی دوپٹے کو ان کے اوپر بطور چادر ڈال ديا تاکہ ڈھک جائے۔ جب انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کو اپنے اصحاب کے درميان تشريف فرما پايا. پس میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ (وه كہتے ہيں) تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟"میں نے عرض کیا:جی ہاں! پھردریافت کیا :"کيا کھانے کے ليے؟" يعني کيا ابو طلحہ نےتم کو ہميں کھانے کي دعوت دينے کے ليے بھيجا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انس رضی اللہ عنہ آپ کو کھانا نہيں دے سکے کيونکہ کئی صحابہ آپ ﷺ کے پاس بيٹھے ہوئے تھےاور وہ آپ کی عادت مبارکہ سے واقف تھے کہ آپ اپنے آپ کو اپنے ساتھيوں پر ترجيح نہيں ديتے ہيں. اس ليے انس رضی اللہ عنہ کے ليے "ہاں" کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی دعوت کا اظہار کيا تاکہ ان کے ساتھ تنہا ابو طلحہ کے گھر چلے جائيں اور نبی ﷺ کو کھلانے کا مقصد حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس وقت آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو چلو. پس سب لوگ چل ديے۔ انس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے آگے آگے چلے۔ ايک روايت ميں ہے: ميں رسول ﷺ کے ساتھ آنے والے لوگوں کى كثرت سے غمزدہ تھا۔ انس کہتے ہيں: يہاں تک کہ ميں ابوطلحہ کے پاس پہنچا اورانهيں خبردار كيا. تو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ لوگوں کو لے کر تشريف لا رہے ہيں اور ہمارے پاس اتنا كهانا نہیں کہ ہم ان (سب ) کوکھلا سکیں۔ اس پرام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زيادہ جانتے ہيں۔ ام سليم رضی اللہ عنہا نے معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرديا، گويا ان کو معلوم ہو گيا تھا کہ آپ ﷺ نے ايسا جان بوجھ کر کيا ہے تاکہ کھانے کی زيادتی ميں آپ کی کرامت ظاہر ہو، يہ ان کی عقل مندی اور زيركى ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (استقبال کے ليے) گھر سے باہر نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں اندر داخل ہوئےتو رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ايک روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ كا استقبال کيا تو عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں،جسے ام سليم نے بنايا ہے۔ اور ايک روايت ميں ہے: ابوطلحہ نے کہا کہ صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں توآپ ﷺ نے فرمايا: ”يقينا اللہ اس ميں برکت دےگا“، ايک اور روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ميں نے انس کو صرف آپ کو بلانے کے ليے بھيجا تھا کيونکہ ہمارے پاس کوئی ايسی چيز نہيں ہے جو ان تمام حاضرين کو آسودہ کرسکے. تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”(گھر ميں) داخل ہو، جو کچھ تمہارے پاس ہے يقينا اللہ اس ميں برکت دے گا“۔جب رسول الله ﷺ ابو طلحه کے گھر ميں داخل هوئے تو فرمایا: ”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں کے توڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور ام سلیم نے کپّی میں سے گھی نچوڑا جو ان ٹکڑوں كے ليے سالن ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ اللہ نے چاہا، اس ميں پڑھا، يعنی آپ ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس تھوڑے سے کھانے ميں برکت نازل کر دے۔ ايک روايت ميں ہے: چنانچہ ميں اس کو لے کرآئی تو آپ ﷺ نےاس کے بندھن کو کھولا، پھر کہا: ”بسم الله اللهم أعْظِمْ فيها البركة“ (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ تواس ميں برکت كو زياده كردے) اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، ابو طلحہ نے اجازت دی۔ انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔(متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔
حوالہ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422ه.ـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مرفوعاً: انشقَّ القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فِلْقَتين، فستر الجبل فِلْقَة، وكانت فِلْقَة فوق الجبل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اللهمَّ اشهَدْ».
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو الگ الگ ٹکڑے ہوئے، ہر ٹکڑا اپنی الگ جگہ پر ہوگیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہ، یعنی اس بات پر کہ میں نے ان کو اپنی نوبت کے سچے ہونے پر دلیل دکھائی۔
حوالہ
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن – الرياض.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: جاء زيدُ بنُ حارثة يشكو، فجعل النبيُّ صلى الله عليه وسلم يقول: «اتَّقِ اللهَ، وأمسِكْ عليك زوجَك»، قال أنس: لو كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم كاتمًا شيئًا لكتم هذه، قال: فكانت زينبُ تَفْخرُ على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: زوَّجَكنَّ أهاليكنَّ، وزوَّجني اللهُ تعالى من فوق سبع سموات، وعن ثابت: {وتُخفي في نفسِك ما اللهُ مُبْدِيهِ وتخشى الناسَ} [الأحزاب: 37]، «نزلت في شأن زينبَ وزيد بن حارثة».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہيں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کی) شکایت لے کر (آپ ﷺکے پاس) آئے، تو نبی ﷺ ان سے فرمانےلگے: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر رسول اللہ ﷺ کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ وہ بیان کرتے ہیں: چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر اپنی فوقیت جتاتے ہوئے کہتی تھیں: تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی اور میری شادى اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔ ثابت رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے“۔ (الاحزاب: 37) زینب رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شكايت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپ ﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بذریعہ وحی اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ عنقریب آپ ﷺ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کریں گے۔ اللہ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع زید رضی اللہ عنہ کے طلاق دینے سے پہلے ہی دے دی تھی۔ جب زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس ان كی شکایت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: "اے زید! اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔" اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی اپنے اس فرمان کے ذریعہ سرزنش کی: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”(یاد کرو) جب کہ آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی کہ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ آپ اس سے ڈريں، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا“۔ (الاحزاب: 37)
آپ ﷺ جس بات کو چھپا رہے تھے وہ آپ ﷺ کا زینب رضی اللہ عنہ سے نکاح کو ناپسند کرنا تھا اس خوف سے کہ لوگ یہ باتیں کریں گے کہ آپ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی۔
”انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اگر رسول اللہ ﷺ كو کسی بات کو چھپانا ہوتا تو اس بات کو چھپاتے۔“ یعنی اگر بفرض محال جو شرعاً ممنوع ہےٍ، وحی کی کسی بات کو چھپايا گيا ہوتا تويہی آیت ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شرعاً ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس آیت میں غور و تامل کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے دل میں آنے والے لوگوں کے خوف کے بارے میں بتلا رہا ہے، اور اللہ نے جو فرمایا آپ ﷺ نے وہ سب کچھ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیا حالانکہ اس میں آپ ﷺ پر کی گئی سرزنش کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص کذاب ہوتا ہے وہ ہر اس بات سے گریز کرتا ہے جس میں اس پر کچھ ملامت کا پہلو ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ اور اس طرح کی دیگر قرآنی آیات اسی قبیل سے ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں”۔ زینب رضی اللہ عنہا اس بات کو بہت اہمیت دیتی تھیں کہ ان کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور یہ ان کےلیے بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اور یہ کہ اس فضیلت کے اعتبار سے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کوئی بھی ان کی ہم پلہ نہیں۔ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں: ”تمہارا نکاح تو تمہارے اہل خانہ نے کیا ہے جب کہ میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے۔“
حدیث کے اس قدر حصے میں اس بات کا ثبوت وبيان ہے کہ ایمان والوں کے نزدیک اللہ کی ذات بلند وبرتر ہے۔ یہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے نزدیک مسلمہ بات ہے ماسوا ان لوگوں کے جن کی فطرت ہی بگڑ چکی ہو۔ ہراس مسلمان کے نزدیک جس کی فطرت میں کجی نہ ہو، یہ سمعی و عقلی اور فطری اعتبار سے ثابت شدہ صفات میں سے ہے۔ زینب رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ: ”میرا نکاح اللہ نے کرایا“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا﴾ کے ذریعے ان سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح کرانے کی ذمہ داری اللہ نے لی۔
حوالہ
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبد الله بن محمد الغنيمان، الناشر: مكتبة الدار، المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1405 هـ.
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال: كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم، وإنا أَسْرَيْنا حتى كنا في آخر الليل، وَقَعْنا وَقْعَة، ولا وَقْعَة أحلى عند المسافر منها، فما أيقظنا إلا حَرُّ الشمس، وكان أول من استيقظ فلان، ثم فلان، ثم فلان، ثم عمر بن الخطاب، وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نام لم يوقظ حتى يكون هو يستيقظ، لأنا لا ندري ما يحدث له في نومه، فلما استيقظ عمر ورأى ما أصاب الناس وكان رجلا جليدا، فكبَّر ورفع صوته بالتكبير، فما زال يكبر ويرفع صوته بالتكبير حتى استيقظ بصوته النبي صلى الله عليه وسلم، فلما استيقظ شكوا إليه الذي أصابهم، قال: «لا ضير -أو لا يضير- ارتحلوا». فارتحل، فسار غير بعيد، ثم نزل فدعا بالوَضوء، فتوضأ، ونُودِيَ بالصلاة، فصلَّى بالناس، فلما انفتل من صلاته إذا هو برجل معتزل لم يُصَلِّ مع القوم، قال: «ما منعك يا فلان أن تصلي مع القوم؟». قال: أصابتني جنابة ولا ماء، قال: «عليك بالصعيد، فإنه يكفيك». ثم سار النبي صلى الله عليه وسلم، فاشتكى إليه الناس من العطش، فنزل فدعا فلانا، ودعا عَلِيًّا فقال: «اذهبا، فابتغيا الماء». فانطلقا، فتلقيا امرأة بين مزادتين -أو سطيحتين- من ماء على بعير لها، فقالا لها: أين الماء؟ قالت: عهدي بالماء أمسِ هذه الساعةَ، ونَفَرُنا خُلُوف. قالا لها: انطلقي. إذًا قالت: إلى أين؟ قالا: إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت: الذي يقال له: الصابئ؟ قالا: هو الذي تَعْنين، فانطلقي، فجاءا بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وحدثاه الحديث، قال: فاستَنْزَلوها عن بعيرها، ودعا النبي صلى الله عليه وسلم بإناء، ففرَّغ فيه من أفواه المزادتين -أو سطيحتين- وأَوْكَأ أفواههما وأطلق العَزَالِيَ، ونودي في الناس: اسقوا واستقوا، فسقى مَن شاء واستقى مَن شاء، وكان آخر ذاك أن أعطى الذي أصابته الجنابة إناء من ماء، قال: «اذهب فأفرغه عليك». وهي قائمة تنظر إلى ما يُفْعَل بمائها، وايمُ الله لقد أقلع عنها، وإنه ليُخَيَّل إلينا أنها أشد مَلَأَة منها حين ابتدأ فيها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اجمعوا لها». فجمعوا لها من بين عَجْوة ودقيقة وسويقة حتى جمعوا لها طعاما، فجعلوها في ثوب وحملوها على بعيرها، ووضعوا الثوب بين يديها، قال لها: «تعلمين، ما رزئنا من مائك شيئا، ولكنَّ الله هو الذي أسقانا». فأتت أهلها وقد احتبست عنهم، قالوا: ما حبسك يا فلانة؟ قالت: العجب، لقيني رجلان، فذهبا بي إلى هذا الذي يقال له الصابئ، ففعل كذا وكذا، فوالله إنه لأسحر الناس من بين هذه وهذه، وقالت بإصبعيها الوسطى والسبابة، فرفعتهما إلى السماء –تعني: السماء والأرض- أو إنه لرسول الله حقا، فكان المسلمون بعد ذلك يَغِيرون على من حولها من المشركين، ولا يصيبون الصِّرْم الذي هي منه، فقالت يوما لقومها: ما أرى أن هؤلاء القوم يدعونكم عمدا، فهل لكم في الإسلام؟ فأطاعوها، فدخلوا في الإسلام.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے ) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور جب نبی کریم ﷺ آرام فرماتے تو ہم آپ کو جگاتے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ خود بخود بیدار ہوں کیوں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ پر خواب میں کیا تازہ وحی آتی ہے۔ جب حضرت عمر جاگ گیے اور یہ آمدہ آفت دیکھی اور وہ ایک نڈر آدمی تھے، وہ زور زور سے تکبیر کہنے لگے۔ اسی طرح با آواز بلند، آپ اس وقت تک تکبیر کہتے رہے جب تک کہ نبی کریم ﷺ ان کی آواز سے بیدار نہ ہو گیے۔ تو لوگوں نے پیش آمدہ مصیبت کے متعلق آپ ﷺ سے شکایت کی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ:کوئی حرج نہیں۔ سفر شروع کرو۔ پھر آپ تھوڑی دور چلے، اس کے بعد آپ ٹھہر گیے اور وضو کا پانی طلب فرمایا اور وضو کیا اور اذان کہی گئی۔پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ نماز پڑھانے سے فارغ ہوئے تو ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی جو الگ کنارے پر کھڑا ہوا تھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ: اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہونے سے کون سی چیز نے روکا؟۔ اس نے جواب دیا کہ: مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: تم مٹی کے ذریعے(تیمم) کرلیتے یہ تمہارے لیے کافی ہوتا۔۔ پھر نبی کریم ﷺ نے سفر شروع کیا تو لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ ٹھہر گیے اور فلاں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی طلب فرمایا۔ ان دونوں سے آپ نے فرمایا کہ جاؤ پانی تلاش کرو۔ یہ دونوں نکلے۔ راستہ میں ایک عورت ملی جو پانی کی دو مشکیزے اپنے اونٹ پر لٹکائے ہوئے بیچ میں سوار ہو کر جا رہی تھی۔ انھوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ کل اسی وقت میں پانی پر موجود تھی ( یعنی پانی اتنی دور ہے کہ کل میں اسی وقت وہاں سے پانی لے کر چلی تھی آج یہاں پہنچی ہوں ) اور ہمارے قبیلہ کے مرد لوگ پیچھے رہ گیے ہیں۔ انھوں نے اس سے کہا۔ اچھا ہمارے ساتھ چلو۔ اس نے پوچھا، کہاں چلوں؟ انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں۔ اس نے کہا، اچھا وہی جن کو لوگ صابی کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا، یہ وہی ہے، جسے تم کہہ رہی ہو۔اچھا اب چلو۔ آخر یہ دونوں حضرات اس عورت کو آپ ﷺ کی خدمت مبارک میں لائے۔ اور سارا واقعہ بیان کیا۔ عمران نے کہا کہ لوگوں نے اسے اونٹ سے اتار لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک برتن طلب فرمایا۔ اور دونوں مشکیزوں کے منہ اس برتن میں کھول دیے ، پھر ان کا اوپر کا منہ بند کر دیا۔ اس کے بعد نیچے کا منہ کھول دیا اور تمام لشکریوں میں منادی کر دی گئی کہ خود بھی سیر ہو کر پانی پئیں اور اپنے تمام جانوروں وغیرہ کو پلا لیں۔ پس جس نے چاہا پانی پیا اور پلایا (اور سب سیر ہو گیے) آخر میں اس شخص کو بھی ایک برتن میں پانی دیا جسے غسل کی ضرورت تھی۔ آپ نے فرمایا، لے جاؤ اور غسل کر لو۔ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی سے کیا کیا کام لیے جا رہے ہیں اور اللہ کی قسم! جب پانی لیا جانا ان سے بند ہوا، تو ہم دیکھ رہے تھے کہ اب مشکیزوں میں پانی پہلے سے بھی زیادہ موجود تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کچھ اس کے لیے (کھانے کی چیز ) جمع کرو۔ لوگوں نے اس کے لیے عمدہ قسم کی کھجور ( عجوہ ) آٹا اور ستو اکٹھا کیا یہاں تک کہ بہت سارا کھانا اس کے لیے جمع ہو گیا۔ تو اسے لوگوں نے ایک کپڑے میں رکھا اور عورت کو اونٹ پر سوار کر کے اس کے سامنے وہ کپڑا رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا۔پھر وہ اپنے گھر آئی، دیر کافی ہو چکی تھی اس لیے گھر والوں نے پوچھا کہ اے فلانی! کیوں اتنی دیر ہوئی؟ اس نے کہا، ایک عجیب بات ہوئی وہ یہ کہ مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گیے جسے لوگ صابی کہتے ہیں۔ وہاں اس طرح کا واقعہ پیش آیا، اللہ کی قسم! وہ تو اس کے اور اس کے درمیان سب سے بڑا جادوگر ہے اور اس نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اشارہ کیا۔ اس کی مراد آسمان اور زمین سے تھی۔ یا پھر وہ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ اس کے بعد مسلمان اس قبیلہ کے دور و نزدیک کے مشرکین پر حملے کیا کرتے تھے۔ لیکن اس گھرانے کو جس سے اس عورت کا تعلق تھا کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہ اچھا برتاؤ دیکھ کر ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ تمہیں جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ تو کیا تمہیں اسلام کی طرف کچھ رغبت ہے؟ قوم نے عورت کی بات مان لی اور اسلام لے آئی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں چند ایسے احکام اورمعجزات بیان کیے گیے ہیں جو صحابہ کے سامنے ظاہر ہوئے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ صحابہ کرام ایک سفر پر تھے کہ ان پر نیند غالب آ گئی اور نمازِ فجر کا وقت نکل گیا۔ایسی حالت میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کو جو چیزبتائی تھی وہ یہی تھی کہ قضاء نماز کو ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
اور دوسرا معاملہ یہ تھا کہ صحابہ میں سے کوئی جنبی بھی ہو گیا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو تیمم کا حکم دیا۔ تو اس سے یہ پتہ چلا کہ پانی کی غیر موجودگی میں تیمم غسل سے کفایت کر جاتا ہے۔
تیسرا معاملہ: آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا، ہوا یہ کہ لوگوں نے آپﷺ کے سامنے پیاس اور پانی کی غیر موجودگی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے بھیجا لیکن انہیں کہیں سے بھی پانی نہ ملا۔ انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے تو وہ اس کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے۔ آپﷺ نے اس سے ایک مشکیزہ پکڑا،اوراللہ تعالیٰ سے دعا کی یہاں تک کہ پانی بہہ پڑا، صحابہ نے خود بھی پانی پیا ،اپنے جانوروں کو بھی پلایا یہاں تک کہ جو شخص جنبی تھا اس نے بھی پانی لیا اورغسل کیا۔ اس عورت نے اپنا مشکیزہ پکڑا اوریہ کہنے لگی کہ یہ تو ویسے کا ویسے ہی بھرا ہے جیسے پہلے بھرا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے کھانے پینے کا سامان اکٹھا کروا کر بطور محنتانہ بھی دیا جس کی وجہ سے آگے چل کر وہ خود بھی مسلمان ہو گئی اور اس کا پورا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔
حوالہ
صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم الجعفي البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر - الناشر: دار طوق النجاة - الطبعة: الأولى 1422هـ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة، 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي.
صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري؛ تأليف بدر الدين العيني الحنفي، طبعة إحياء التراث العربي، بيروت، بدون تاريخ.
عن بريدة رضي الله عنه قال: «إنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم تَفَلَ في رِجْل عمرو بن مُعاذ حِين قُطِعتْ رِجْلُه، فبَرأَ».
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پاوں میں تھوک لگا دیا اور وہ ٹھیک ہو گئے۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جب سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا پاک لعاب دہن لگا دیا اور اللہ کے حکم سے وہ ٹھیک ہو گئے۔ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک واضح معجزہ تھا۔
حوالہ
- الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ البُستي، ترتيب: الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي، حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى، 1408 هـ - 1988 م.
- سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف.
- معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.
- معرفة الصحابة, أبو نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني, تحقيق: عادل بن يوسف العزازي, دار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة: الأولى 1419 هـ - 1998 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com