اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو زید بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کے دعا کے الفاظ تھے: "اللهم جمِّله، وأدِم جماله" یعنی اے اللہ! اسے خوب صورت بنا اور اس کی خوب صورتی کو تا عمر قائم رکھ۔ اس حدیث کے ایک راوی عزرہ کا کہنا ہے کہ ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اتنی لمبی عمر کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس میں نہ جھریاں تھیں، نہ سکڑاو۔,ان کے چہرے کى یہ حالت ت ان کی وفات تک باقی رہی۔ دراصل یہ سب کچھ ان کے لئے نبی ضلى اللہ علیہ وسلم کی دعا اور ان کے چہرے پر آپ کے ہاتھ پھیرنے کی برکت کے نتیجے میں تھا۔
- سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - صحيح وضعيف سنن الترمذي, محمد ناصر الدين الألباني، برنامج منظومة التحقيقات الحديثية، من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية. - تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي, أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى, دار الكتب العلمية – بيروت. - الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ومعه بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني, أحمد بن عبد الرحمن بن محمد البنا الساعاتي, دار إحياء التراث العربي, الطبعة: الثانية.