یہ سنت ہے کہ آدمی اگر کسی ثیبہ کی موجودگی میں کسی کنواری سے شادی کرے، تو اس سے انس والفت پیدا کرنے اور اس کے خوف و گھبراہٹ اور شرم کو دور کرنے کے لیے سات رات تک اس کے ساتھ رہے؛ کیوںکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے بعد پھر اپنی سب بیویوں کے مابین يکساں طور پر باریاں مقرر کرے۔ اور اگر شوہر دیدہ خاتون سے شادی کرے، تو پھر اس کے ہاں تین رات تک قیام کرے؛ کیوںکہ پہلی کی بہ نسبت اسے اس کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ یہ راہ نمائی اس حدیث میں آئی ہے، جو مرفوع حدیث کے حکم میں ہے؛ کیوںکہ راوی جب کہیں کہ ”یہ سنت ہے“ تو اس سے ان کی مراد نبی ﷺ کی سنت ہی ہوتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر میں چاہتا تو کہہ سکتا تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے نقل کی ہے، اس لیے کہ یہ حدیث میرے نزدیک مرفوع کے حکم میں ہے کیوں کہ یہ حدیث میرے پاس ”مِنَ السُّنَّۃ“ (یہ سنت ہے) کے الفاظ کے ساتھ منقول ہے جو کہ نبیﷺ کی طرف منسوب کرنے کے صریح الفاظ ہیں۔ حدیثِ مرفوع سے مراد وہ حدیث ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف ہو۔ مثال کے طور پر راوی کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.