عن أبي علي طلق بن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا دعا الرجل زوجته لحاجته فَلْتَأتِهِ وإن كانت على التَّنُور».
ابو علی طلق بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیے اگرچہ وہ تنّور (روٹی وغیرہ پکانے کی بھٹی) پر ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لیے بلائے تو اس پر یہ واجب ہے کہ اس کی بات کو قبول کرے اگرچہ وہ ایسے کام میں مشغول ہو کہ اس کے علاوہ وہ کام کوئی نہ کر سکے، جیسے کہ وہ روٹی، یا کھانا پکا رہی ہو۔
حوالہ
سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م.
صحيح الجامع الصغير وزبادته, تأليف: أبو عبدالرحمن محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: المكتب الإسلامي.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح, تأليف: علي بن سلطان القاري, الناشر: دار الفكر, ط1 عام 1422.
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي, تأليف: أبو العلا محمد عبدالرحمن المباركفوري, الناشر: دار الكتب العلمية.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
تحفة الأبرار شرح مصابيح السنة, تأليف: القاضي ناصر الدين عبدالله البيضاوي, تحقيق: لجنة مختصة بإشراف نور الدين طالب, الناشر: وزارة الأوقاف بالكويت, عام 1433.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ دراصل حسن اخلاق کا مظاہرہ مسکرا کر ملنے، دوسروں کا بھلا کرنے، خوش کلامی کرنے اور کسی کو تکلیف نہ دینے سے ہوتا ہے۔
اسی طرح سب سے بہتر مؤمن وہ ہے جو اپنی عورتوں، مثلا بیوی، بیٹیوں، بہنوں اور دیگر رشتے دار عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔ کیوں کہ یہ عورتیں حسن اخلاق کی سب سے زیادہ حق دار ہیں۔
فوائد
اچھے اخلاق کی فضیلت اور ان کا ایمان کا حصہ ہونا۔
عمل بھی ایمان میں داخل ہے اور ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔
اسلام نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا ہے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 70) (4682).
سنن الترمذي (2/ 454) (1162).
مسند أحمد ط الرسالة (12/ 364) (7402).
سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، للألباني (1/ 573).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 362).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 130).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 234).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛ چنانچہ لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کى ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمے دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس طرح تم میں سے ہر شخص ذمے دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سماج میں رہنے والے ہر مسلمان کی کچھ ذمے داریاں ہيں، جو اسے اٹھانی ہی ہوں گی۔ امام اور امیر اپنے ماتحت لوگوں کا ذمے دار ہے۔ اس کا کام ان کے دين وشريعت کی حفاظت کرنا، ظالموں سے ان کی حفاظت کرنا، ان کے دشمنوں سے جہاد کرنا اور ان کے حقوق کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہر شخص اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے، ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے، ان کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ادب سکھانے کا مکلف ہے۔ ایک عورت پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو اچھے سے سنبھالے اور بچوں کی بہتر تربیت کرے۔ خادم اور مزدور پر یہ ذمے دار عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اپنے آقا کے مال کی حفاظت کرے اور اس کی خدمت کرے۔ اس طرح ہر شخص اپنے ماتحت موجود لوگوں اور چیزوں کا ذمے دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پرسش ہوگی۔
فوائد
مسلم سماج کے ہر فرد پر اس کی طاقت اور بساط کے مطابق ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
عورت کے سر پر بڑی ذمے داری ہے۔ اسے اپنے شوہر کا گھر بھی سنبھالنا ہے اور بچوں کے تئیں اپنی ذمے داریاں بھی ادا کرنی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 150) (2554).
صحيح مسلم (3/ 1459) (1829).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 369).
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، القسطلاني (4/ 326).
ایاس بن عبد اللہ بن ابی ذباب - رضی اللہ عنہ - روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی باندیوں (یعنی اپنی بیویوں) کو نہ مارو۔ پھر اس حکم کے کچھ دنوں بعد عمر- رضی اللہ عنہ - رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہو گئیں ہیں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو مارنے کی اجازت عطا فرما دی۔ اس کے بعد بہت سی عورتیں رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس جمع ہوئیں اور اپنے خاوندوں کی شکایت کیں کہ وہ ان کو مارتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کی بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں۔ ایسے لوگ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے بیویوں کو مارنے سے منع فرمایا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں اور نافرمانی کرنے لگی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں ہلکا سا مارنے کی رخصت دے دی بشرطیکہ کہ کوئی وجہ پائی جائے جیسے نافرمانی وغیرہ۔ اگلے دن عورتیں نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس آ گئیں اورانہوں نے اپنے شوہروں کی شکایت کی کہ وہ سختی کے ساتھ مارتے ہیں اور رخصت کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ مرد جو اپنی عورتوں کو تیز مارتے ہیں وہ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مارنے کو نافرمانی کے علاج کے مراحل میں سے آخری مرحلہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ ”اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو“۔
ان تینوں طریقوں کا ذکر ترتیب بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ اس لیے کہ سب کو ایک ہی وقت میں بروئے کار لایا جائے۔ چنانچہ مرد پہلے سمجھائے بجھائے اور نصیحت کرے اگر اس سے کچھ فائدہ ہو تو الحمد للہ اور اگر یہ سود مند نہ ہو تو پھر اسے اس کے بستر میں تنہا چھوڑ دے (اُس کے ساتھ نہ سوئے)، اگر یہ بات بھی کار گر نہ ہو تو پھر اس کی تادیب کے لیے اسے (دھیرے سے) مارے نہ کہ انتقام لینے کے لیے۔
حوالہ
سنن أبي داود (3/ 479) (2146).
سنن ابن ماجه (3/ 152) (1985).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 363).
مرقاة المفاتيح، لعلي القاري (5/ 2127).
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تؤذي امرأةٌ زوجَها في الدنيا إلا قالت زوجته من الحُورِ العِينِ لا تُؤْذِيهِ قاتلك الله! فإنما هو عندك دَخِيلٌ يُوشِكُ أن يفارقَكِ إلينا».
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف پہنچاتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے جو عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبیﷺ فرما رہے ہیں کہ جنت کی حور اس بیوی سے کہتی ہے جو دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے کہ یہ شوہر تو دنیا میں مہمان ہے اور عنقریب وہ آخرت کی طرف چل دے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا اور آخرت کی عورتوں (حوروں) کے حصے میں آجائے گا۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- مرقاة المفاتيح :علي بن سلطان القاري -دار الفكر، بيروت – لبنان الطبعة -الأولى، 1422هـ - 2002م.
- سنن الترمذي - محمد بن عيسى ، الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر-الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
- سنن ابن ماجه : أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي- دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها/محمد ناصر الدين، الألباني مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض-الطبعة: الأولى، (مكتبة المعارف).
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لو كنت آمِرًا أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا) کسی اور کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگرآپ ﷺ کسی کو کسی اور کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتے تو بیوی کو حکم دیتے کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے کیوں کہ بیوی پر اس کا جو حق ہے اس کی وجہ سے وہ تعظیم کا مستحق ہے۔ لیکن غیر اللہ کے لیے سجدہ کرنا حرام ہے اور بالکل بھی جائز نہیں۔
حوالہ
الجامع الكبير (سنن الترمذي), تأليف: محمد بن عيسى الترمذي, تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر - الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل, تأليف: محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: المكتب الإسلامي, ط2 عام 1405.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح, تأليف: علي بن سلطان القاري, الناشر: دار الفكر, ط1 عام 1422.
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : «ذُكِرَ َالعزل لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ولم يفعل ذلك أحدكم؟ -ولم يقل: فلا يفعل ذلك أحدكم؟-؛ فإنه ليست نفس مخلوقة إلا الله خالقها».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر ہوا کہ بعض لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے ساتھ عزل کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے استفہامِ انکاری کے طور پر ان سے اس کے کرنے کا سبب دریافت کیا۔
پھر آپ ﷺ نے انہیں اس کام کے کرنے کی وجہ سے باخبر کیا ایک اطمئنان بخش جواب کی شکل میں جس میں انہیں اس سے روکا گیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اندازے سے مقرر کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے اس طرح کرنے سے وہ انسان رُک نہیں سکتا جس کی تخلیق اور وجود بخشنا اللہ نے لکھ رکھا ہے، وہ اسباب اور مسببات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کی منی سے نطفے کو پیدا کرنا چاہے تو لاشعوری طور پر اس کو اپنی مقرر جگہ لے جاتا ہے۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: "كنا نعزل والقرآن ينزل".
قال سفيان: لو كان شيئا ينهى عنه؛ لنهانا عنه القرآن.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نزول قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے“۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابلِ ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عزل کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ انہیں اس سے منع نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اگر ایسا کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں ایسا نہ کرنے دیتے۔
گویا کہ ان سے کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کے اس عمل کی خبر آپ ﷺ تک نہ پہنچی ہو؟ (اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔)
اس پر انہوں نے کہا کہ: اگر نبی ﷺ تک اس بات کی خبر نہیں پہنچی تو اللہ تبارک و تعالی تو اسے جانتا تھا۔ قرآن بھی نازل ہو رہا تھا۔ اگر یہ کوئی ممنوع عمل ہوتا تو قرآن اس سے منع کر دیتا اور اللہ تعالی ہمیں اس عمل کو جاری نہ رکھنے دیتا۔
نصوص کے مابین باہم موافقت کا طریقہ کار:
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث عزل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے تاہم ایسی احادیث بھی آئی ہیں جن سے عزل کے عدم جواز کا علم ہوتا ہے۔ مثلا صحیح مسلم میں جذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھیں۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے حکم کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو پوشیدہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ ان (بظاہر متعارض) نصوص کے مابین مطابقت کیسے پیدا کی جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ عزل کی اجازت ہے جیسا کہ جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث میں آیا ہے۔جب کہ جذامہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب عزل سے مقصد بچوں سے احتراز ہو۔ اسی معنی پر آپ ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ ”یہ تو پوشیدہ طورپر زندہ گاڑنا ہے“۔
یا پھر یہ کہا جائے گا کہ عزل کرنا مکروہ ہے نہ کہ حرام ۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية، 1392ه.
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق، مكتبة الصحابة، الشارقة، الطبعة العاشرة، 1426ه.
- خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي، الطبعة الثانية، 1412هـ - 1992م.
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله الفوزان - طبعة دار ابن الجوزي - الطبعة الأولى، 1428ه.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
- فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى، 1427ه.
- الإفهام في شرح عمدة الأحكام، عبد العزيز بن عبد الله بن باز، حققه واعتنى به وخرج أحاديثه: د. سعيد بن علي بن وهف القحطاني- توزيع مؤسسة الجريسي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com