اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں، تو آپ نے جواب میں چند چیزوں کا ذکر کیا۔ جیسے: 1- اسے چھوڑ کر خود نہ کھاؤ۔ جب جب کھاؤ، اسے بھی کھلاؤ۔ 2- اسے چھوڑ کر خود نہ پہنو۔ جب خود پہنو، کماؤ اور استطاعت رکھو، تو اسے بھی پہناؤ۔ 3- بلاسبب اور بلا ضرورت نہ مارو۔ تادیب کے لیے یا کوئی فریضہ ترک کرنے پر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے، لیکن وہ بھی اذیت ناک نہ ہو اور چہرے پر نہ مارا جائے۔ کیوں کہ چہرہ جسم کا عظیم ترین، سب سے زیادہ دِکھنے والا اور کئی معزز اور نازک اعضا پر مشتمل حصہ ہے۔ 4۔ گالی گلوج مت کرو۔ یہ مت کہو کہ اللہ تیرے چہرے کو بد نما بنا دے۔ کوئی ایسی بد دعا نہ کرو، جس میں چہرے یا جسم کے کسی حصے کو بدنما بنانے کی بات ہو۔ کیوں کہ انسان کے جسم اور چہرے کو اللہ نے بنایا ہے اور بہتر شکل و صورت عطا کی ہے جبکہ بناوٹ کی مذمت بنانے والے (خالق) کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ 5- اس سے علاحدگی اختیار کرنا ضروری ہو، تو بس بستر الگ کر دو۔ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے گھر میں مت جاؤ اور نہ اسے دوسرے گھر میں بھیجو۔ کیوں کہ میاں بیوی کے درمیان ایسی لا تعلقی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے۔
- صحابہ کی کوشش یہ جاننے کی ہوتی تھی کہ ان پر دوسروں کے کیا حقوق ہیں اور دوسروں پر ان کے کیا حقوق ہیں۔
- شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ بیوی کے نان و نفقے، کپڑے اور مکان کا انتظام کرے۔
- معنوی اور حسی دونوں طرح سے بد صورت بنانا منع ہے۔
- کسی سے یہ کہنا منع ہے کہ تم ایک گھٹیا قبیلے یا گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتے ہو یا اس جیسی کوئی اور بات۔
سنن أبي داود (3/ 476) (2142). سنن ابن ماجه (3/ 56) (1850). مسند أحمد (33/ 213) (20011). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 184). سبل السلام، للصنعاني (2/ 322). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (6/ 44). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص204). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 169). التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ، للأمير الصنعاني (5/ 369).