نکاح سے شریعت کا مقصد اجتماعیت، دائمی بقا، محبت اور خاندان کی تعمیر و ترقی ہے۔ اسی لیے نکاح کی بعض صورتیں جو شریعت میں مقصدِ نکاح کے خلاف ہیں ان کو حرام قرار دیا گیا ہے۔بنابریں آپ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نکاحِ متعۃ کو حرام کردیا۔ نکاحِ متعۃ یہ ہے کہ کوئی مرد کسی عورت سے ایک خاص وقت تک کے لیے شادی کرے۔ شروعِ اسلام میں یہ ضرورت کے پیشِ نظر جائز تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان گدھوں کو کھانے سے بھی منع فرمایا جس کے مالک ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی طرف رجوع کرتے ہیں، برخلاف وحشی گدھوں کے کہ ان کو کھانا جائز ہے۔
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.