عقدِ نکاح میں اصل تو یہی ہے کہ یہ عورت کو دیے جانے والے حق مہر کے ساتھ پورا ہوتا ہے جو اس کے نفس کے عوض کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے جاہلیت کے اس نکاح سے منع فرمایا جس کے ذریعے اولیاء اپنے زیر پرورش اور زیر نگرانی موجود لڑکیوں پر ظلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ بغیر کسی ایسے مہر کے ان کا نکاح کر دیتے جس کا فائدہ انہیں پہنچتا۔ وہ تو اپنی رغبت اور خواہش کے تقاضے کے مطابق انہیں استعمال کرتے ہوئے اس شرط پر انہیں ان کے شوہروں کے حوالے کر دیتے کہ وہ اپنی زیر پرورش موجود لڑکیوں کا بغیر مہر کے ان کے ساتھ نکاح کر دیں گے۔ یہ ظلم ہے اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف ان کی شرمگاہوں میں تصرف ہے۔ اور اس طرح کا کوئی بھی معاملہ حرام اور باطل ہوا کرتا ہے۔
-صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. -خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي - الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.