سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نکاح کی حرام صورتیں

3 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشِّغَارِ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عقدِ نکاح میں اصل تو یہی ہے کہ یہ عورت کو دیے جانے والے حق مہر کے ساتھ پورا ہوتا ہے جو اس کے نفس کے عوض کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے جاہلیت کے اس نکاح سے منع فرمایا جس کے ذریعے اولیاء اپنے زیر پرورش اور زیر نگرانی موجود لڑکیوں پر ظلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ بغیر کسی ایسے مہر کے ان کا نکاح کر دیتے جس کا فائدہ انہیں پہنچتا۔ وہ تو اپنی رغبت اور خواہش کے تقاضے کے مطابق انہیں استعمال کرتے ہوئے اس شرط پر انہیں ان کے شوہروں کے حوالے کر دیتے کہ وہ اپنی زیر پرورش موجود لڑکیوں کا بغیر مہر کے ان کے ساتھ نکاح کر دیں گے۔ یہ ظلم ہے اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف ان کی شرمگاہوں میں تصرف ہے۔ اور اس طرح کا کوئی بھی معاملہ حرام اور باطل ہوا کرتا ہے۔

حوالہ

-صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. -خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي - الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه «أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن نكاح المتعة يوم خيبر، وعن لحوم الحُمُرِ الأهلية».
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نکاح سے شریعت کا مقصد اجتماعیت، دائمی بقا، محبت اور خاندان کی تعمیر و ترقی ہے۔ اسی لیے نکاح کی بعض صورتیں جو شریعت میں مقصدِ نکاح کے خلاف ہیں ان کو حرام قرار دیا گیا ہے۔بنابریں آپ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نکاحِ متعۃ کو حرام کردیا۔ نکاحِ متعۃ یہ ہے کہ کوئی مرد کسی عورت سے ایک خاص وقت تک کے لیے شادی کرے۔ شروعِ اسلام میں یہ ضرورت کے پیشِ نظر جائز تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان گدھوں کو کھانے سے بھی منع فرمایا جس کے مالک ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی طرف رجوع کرتے ہیں، برخلاف وحشی گدھوں کے کہ ان کو کھانا جائز ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔

عن إياس بن سلمة، عن أبيه، قال: «رَخَّصَ رسول الله صلى الله عليه وسلم عَامَ أَوْطَاسٍ، في المُتْعَة ثلاثا، ثم نَهَى عنها».
ایاس بن سلمہ اپنے والد سلمہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

شارع نے اجتماع و ہمیشگی، الفت و محبت اور خاندان بنانے کی غرض سے نکاح کو مسنون قرار دیا ہے۔ اس لیے ہر وہ غرض و شرط جو نکاح کی اس حکمت کے خلاف ہو، باطل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نکاحِ متعہ حرام ہے۔ نکاح متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے شادی کرے۔ اس سلسلے میں غزوۂ اوطاس کے سال رخصت دی گئی۔ یہ شوال آٹھ ہجری میں پیش آیا اور ضرورت کے تحت صرف تین دن کی اجازت دی گئی۔ پھر نبی ﷺ نے ہمیشہ کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔ کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد و خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلا نسبوں کا اختلاط، شرم گاہوں کو کرایے پر لینا اور ذوقِ سلیم اور طبیعت مستقیمہ کے لیے اذیت ناکی۔

حوالہ

صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث، الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427هـ - 1431هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com