سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قربانی

5 احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔

عَنْ أَنَسٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عیدالاضحی کے دن سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور فرمایا: اللہ کے نام سے ذبح کر رہا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ ذبح کرتے وقت آپ نے اپنا پاؤں مینڈھے کی گردن پر رکھ دیا۔

فوائد
  1. قربانی کرنے کى مشروعیت۔ اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے۔
  2. بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور اسی طرح کا ہو، جس طرح کا جانور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذبح کیا۔ کیوں کہ یہ دیکھنے میں اچھا ہوتا ہے، اس میں چربی ہوا کرتی ہے اور اس کا گوشت بڑا لذیذ ہوا کرتا ہے۔
  3. نووی کہتے ہيں: اس حدیث کی روشنی میں اپنی قربانی کا جانور کسی اور سے ذبح کروانے کے بجائے خود اپنے ہی ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے۔ البتہ کوئی عذر ہو، تو بات الگ ہے۔ لیکن اس وقت بھی خود موجود رہنا چاہیے۔ لیکن بلا اختلاف کسی دوسرے مسلمان سے ذبح کرانا بھی جائز ہے۔
  4. ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ کہنے کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کہنا اور جانور کی گردن کے دائيں حصے پر اپنا پاؤں رکھنا مستحب ہے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جانور کو بائيں پہلو کے بل لٹاکر اس کے دائيں پہلو پر پاؤں رکھ دیا جائے گا، تاکہ ذبح کرنے والے کو دائيں ہاتھ سے چھری پکڑنے اور بائيں ہاتھ سے گردن کو پکڑے رہنے میں آسانی ہو۔
  5. سینگ والے جانور کی قربانی مستحب ہے۔ بغیر سینگ والے جانور کی بھی قربانی جائز ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 102) (5565). صحيح مسلم (3/ 1556) (1966). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص724). الإعلام بفوائد عمدة الأحكام، لابن الملقن (10/ 179).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کردیا، وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔

عن جُنْدُب بن عَبْدِ الله البجَليِّ رضي الله عنه قال: «صلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم النَّحر، ثم خطب، ثم ذبح، وقال: من ذبح قبل أن يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخرى مكانها، ومن لم يذبح فَلْيَذْبَحْ باسم الله».
جندب بن عبدالله بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کردیا، وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریمﷺ نے قربانی کے دن کی ابتدا نماز سے کی، پھر دوسرے نمبر پر خطبہ دیا اور تیسرے نمبر پر ذبح کیا۔ آپ جب نماز کے لیے نکلتے تو شعائر اسلام کے اظہار، نفع کوعام کرنے اور امت کی تعلیم و تربیت کی غرض سے اپنی قربانی کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔ آپ نے قربانی کے احکام و شروط سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوگی، اسے اس کی جگہ پر دوسرا جانور ذبح کرنا پڑے گا۔ جس نےذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کے نام سے ذبح کرے، تاکہ وہ ذبح درست ہو اور ذبیحہ حلال ہو۔ مشروع ترتیب یہی ہے، جو اس کے خلاف کرے گا، اس کا عمل درست نہیں ہوگا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ذبح کا وقت نماز عید کے اختتام سے شروع ہو گا، نماز کا وقت شروع ہونے اور امام کے قربانی کرنے سے نہیں، سوائے اس شخص کے جس پر نماز عید واجب نہیں جیسے کہ مسافر وغیرہ

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. العمدة في الأحكام، عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي الجماعيلي، تحقيق: سمير بن أمين الزهيري، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1419هـ، 1998م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی۔

عن البَرَاء بن عَازب رضي الله عنهما قال: «خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد الصلاة، فقال: من صلى صلاتنا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فقد أصاب النُّسُكَ، ومن نسك قبل الصلاة فلا نُسُك له. فقال أبو بُرْدَةَ بن نِيَار -خال البَرَاء بن عَازبٍ-: يا رسول الله، إني نسكت شاتي قبل الصلاة، وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب، وأحببت أن تكون شاتي أول ما يذبح في بيتي، فذبحت شاتي، وتغديت قبل أن آتي الصلاة. فقال: شاتك شاة لحم. قال: يا رسول الله، فإن عندنا عَنَاقًا لنا هي أحب إلي من شاتين؛ أَفَتَجْزِي عني؟ قال: نعم، ولن تَجْزِيَ عن أحد بعدك».
براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی“۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی، میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے، میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز میں آنے سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمھاری بکری محض گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! لیکن تمھارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد خطبہ دیا اور صحابۂ کرام کے روبرو قربانی اور اس کے وقت سے متعلق احکام واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اس نماز کی طرح نماز ادا کی اور اس قربانی کی طرح اپنی قربانی کی، جس کے بارے میں نبی ﷺ کی ہدایت و رہ نمائی موجود ہے، اس نے شرعی اعتبار سے اپنی قربانی کی۔ البتہ جس نے عید کی نماز سے قبل قربانی کی، اس نے قربانی کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی اپنی قربانی ذبح کر دی۔ چنانچہ اس کی حیثیت محض کھائے جانے والے گوشت کی ہوگی اور اس کا شمار مشروع اور مقبول قربانی میں نہ ہوگا۔ جب ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا، تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے قبل ہی اپنی بکری کی قربانی کردی اور مجھے یہ بات سجھائی دی کہ چوں کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میرے نزدیک یہ امر بھی بہت عزیز تھا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری قربان کی جائے،اس لیے میں نے اپنی بکری کی قربانی کردی اور نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی میں نےاپنا ناشتہ بھی کرلیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شرعی اعتبار سے تمھاری قربانی، قربانی نہیں ہوئی، بلکہ اس کی حیثیت محض بکری کے گوشت کی ہے۔انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے یہاں گھر کی پالی ہوئی ایک بکری ہے، جو میرے نزدیک بڑی قیمتی اور دو بکریوں کی سے زیادہ عزیز ہے، اگر میں اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں قربان کردوں اور اسے ذبح کردوں، تو میرے لیے کافی ہوگی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں! البتہ یہ حکم ساری امت کے لیے نہیں ہے، بلکہ خاص تمھارے لیے ہے؛ اس لیے امت مسلمہ کے لیے اس بکری کے بچے کی قربانی جائز نہیں، جس کا ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔

حوالہ

تيسير العلام للبسام الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة: العاشرة، 1426 هـ - 2006 م. تنبيه الأفهام للعثيمين -طبعة مكتبة الصحابة الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة الأولى 1426. الإفهام في شرح عمدة الأحكام –عبد العزيز بن باز-اعتناء سعيد بن علي بن وهف القحطاني - الرياض - الطبعة الأولى -1435. خلاصة الكلام لفيصل المبارك الحريملي -الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري طبعة دار الفكر دمشق الأولى 1381. تأسيس الأحكام لأحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج القاهرة مصر الطبعة الأولى. صحيح البخاري لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل الجعفي البخاري تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. الموسوعة الفقهية الكويتية- وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت -الطبعة: (من 1404 - 1427 هـ) الأجزاء 1 - 23: الطبعة الثانية، دار السلاسل - الكويت، الأجزاء 24 - 38: الطبعة الأولى، مطابع دار الصفوة - مصر، الأجزاء 39 - 45: الطبعة الثانية، طبع الوزارة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو، جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے، تو وہ قربانی کرنے سے پہلے اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔

عَن أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضي الله عنها قَالت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو، جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند نکل آئے، تو وہ قربانی کرنے سے پہلے اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ذوالحجہ کا چاند نکل جانے کے بعد قربانی کر لینے تک اپنے سر، بغل اورمونچھ وغیرہ کے بال نہ کاٹے اور نہ ہی ہاتھ پاؤں کے ناخن کاٹے۔

فوائد
  1. جس نے عشرہ ذی الحجہ کے داخل ہونے کے بعد قربانی کرنے کی نیت کی، وہ نیت کرنے کے بعد سے قربانی کرنے تک مذکورہ امور سے باز رہے۔
  2. اگر کوئی پہلے دن قربانی نہ کرے، تو وہ مذکورہ امور سے رکا رہے گا یہاں تک کہ وہ تشریق کے ایام میں کسى دن قربانی کرلے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1566) (1977). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 199). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 450). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1165).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص طاقت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَن كان له سَعَة، ولمْ يُضَحِّ، فلا يَقْرَبَنّ مُصَلّانا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میںابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان قربانی کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ عیدگاہ کے قریب نہ آئے اور لوگوں کے ساتھ عید کی نماز نہ پڑھے۔ کیونکہ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے۔ قربانی ایک بہت بڑی عبادت اور عید الاضحی کے دن کا ایک دینی شعار ہے۔ جمہور علما اسے سنت موکدہ کہتے ہیں، جب کہ کچھ علما استطاعت رکھنے والے کے حق میں واجب کہتے ہیں۔

حوالہ

- سنن ابن ماجه المؤلف: ت: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء الكتب العربية - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط. الناشر: مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م - تخريج أحاديث مشكلة الفقر وكيف عالجها الإسلام المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني, المكتب الإسلامي, الطبعة: الأولى - 1405 ه - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان. دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - حاشية السندي على سنن ابن ماجه , الناشر: دار الجيل.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com