نبی کریمﷺ نے قربانی کے دن کی ابتدا نماز سے کی، پھر دوسرے نمبر پر خطبہ دیا اور تیسرے نمبر پر ذبح کیا۔ آپ جب نماز کے لیے نکلتے تو شعائر اسلام کے اظہار، نفع کوعام کرنے اور امت کی تعلیم و تربیت کی غرض سے اپنی قربانی کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔ آپ نے قربانی کے احکام و شروط سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوگی، اسے اس کی جگہ پر دوسرا جانور ذبح کرنا پڑے گا۔ جس نےذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کے نام سے ذبح کرے، تاکہ وہ ذبح درست ہو اور ذبیحہ حلال ہو۔ مشروع ترتیب یہی ہے، جو اس کے خلاف کرے گا، اس کا عمل درست نہیں ہوگا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ذبح کا وقت نماز عید کے اختتام سے شروع ہو گا، نماز کا وقت شروع ہونے اور امام کے قربانی کرنے سے نہیں، سوائے اس شخص کے جس پر نماز عید واجب نہیں جیسے کہ مسافر وغیرہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. العمدة في الأحكام، عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي الجماعيلي، تحقيق: سمير بن أمين الزهيري، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1419هـ، 1998م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.