سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص طاقت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَن كان له سَعَة، ولمْ يُضَحِّ، فلا يَقْرَبَنّ مُصَلّانا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میںابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان قربانی کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ عیدگاہ کے قریب نہ آئے اور لوگوں کے ساتھ عید کی نماز نہ پڑھے۔ کیونکہ کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے۔ قربانی ایک بہت بڑی عبادت اور عید الاضحی کے دن کا ایک دینی شعار ہے۔ جمہور علما اسے سنت موکدہ کہتے ہیں، جب کہ کچھ علما استطاعت رکھنے والے کے حق میں واجب کہتے ہیں۔

حوالہ

- سنن ابن ماجه المؤلف: ت: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء الكتب العربية - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط. الناشر: مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م - تخريج أحاديث مشكلة الفقر وكيف عالجها الإسلام المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني, المكتب الإسلامي, الطبعة: الأولى - 1405 ه - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان. دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - حاشية السندي على سنن ابن ماجه , الناشر: دار الجيل.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قربانی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com