عن عبد الله بن عُمَر رضي الله عنه قال: «اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بن عَبْدِ الْمُطَّلِب رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن يبيت بمكة ليالي مِنى، من أجل سِقَايَتِه فأذن له».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (حجاج کو) پانی پلانے کے لیے ایامِ منیٰ میں، مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایامِ تشریق کے دوران منیٰ میں رات گزارنا حج کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، جنھیں نبی ﷺ نے سرانجام دیا۔ ان راتوں اور ایام میں مقامِ منیٰ میں قیام کرنا اللہ کی اطاعت اور شعائرِ حج میں سے ہے۔
چوں کہ حاجیوں کو پانی پلانا بہت ہی گراں پایہ نیکیوں میں سے ہے اس لیے کہ یہ اللہ کے گھر کے زائرین اور اس کے مہمانوں کی خدمت ہے اسی لیے آ پﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت دے دی کیونکہ ان پر سقایہ کی ذمہ داری تھی اور انھیں حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ یہ ایک عمومی مصلحت تھی جس سے معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص جس کو کوئی ایسا کام نہ کرنا ہو اور نہ ہی اسے کوئی عذر لاحق ہو اس کے لیے یہ رخصت نہیں ہے۔
حوالہ
تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة، العاشرة، 1426هـ - 2006 م.
تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى 1426هـ.
صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عبَّاس رضي الله عنهما قال: «أُمِرَ الناس أن يكون آخر عَهْدِهِمْ بالبيت، إلا أنه خُفِّفَ عن المرأة الحائض».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی طواف وداع کریں) البتہ حائضہ سے یہ حُکم معاف ہو گیا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
بیت اللہ شریف کی اپنی عظمت و کرامت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے سامنے خشوع و عاجزی کی نشانی ہے، سینوں میں اس کا رعب اور دلوں میں اس کا جلال، تعلق اور محبت سمائی ہوئی ہے۔
اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ نے حاجی کو سفر سے پہلے حکم دیا کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ میں گزرے، یہ طوافِ اخیر ہے جسے طوافِ وداع کہتے ہیں، سوائے حائضہ عورت کے، اس لیے کہ اس کے داخل ہونے سے مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، چنانچہ اس سے بغیر فدیہ کے طواف ساقط ہوگیا، یہ حدیث صرف حج کے بارے میں ہے عمرے کو یہ (حکم) شامل نہیں۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ.
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: « تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الوَدَاع بالعُمرَة إلى الحج وأهدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الهَدْيَ مِن ذِي الحُلَيفَة، وَبَدَأَ رَسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهَلَّ بالعمرة، ثُمَّ أَهَلَّ بالحج، فَتَمَتَّعَ النَّاس مع رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بالعمرة إلَى الحج، فَكَان مِن النَّاس مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الهَدْيَ مِن ذي الحُلَيفَة، وَمِنهُم مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قَالَ للنَّاس: مَنْ كَانَ مِنكُم أَهْدَى، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ مِن شَيء حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَن لَم يَكُن أَهْدَى فَلْيَطُفْ بالبَيت وَبالصَّفَا وَالمَروَة، وَلْيُقَصِّر وَلْيَحْلِل، ثُمَّ لِيُهِلَّ بالحج وليُهدِ، فَمَن لم يجد هَدْياً فَلْيَصُم ثَلاثَةَ أَيَّام فِي الحج وَسَبعة إذَا رَجَعَ إلى أَهلِهِ فَطَافَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاستَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ، وَمَشَى أَربَعَة، وَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بالبيت عِند المَقَام رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، وطاف بِالصَّفَا وَالمَروَة سَبعَةَ أَطوَاف، ثُمَّ لَم يَحلِل مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ منه حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يوم النَّحرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بالبيت، ثُمَّ حَلَّ مِن كُلِّ شَيء حَرُمَ مِنهُ، وَفَعَلَ مِثل مَا فَعَلَ رَسول اللَّه صلى الله عليه وسلم : مَن أَهدَى وَسَاقَ الهَديَ مِن النَّاسِ».
«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَقْدَمُ مكَّة إذا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ -أَول ما يَطُوفُ- يَخُبُّ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور ذوالحلیفہ کے مقام سے ہدی (قربانی) کا جانور ساتھ لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا۔ بعض لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، چنانچہ وہ ذو الحلیفہ سے انہیں لیکر چلے اور بعض وہ تھے جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ (مکہ) پہنچ گئے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے، اس کے لئے کوئی حرام چیزحلال نہیں ہے جب تک کہ وہ حج کو پورا نہ کرلے اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہے تو وہ (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اوربال کتروا کر (عمرہ کا) احرام کھول دے (یعنی جو چیزیں حالت احرام میں ممنوع تھیں انہیں مباح کر لے) اور اس کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے اور قربانی کرے۔ جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین روزے رکھے اورسات روزے تب رکھےجب وہ اپنے اہل و عیال میں واپس پہنچ جائے۔ بہر کیف رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کیا اور سب سے پہلےحجر اسود کو استلام کیا۔ پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا (یعنی تیز رفتاری سے چلے) اور باقی چار چکروں میں اپنی معمول حالت میں چلے، پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیمی پر دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد (خانہ کعبہ) سے لوٹ کر صفاء پر آئے اور صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا (یعنی احرام سے باہر نہ آئے) یہاں تک کہ آپ ﷺاپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
(ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تو طواف شروع کرتے وقت پہلے حجر اسود کو استلام کیا اور (طواف کے سات چکروں میں سے) تین چکروں میں رمل کیا۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ جب اپنے اس حج کے لیے اہل مدینہ کے میقات ذو الحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ، مناسکِ حج اور لوگوں کو الوداع کہا، لوگوں تک اپنا پیغام رسالت پہنچایا اور اس پر انھیں گواہ بنایا، تو آپ ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا۔ آپ ﷺ حج قران کر رہے تھے۔ حج قران تمتع کہلاتا ہے۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے تو عمرہ و حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا اور بعض نے صرف عمرہ کے لیےاحرام باندھا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دل میں حج کی نیت رکھی، جب کہ کچھ لوگوں نے اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو ان تینوں صورتوں میں اختیار دیا تھاکہ وہ جیسے چاہیں، کر لیں۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ ذو الحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر چلے تھے، جب کہ بعض لوگوں نے ہدی کے جانور اپنے ساتھ نہیں لیے تھے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور انھوں نے یا تو اکیلے حج کی نیت کر رکھی تھی یا پھر عمرہ و حج دونوں کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا، ترغیب دلائی کہ وہ حج کی نیت کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا دیں۔ جب انھوں نے طواف اور سعی کر لی، تو آپ ﷺ نے انھیں تاکید فرمائی کہ اپنے بال کتروا کر عمرہ کا احرام کھول دیں اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں اور قربانی دیں؛ کیوںکہ انھوں نے ایک ہی سفر میں دو عبادتیں کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قربانی کا جانور دستیاب نہ ہو، وہ دس دن روزے رکھے۔ تین دن ایام حج میں۔ ان کا وقت تب سے شروع ہو جاتا ہے، جب آدمی عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور سات اس وقت رکھے، جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔
نبی ﷺ جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کو استلام کیا اور کعبہ کےگرد سات چکر لگائے۔ تین میں رمل کیا؛ کیوںکہ یہ مکہ آنے کے فورا بعد کیا جانے والا طواف تھا اور چار چکروں کو چل کر پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر صفا پر آئے اور اس کے اور مروہ کے مابین سات چکر لگائے؛ دونوں علامتوں کے درمیان آپ ﷺ دوڑتے اور باقی مسافت چل کر طے کرتے۔آپ ﷺ نے تب تک اپنا احرام نہیں کھولا، جب تک اپنا حج پورا کر کے یوم النحر میں قربانی ذبح نہیں کرلیا۔ جب آپ ﷺ اپنے حج، جمرہ عقبہ کی رمی، یوم النحر کو قربانی ذبح کرکے اور اپنے سر کو مونڈ کر فارغ ہو چکے،جسے تحلل اول کہا جاتا ہے، تو اس دن صبح کو بیت اللہ کی طرف لوٹ گئے اور اس کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے لیے ہر اس شے کو حلال کر لیا، جس سے آپ ﷺ (احرام کی وجہ سے) اجتناب کر رہے تھے، حتی کہ بیویوں سے مباشرت بھی۔ آپ ﷺ کے جو صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے بھی ویسے ہی کیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا ۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن حَفْصَة زَوْج النَّبِي رضي الله عنها قالت: «يَا رَسُولَ اللَّه، مَا شَأن النَّاس حَلُّوا مِنَ العُمرَة، وَلَم تَحِلَّ أنت مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَال: إنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدتُ هَدْيِي، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ».
زوجہ رسول ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولاہے؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوندھ رکھا ہے اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کو قلادہ پہنا رکھا ہے۔ اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا (احرام نہیں کھول سکتا)، جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھا، ہدی ساتھ لیا اورسر کے بالوں کو منتشر ہونے سے روکنے کے لیے چپکا لیا؛ کیوں کہ آپ کا احرام لمبا ہونا تھا۔ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ احرام باندھ لیا۔ ان میں سے بعض نے عمرہ کے لیے احرام باندھا؛ اس نیت کے ساتھ کہ وہ اسے کھول کر حج کے لیے نیا احرام باندھیں گے۔ اکثر صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہیں لائے تھے۔ تاہم بعض ہدی کا جانور ہم راہ لائے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور طواف و سعی کرچکے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کے جانورساتھ نہیں لائے تھے اور حج افراد اور حج قران کی نیت سے آئے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا لیں اور احرام کھول لیں۔ تاہم خود نبی کریم ﷺ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے اپنا احرام باقی رکھا اور حلال نہ ہوئے۔ اس پر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں نے کیوں احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اپنے سر کو گوندھ رکھا ہے (یعنی کسی چپکانے والی شے سے بالوں کو جما رکھا ہے) اور اپنی ہدی کے جانور کو بھی قلادہ پہنا کر ساتھ لایا ہوں، اس وجہ سے میں احرام نہیں کھول سکتا، تاوقتے کہ ہدی اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ یعنی حج پورا ہونے کا دن جو کہ یوم النحر ہے آ جائے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الرحمن بن يزيد النَّخَعِي: «أنه حج مع ابن مسعود فرآه يَرمي الجَمْرَةَ الكبرى بسبع حصَيات، فجعل البيت عن يساره، ومِنى عن يمينه، ثم قال: هذا مَقَامُ الذي أُنْزِلَتْ عليه سورة البقرة صلى الله عليه وسلم ».
عبد الرحمن بن يزيد نخعي بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا۔ انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو جمرہ عقبہ کی سات کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ بیت اللہ ان کے بائیں جانب تھا اور منی دائیں جانب۔ انھوں نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے، جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
قربانی کے دن اور ایام تشریق کے دوران کنکریاں مارنا ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے فروتنی کا اظہار، اس کے احکامات کی بجا آوری اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی سنت کی پیروی ہوتی ہے۔ دس ذو الحج کو حاجی جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ جمرہ کبری کی رمی ہے تا کہ اس دن کے عظیم اعمال کا آغاز اس سے ہو۔ چنانچہ وہ اس جگہ کھڑا ہوتا ہے جہاں نبی ﷺ کھڑے ہوئے تھے بایں طور کہ کعبہ مکرمہ اس کے بائیں جانب ہوتا ہے اور منیٰ دائیں جانب۔ وہ جمرہ کبری کا رخ کر کے اس پر سات کنکریاں مارتا ہے اور ہرایک کے ساتھ تکبیر کہتا ہے۔ جیسا کہ بالکل اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۃ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حوالہ
تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ.
تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ
خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عُرْوَةَ بن الزُّبَيْرِ قال: «سُئل أُسَامَةُ بن زَيْدٍ -وأنا جالس- كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قال: كان يَسيرُ العَنَقَ، فإذا وجد فَجْوَةً نَصَّ».
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ رسول الله ﷺ جب عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے، تو آپ ﷺ کس رفتار سے چل رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ درمیانی رفتار سے چل رہے تھے، تاہم جب کوئی کشادہ جگہ آ جاتی، تو آپ ﷺ رفتار تیز کر دیتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفہ سے مزدلفہ تک کے سفر کے دوران نبی ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ کی چال کا علم سب سے زیادہ انہی کو تھا۔ ان سے آپ ﷺ کے چلنے کے انداز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ لوگوں کی بھیڑ میں آہستہ روی سے چل رہے تھے؛ تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور جہاں کشادہ جگہ آتی اور لوگ نہ ہوتے، وہاں اپنی سواری کو حرکت دیتے ہوئے کچھ تیز کر لیتے؛ کیوں کہ اس وقت تیز چلنے سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہ ہوتا۔
حوالہ
عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ.
تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426هـ.
تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عائشة رضي الله عنها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نَذْكُرُ إلا الحج، حتى جِئْنَا سَرِف فَطَمِثْتُ، فدخل عليَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبْكِي، فقال: «ما يُبْكِيك؟» فقلت: والله، لوَدِدْتُ أنَّي لم أكُن خرجت العَام، قال: «ما لك؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قلت: نعم، قال: «هذا شيء كَتَبه الله على بنات آدم، افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تَطُوفي بالبيت حتى تَطْهُري» قالت: فلمَّا قدمت مكة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه «اجْعَلُوها عُمرة» فأحَلَّ الناس إلا من كان معه الهَدْي، قالت: فكان الهَدْي مع النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وذَوِي اليَسَارَة، ثم أهَلُّوا حين راحُوا، قالت: فلمَّا كان يوم النَّحر طَهَرْت، فأمَرَني رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْتُ، قالت: فَأُتِيَنَا بِلَحم بَقَر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: أَهْدَى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن نِسَائه البقر، فلمَّا كانت ليلة الحَصْبَةِ، قلت: يا رسول الله، يرجع الناس بحجة وعُمرة وأرجع بِحَجَّة؟ قالت: فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فَأَرْدَفَنِي على جَمَلِه، قالت: فإني لأذْكُر، وأنا جَارية حَدِيثَةُ السِّن، أَنْعَسُ فيُصِيب وجْهِي مُؤْخِرَة الرَّحْل، حتى جِئْنَا إلى التَّنْعِيم، فَأَهْلَلْتُ منها بِعُمْرة؛ جزاء بِعُمْرَة الناس التي اعْتَمَرُوا.
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے، ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا۔ جب سرف کے مقام پر پہنچے، تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺمیرے پاس آئے جبکہ میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کونسی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلی ہوتی! آپ نے پو چھا: تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فر مایا: یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ جیسے حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: جب میں مکہ پہنچی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو۔ چنانچہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام لوگ حلال ہو گئے۔ قربانی کے جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں۔ جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا۔ اور جب قربانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے طواف کر لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت لا یا گیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قر بانی دی ہے۔ جب محصب (مینا سے روانگی) کی رات آئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں؟ تو آپ ﷺنے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا۔ وہ کہتی ہیں: مجھے یا د پڑتا ہے کہ میں (اس وقت) نو عمر لڑکی تھی، (راستے میں) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ (بار بار) کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکرا رہا تھا، حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا، عمرے کا تلبیہ پکارا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ”ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے۔ ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا“ یعنی مدینہ سے۔ آپ ﷺ مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھنے کے بعد نکلے تھے۔ سنیچر کا دن تھا اور ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھی تھی۔
”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ایک روایت میں ہے: ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ جب کہ ان سے ایک اور صحیح حدیث میں اس طرح آیا ہے: ”ہم میں سے کچھ عمرہ کا تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ حج کا اور میں عمرہ کا تلبیہ کہہ رہی تھی“، اس طرح ان کے یہ اقوال: ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ مندرجہ ذیل احوال میں سے کسی ایک حالت سے خالی نہیں:
پہلی حالت: اصل میں اس سے ان کی مراد فریضۂ حج ہے۔ اس قسم کا بیان نہیں جس کا انھوں نے احرام باندھا تھا۔
دوسری حالت: اس سے ان کی مراد گھر سے نکلتے وقت اور میقات پر پہنچ کر احرام باندھنے سے پہلے تک کا حال بیان کرنا ہے۔
تیسری حالت: ان کے علاوہ دیگر صحابہ کا حال بیان کرنا مقصود ہو گا۔ خود ان کے بارے میں نہیں۔
”یہاں تک کہ ہم سرف کے مقام تک پہنچ گئے“ یہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔
”فَطَمِثْتُ“ یعنی وہ حائضہ ہو گئیں۔
”رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کون سی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی!“ یعنی جب انھیں حیض آ گیا، تو وہ رونے لگیں اور یہ خواہش کرنے لگیں کہ کاش وہ اس سال حج کا ارادہ نہ کرتیں! کیوں کہ ان کا یہ خیال تھا کہ وہ حائضہ ہونے کی وجہ سے حج کے تمام اعمال سے منقطع ہو جائیں گی اور اس وجہ سے بہت بڑی خیر سے محروم رہ جائیں گی۔
”فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟“ یعنی حائضہ تو نہیں ہو گئی؟ میں نے کہا: ہاں! آپﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے“ یعنی حیض ایک طے شدہ امر ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم کے لیے لکھ دیا ہے، یہ نہ تیرے ساتھ خاص ہے اور نہ تیرے ہاتھ میں کچھ ہے۔ اس لیے رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
”تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام ) حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو“ رسول اللہ ﷺ نے انھیں بتادیا کہ حیض مناسک حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں اور نہ ہی احرام کے لیے مخل ہے۔ اس لیے دیگر حاجی جو کچھ کریں، تم بھی کرتی جاؤ۔ جیسے وقوف عرفہ ومنیٰ، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار وغیرہ۔ طواف کے علاوہ دیگر تمام ارکانِ حج ادا کر سکتی ہیں۔ جب تک پاک ہونے کے بعد غسل نہیں کر لیتیں، طواف کرنے سے اجتناب کریں گی۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو“ یعنی نبی کریم ﷺ جب مکہ پہنچے، تو جو لوگ اپنے ساتھ قربانی نہیں لائے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرے کا بنا لیں؛ چنانچہ جس نے حج کے لیےاحرام باندھا تھا، لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا، وہ اپنے احرام کو بدل کر عمرہ کا احرام کر لے۔ وہ طواف کرے، سعی کرے، بال کٹوائے اور حلال ہو جائے۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ حلال ہو جائے۔ ۔ہم نے کہا کہ کس طرح حلال ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مکمل حلال۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام صحابہ حلال ہو گئے۔ اور قربانی کا جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں“ یعنی جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں، وہ طواف، سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو گئے۔ جب کہ نبی کریم ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور وہ صحابہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے فراوانی سے نوازا تھا، حالت احرام میں باقی رہ گئے؛ کیوں کہ وہ اپنے ساتھ قربانیاں لائے تھے اور قربانی لانے والے کے لیے عمرہ کے بعد احرام اتارنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر میں قربانی لے کر نہ آیا ہوتا، تو میں بھی وہی کرتا، جو تمھیں کرنے کا حکم دیا ہے“۔
”جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا“ یعنی جن لوگوں نے طواف کر لیا، سعی کر لی اور بال کٹوا لیے، انھوں نے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یعنی ترویہ کے دن منی کی طرف نکلتے وقت حج کا تلبیہ پکارا۔
”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب قر بانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی“ یعنی قربانی کے دن حیض سے پاک ہو گئیں۔ یہ دس ذی الحجہ کا دن تھا۔ اس دن کا نام ”یوم نحر“ قربانیوں کو نحر کرنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے طواف افاضہ کر لیا“ یعنی یوم نحر کو جب حیض سے پاک ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ نے انھیں طواف افاضہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ اس سے فارغ ہو گئیں۔
”ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟“ یعنی ان کے اور ان کے ساتھ موجود دیگر عورتوں کے لیے گائے کا گوشت بھیجا گیا، تو انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا۔
”جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے“ یعنی نبی کریم ﷺ نے اپنی ہر بیوی کی طرف سے ایک ایک گائے قربانی کی ہے۔
”جب محصب کی رات آئی“ یعنی جب منیٰ سے روانگی کی رات آئی۔ یہ ایام تشریق کے بعد والی رات ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ حجاج منی سے نکل کر محصب آکر رات گزارتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہﷺ محصب کی رات کچھ دیر سوئے اور سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ آئے اور طواف کیا۔
”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ (دونوں) کر کے لو ٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟“ یعنی وہ مستقل حج اور مستقل عمرہ کر کے لوٹیں گے؛ کیوں کہ انھوں نے حج تمتع کیا تھا اور میں الگ سے عمرہ کیے بغیر ہی لوٹ جاؤں گی؛ کیوں کہ وہ قارن تھیں اور حج قران میں عمرہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”لوگ دو اجر لے کر لوٹیں اور میں ایک ہی اجر کے ساتھ لوٹوں؟“، وہ چاہتی تھیں کہ انھیں بھی حج کے علاوہ الگ سے عمرہ کی سعادت نصیب ہو، جیسے دیگر امہات المؤمنین اور صحابہ کو نصیب ہوئی تھی، جنھوں نے اپنے حج کے احرام کو عمرہ کے کے احرام میں بدل لیا، عمرہ مکمل کر کے یوم الترویہ سے پہلے حلال ہو گئے، پھر ترویہ کے دن مکہ سے حج کا احرام باندھا۔ اس طرح انھیں الگ الگ حج اور عمرہ ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ جب کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا عمرہ حج قران ہی میں شامل تھا۔ چنانچہ واپسی کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمھارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہے۔ یعنی دونوں مکمل ہو گئے ہیں اور یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور دیگر لوگوں کی طرح الگ عمرہ کرنے کی خواہش پر مصر رہیں۔
”وہ کہتی ہیں: آپ ﷺ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا“ یعنی نبی کریم ﷺ نے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ مجھے تنعیم لے جائیں؛ تاکہ میں وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آؤں؛ تاکہ باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی الگ عمرے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ چنانچہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سوار کر لیا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے۔
”وہ کہتی ہیں: مجھے یاد پڑتا ہے، میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی، راستے میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ بار بار کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا“ یعنی جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا اور تنعیم کی طرف چلے تو راستے میں شدید اونگھ کی وجہ سے ان کا سر ادھر ادھر گرتا اور کجاوے سے ٹکرا جاتا۔
”حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا“ یعنی جب وہ مقام تنعیم پہنچ گئے، تو انھوں نے وہاں سے مستقل عمرہ کے لیے احرام باندھا، اس عمرہ کے بدلے میں جو لوگ پہلے ہی کر چکے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے عمرے کی ادائیگی کے بعد فرمایا: ”یہ تمھارے اس عمرے کے بدلے میں ہے“ یعنی یہ عمرہ اس عمرے کی جگہ ہے، جو تم حج سے الگ مستقل طور پر کرنا چاہتی تھی اور حیض کی وجہ سے کر نہیں پائی تھی۔
حوالہ
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
لسان العرب، محمد بن مكرم بن منظور الأنصاري، دار صادر، بيروت، الطبعة: الثالثة 1414هـ.
كشف المشكل من حديث الصحيحين، جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن الجوزي، تحقيق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن، الرياض.
المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، أحمد بن محمد بن علي الفيومي، الناشر: المكتبة العلمية، بيروت.
النهاية في غريب الحديث والأثر، مجد الدين أبو السعادات المبارك بن الأثير، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى، محمود محمد الطناحي، نشر: المكتبة العلمية، بيروت، الطبعة: 1399هـ، 1979م.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1392هـ.
إكمال المعلم بفوائد مسلم، عياض بن موسى اليحصبي السبتي، المحقق: يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1998م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، الطبعة: الأولى 1427هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس بن مالك رضي الله عنه ، قال: حَجَّ النبي صلى الله عليه وسلم على رَحْلٍ رَثٍّ، وقَطِيفة تُساوي أربعة دراهم، أو لا تُساوي، ثم قال: «اللهمَّ حَجَّة لا رِياءَ فيها، ولا سُمْعَة».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اونٹنی پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی پیٹھ پر ایک پرانا اور بوسیدہ کجاوہ رکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک کپڑا بچھا تھا، جس کی قیمت چادر درہم یا اس سے بھی کم تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ! میں اپنا یہ حج اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں یا میرے بارے میں سنیں۔ اسے صرف اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حوالہ
- سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
- النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي.
- فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى.
- سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف.
- معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م.
- حاشية السندي على سنن ابن ماجه = كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه, محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, دار الجيل - بيروت، بدون طبعة.
- تهذيب اللغة, محمد بن أحمد بن الأزهري الهروي، المحقق: محمد عوض مرعب, دار إحياء التراث العربي - بيروت, الطبعة: الأولى، 2001م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com