نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھا، ہدی ساتھ لیا اورسر کے بالوں کو منتشر ہونے سے روکنے کے لیے چپکا لیا؛ کیوں کہ آپ کا احرام لمبا ہونا تھا۔ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ احرام باندھ لیا۔ ان میں سے بعض نے عمرہ کے لیے احرام باندھا؛ اس نیت کے ساتھ کہ وہ اسے کھول کر حج کے لیے نیا احرام باندھیں گے۔ اکثر صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہیں لائے تھے۔ تاہم بعض ہدی کا جانور ہم راہ لائے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور طواف و سعی کرچکے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کے جانورساتھ نہیں لائے تھے اور حج افراد اور حج قران کی نیت سے آئے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا لیں اور احرام کھول لیں۔ تاہم خود نبی کریم ﷺ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے اپنا احرام باقی رکھا اور حلال نہ ہوئے۔ اس پر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں نے کیوں احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اپنے سر کو گوندھ رکھا ہے (یعنی کسی چپکانے والی شے سے بالوں کو جما رکھا ہے) اور اپنی ہدی کے جانور کو بھی قلادہ پہنا کر ساتھ لایا ہوں، اس وجہ سے میں احرام نہیں کھول سکتا، تاوقتے کہ ہدی اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ یعنی حج پورا ہونے کا دن جو کہ یوم النحر ہے آ جائے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.