سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (حجاج کو) پانی پلانے کے لیے ایامِ منیٰ میں، مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔

عن عبد الله بن عُمَر رضي الله عنه قال: «اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بن عَبْدِ الْمُطَّلِب رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن يبيت بمكة ليالي مِنى، من أجل سِقَايَتِه فأذن له».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے (حجاج کو) پانی پلانے کے لیے ایامِ منیٰ میں، مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایامِ تشریق کے دوران منیٰ میں رات گزارنا حج کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، جنھیں نبی ﷺ نے سرانجام دیا۔ ان راتوں اور ایام میں مقامِ منیٰ میں قیام کرنا اللہ کی اطاعت اور شعائرِ حج میں سے ہے۔ چوں کہ حاجیوں کو پانی پلانا بہت ہی گراں پایہ نیکیوں میں سے ہے اس لیے کہ یہ اللہ کے گھر کے زائرین اور اس کے مہمانوں کی خدمت ہے اسی لیے آ پﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں رات نہ گزارنے کی رخصت دے دی کیونکہ ان پر سقایہ کی ذمہ داری تھی اور انھیں حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ یہ ایک عمومی مصلحت تھی جس سے معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص جس کو کوئی ایسا کام نہ کرنا ہو اور نہ ہی اسے کوئی عذر لاحق ہو اس کے لیے یہ رخصت نہیں ہے۔

حوالہ

تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة، العاشرة، 1426هـ - 2006 م. تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى 1426هـ. صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حج کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com