سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟ قَالَ: «لَا، لَكُنَّ أَفْضَلُ الجِهَادِ: حَجٌّ مَبْرُورٌ».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور دشمنوں سے جنگ لڑنے کو افضل ترین اعمال میں شمار کرتے تھے۔ لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ تو آپ نے ان کی رہنمائی ان کے حق میں افضل ترین جہاد یعنی حج مبرور کی جانب کر دی جو کتاب و سنت کے مطابق ادا کیا گیا ہو اور گناہ و ریاکاری سے محفوظ ہو۔

فوائد
  1. جہاد مردوں کے حق میں ایک افضل ترین عمل ہے۔
  2. حج عورتوں کے حق میں جہاد سے افضل عمل ہے۔ حج عورتوں کے لیے افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔
  3. اعمال میں عمل کرنے والے کے حساب سے تفاوت ہوا کرتا ہے۔
  4. حج کو جہاد اس لیے کہا گیا کہ یہ نفس کا مجاہدہ ہے، مال خرچ ہوتا ہے اور بدن کی طاقت صرف ہوتی ہے۔ حج بھی جہاد فی سبیل اللہ کی طرح بدنی اور مالی عبادت ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 133) (1520). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 402). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 902). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 321).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حج اور عمرہ کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com