عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا: «مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟» قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: «فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انصاری خاتون سے، (راوی حدیث کہتے ہیں) جس کا نام عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا، لیکن میں اس کا نام بھول گیا، پوچھا : "تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟" اس نے جواب دیا : ہمارے پاس صرف دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر سوار ہوکر میرے بیٹے کے والد اور میرے بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا اونٹ ہمارے پاس پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا۔ کیوں کہ رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع سے لوٹے، تو ایک انصاری خاتون سے، جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج نہیں کیا تھا، فرمایا : تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چيز نے روکا؟
اس نے عذر پیش کرتے ہوئے جواب دیا کہ اس کے گھر میں دو ہی اونٹ ہیں۔ ایک پر سوار ہو کر اس کے شوہر اور بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا کنویں سے پانی لانے کے لیے گھر پر چھوڑ گیا۔
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بتایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے۔
فوائد
- رمضان مہینے میں عمرہ کی فضیلت۔
- رمضان مہینے میں کیا گیا عمرہ اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے۔ لیکن اس سے فرض حج ساقط نہيں ہوتا۔
- اوقات کا شرف زیادہ ہونے سے اعمال کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال رمضان مہینے میں کیے گئے اعمال ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 19) (1863).
صحيح مسلم (2/ 917) (1256).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 403).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 896).
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي (9/ 2).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ تعالی کے لیے حج کیا اور اس دوران جماع اور اس کے مقدمات جیسے بوس و کنار اور مباشرت وغیرہ سے پرہیز کیا، فحش گوئی سے گریزاں رہا، نافرمانی اور گناہ کے کاموں سے دور رہا اور ان کاموں سے دور رہا، جو احرام کے دوران منع ہیں، وہ اپنے حج سے بخشے بخشائے اور گناہوں سے پاک صاف ہوکر لوٹتا ہےبالکل اسی طرح جس طرح بچہ گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔
فوائد
- گناہ کے کام اگرچہ تمام حالات میں ممنوع ہيں، لیکن حج کے دوران ان کی ممانعت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا مناسک حج کی تعظیم کی وجہ سے ہے۔
- انسان گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہيں ہوتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 133) (1521).
صحيح مسلم (2/ 983) (1350).
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين (ص358) (1274).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 401).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 378).
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين (5/ 321).
شرح النووي على مسلم (9/ 119).
إكمال المعلم بفوائد مسلم، للقاضي عياض (4/ 462).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟ قَالَ: «لَا، لَكُنَّ أَفْضَلُ الجِهَادِ: حَجٌّ مَبْرُورٌ».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور دشمنوں سے جنگ لڑنے کو افضل ترین اعمال میں شمار کرتے تھے۔ لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد میں شریک ہونے کی درخواست کی۔
تو آپ نے ان کی رہنمائی ان کے حق میں افضل ترین جہاد یعنی حج مبرور کی جانب کر دی جو کتاب و سنت کے مطابق ادا کیا گیا ہو اور گناہ و ریاکاری سے محفوظ ہو۔
فوائد
- جہاد مردوں کے حق میں ایک افضل ترین عمل ہے۔
- حج عورتوں کے حق میں جہاد سے افضل عمل ہے۔ حج عورتوں کے لیے افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔
- اعمال میں عمل کرنے والے کے حساب سے تفاوت ہوا کرتا ہے۔
- حج کو جہاد اس لیے کہا گیا کہ یہ نفس کا مجاہدہ ہے، مال خرچ ہوتا ہے اور بدن کی طاقت صرف ہوتی ہے۔ حج بھی جہاد فی سبیل اللہ کی طرح بدنی اور مالی عبادت ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 133) (1520).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 402).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 902).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 321).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عُمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «اللَّهُمَّ ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: اللهم ارحم الْمُحَلِّقِينَ. قالوا: والْمُقَصِّرِينَ يا رسول الله؟ قال: والْمُقَصِّرِينَ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
بال مونڈنا اور انہیں چھوٹا کرنا حج اور عمرہ کے مناسک میں سے ہے۔ بال چھوٹے کرنے کی بنسبت مونڈنا زیادہ افضل ہے کیوں کہ اس میں اللہ کے سامنے بندگی اور فروتنی کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت میں سر کے بالوں کو جڑ ہی سے کاٹ دیتا ہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے بال مونڈنے والوں کے لیے تین دفعہ دعائے رحمت کی حالانکہ وہاں موجود لوگ آپ ﷺ کو بالوں کو چھوٹا کرنے والوں کی بھی یاد دہانی کرا رہے تھے لیکن آپ ﷺ ان کی بات سنی ان سنی کر دیتے۔ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ساتھ بالوں کو چھوٹا کرانے والوں کو شامل فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے مردوں کے حق میں بال مونڈنا زیادہ افضل ہے۔
یہ اس وقت ہے جب وہ بندہ عمرہ تمتع نہ کر رہا ہو اور وقت اتنا کم ہو کہ بال دوبارہ حج کی مناسبت سے مونڈنے کے لیے نہ اگیں، اس صورت حال میں اس کے لیے بالوں کو کٹوا کر چھوٹا کرانا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ وہ اس کے بعد (حج میں) بالوں کو منڈا سکے گا۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ.
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عائشة رضي الله عنها مرفوعاً: «ما مِن يومٍ أكثر مِن أنْ يُعْتِقَ اللهُ فيه عبدًا مِن النارِ، مِن يومِ عرفة، وإنَّه ليدنو، ثم يُباهي بهم الملائكةَ، فيقول: ما أراد هؤلاء؟».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی ایسا دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عرفہ کے دن کے علاوہ کسی دن اتنے لوگوں کو اللہ تعالی جہنم سے خلاصی نہیں دیتا ہے جتنا عرفہ کے دن دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حاجی بندوں سے حقیقتاً قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے رشک کرتا ہے اور ان کے سامنے حاجیوں کی فضیلت اور ان کا شرف بتاتا ہے۔ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جلالت و عظمتِ شان کے مطابق سچ مُچ اپنے بندوں سے قریب ہے، وہ عرش پر مستوی ہے، مخلوق سے الگ ہے اور حقیقت میں ان سے قریب اور پاس ہوتا ہے۔ اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کہ انہوں نے اپنے گھر بار کو اور وطنوں کو چھوڑا، اپنا مال خرچ کرکے، جسموں کو تھکا کر آئے، یعنی یہ اپنے گناہوں کی مغفرت، اللہ کی رضا، اس کے قرب اور ملاقات کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ جو وہ چاہیں گے وہ انہیں ملے گا، ان کے درجات ان کی نیتوں کے بقدر ہوں گے۔
حوالہ
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
- صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة : علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها قالت: استأذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد، فقال: «جهادكن الحج».
اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی، تو آپ ﷺنے فرمایا : "تم عورتوں کا جہاد حج ہے"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے جہاد کی فضیلت کے پیش نظر، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کی معیت میں جہاد کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے واضح انداز میں بتا دیا کہ جہاد اور دشمنوں سے جنگ کرنا عورتوں کے حق میں مشروع نہیں ہے، کیونکہ عام طور سے عورتیں نازک اندام اور نرم دل ہوتی ہیں اور ان کے اندر خطروں کو جھیلنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں میدان جنگ میں زخمیوں کا علاج، پیاسوں کو پانی پلانا اور اس طرح کے دوسرے کام بھی نہیں کر سکتیں، کیونکہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہی۔ میں ان کے جانے کے بعد قیام گاہ میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا کہ ان کا جہاد حج میں ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کو جہاد سے تشبیہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ دونوں میں سفر کرنا پڑتا ہے، وطن سے دور رہنا ہوتا ہے، اہل و عیال سے الگ رہنا پڑتا ہے، سفر کی صعوبتیں جھیلنا پڑتی ہیں، تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے اور مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حنین کے دن ایک خنجر اٹھایا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ میں نے اسے اس لیے اٹھا رکھا ہے کہ اگر کسی مشرک نے میرے پاس آنے کی کوشش کی، تو اس کا پیٹ چیر دوں گی۔ یہ حدیث عورت کے جنگ کرنے کی دلیل ہے، اگرچہ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ صرف اپنے بچاو کے لیے لڑنا چاہتی تھیں اور ان کا ارادہ دشمن کی صف میں گھس کر دو دو ہاتھ کرنے کا نہیں تھا۔
حوالہ
صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423.
منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لأحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري، الناشر: دار الفلق، الرياض، الطبعة: السابعة، 1424 هـ.
سبل السلام، لمحمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com