سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ تعالی کے لیے حج کیا اور اس دوران جماع اور اس کے مقدمات جیسے بوس و کنار اور مباشرت وغیرہ سے پرہیز کیا، فحش گوئی سے گریزاں رہا، نافرمانی اور گناہ کے کاموں سے دور رہا اور ان کاموں سے دور رہا، جو احرام کے دوران منع ہیں، وہ اپنے حج سے بخشے بخشائے اور گناہوں سے پاک صاف ہوکر لوٹتا ہےبالکل اسی طرح جس طرح بچہ گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. گناہ کے کام اگرچہ تمام حالات میں ممنوع ہيں، لیکن حج کے دوران ان کی ممانعت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا مناسک حج کی تعظیم کی وجہ سے ہے۔
  2. انسان گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہيں ہوتا۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 133) (1521). صحيح مسلم (2/ 983) (1350). رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين (ص358) (1274). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 401). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 378). شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين (5/ 321). شرح النووي على مسلم (9/ 119). إكمال المعلم بفوائد مسلم، للقاضي عياض (4/ 462).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حج اور عمرہ کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com