سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نفلی روزہ

14 احادیث

رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ من الشهر حتى نظن أن لا يصوم منه، ويصوم حتى نظن أن لا يُفْطِرَ منه شيئا، وكان لا تَشَاءُ أن تراه من الليل مُصَلِيًا إلا رأيتَه، ولا نائما إلا رأيتَه.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: انس رضی اللہ عنہ صیام و قیام کے سلسلے میں نبی ﷺ کا حال بیان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے، تو یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں، کیوںکہ اس میں زیاد تر بنا روزہ ہی رہتے اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں کسی روزے کو بھی نہیں چھوڑیں گے؛ کیوںکہ آپ ﷺ اس میں بہت زیادہ روزے رکھتے۔ اسی طرح آپ ﷺ رات کی نماز کسی مخصوص وقت میں نہیں پڑھتے تھے، بلکہ کبھی تو اسے رات کے شروع میں پڑھ لیتے ، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، بایں طور کہ اگر آپ رات کو نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو سوتے ہوئے بھی دیکھ لیتے۔ آپ ﷺ کا عمل افراط و تفریط کے مابین میانہ روی پر مبنی ہوتا تھا۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ. - صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ بَاعَدَ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ جو شخص جہاد کے دوران خالص اللہ کی رضا جوئی اور اجر وثواب کے حصول کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اور جہنم کے درمیان ستر سال کی دوری پیدا فرما دیتا ہے۔اور یہ بھى کہا گیا ہے کہ (اللہ کى راہ میں روزہ رکھنے سے مراد) جہاد کے دوران اور دوسرے ایام کے دوران سب ہیں۔

فوائد
  1. نووی کہتے ہيں: اس حدیث سے جہاد کے دوران روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ فضیلت اس شخص کو حاصل ہوگی، جو روزہ رکھنے کی وجہ سے کسى ضرر کا شکار نہ ہو، کوئی حق ادا کرنے میں کمی نہ کرے اور لڑائی اور جنگ کا کوئی دوسرا اہم کاز متاثر نہ ہو۔
  2. نفلی روزے کی ترغیب۔
  3. روزہ میں اخلاص اور اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کا جذبہ رکھنا واجب ہے۔ اور ریا کارى کے طور پر روزہ نہ رکھے، نہ شہرت طلبی کے لئے اور نہ دیگر مقاصد کے لئے۔
  4. سندی کہتے ہيں: حدیث کے الفاظ "فی سبیل اللہ" کے اندر ایک احتمال یہ ہے کہ مراد فقط نیت کی اصلاح ہو۔ جب کہ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس نے روزہ جنگ کے دوران رکھا ہو۔ دوسرا معنی ہی متبادر ہے۔
  5. ابن حجر کہتے ہیں: جہاں تک حدیث کے الفاظ "سبعین خریفا" کی بات ہے، تو ویسے تو خریف سال کا ایک معلوم وقت ہے، لیکن یہاں مراد سال ہی ہے۔ یہاں سال کے ديگر موسموں، جیسے گرمی، جاڑا اور بہار وغیرہ کو چھوڑ کر بطور خاص خریف کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ خریف اس ناحیے سے سب سے پاکیزہ موسم ہے کہ اس میں پھل توڑے جاتے ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 26) (2840). صحيح مسلم (2/ 808) (1153). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص346). تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، لابن عثيمين (3/ 465). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص426). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص162).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يَصُومَنَّ أحدكم يوم الجمعة، إلا أن يصومَ يومًا قبله أو بعده».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اِلاّ یہ کہ اس سے پہلے (جمعرات) یا بعد (ہفتہ) میں ایک دن کا روزہ ملایا جائے یا اُس کے معمول کے ضمن میں آ جائے۔

حوالہ

تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاَثٍ: صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ان کے دوست اور ساتھی یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو تین باتوں کی وصیت کی: 1- ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔ 2- ہر روز چاشت کی دو رکعت نماز نماز پڑھنے کی۔ 3- سونے سے پہلے وتر کی نماز پڑھنے کی۔ یہ وصیت بطور خاص اس شخص کے لیے ہے، جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکے گا۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے الگ الگ ساتھیوں کو الگ الگ طرح کی وصیتیں اس لیے کی تھیں کہ آپ ان کے احوال سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ کس کے لیے کیا مناسب ہے۔ مثلا توانا کے لیے جہاد، عبادت گزار کے لیے عبادت اور عالم کے لیے علم مناسب ہے۔
  2. ابن حجر عسقلانی ہر مہینے تین دن کے روزے کی وصیت کے بارے میں کہتے ہیں : بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان روزوں سے مراد ایام بیض یعنی ہجری مہینے کے تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں دن کے روزے ہیں۔
  3. ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر کی نماز سونے سے پہلے پڑھ لینا مستحب ہے۔ لیکن یہ اس کے حق میں ہے، جسے جاگ پانے کا بھروسہ نہ ہو۔
  4. ان تینوں اعمال کی اہمیت۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی ساتھیوں کو ان کی وصیت کی ہے۔
  5. ابن دقیق العید چاشت کی دو رکعتوں کے بارے میں کہتے ہیں : شاید آپ نے کم سے کم رکعتوں کا ذکر کیا ہے، جنھیں پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چاشت کی نماز مستحب ہے اور اس کی کم سے کم رکعت دو ہے۔
  6. چاشت کی نماز کا وقت : چاشت کی نماز کا وقت سورج ڈوبنے کے لگ بھگ پندرہ منٹ بعد سے شروع ہوتا ہے اور ظہر کی نماز سے لگ بھگ دس منٹ پہلے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم دو رکعت ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ کتنی پڑھی جا سکتی ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں نے آٹھ رکعت کہا ہے اور کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
  7. وتر کی نماز کا وقت : وتر کی نماز کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے فجر طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 41) (1981). صحيح مسلم (1/ 499) (721). تيسير العلام، للبسام (ص342). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 456). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص159).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن أَحَبَّ الصيام إلى الله صِيَامُ داود، وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود، كان يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وكان يصوم يومًا ويُفطِرُ يومًا».
عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس حدیث کو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ صیام و قیام اس کے نبی داود علیہ السلام کا صیام و قیام ہے اور وہ یہ تھا کہ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ کیونکہ اس طرح سے عبادت بھی ہو جاتی ہے اور جسم کو آرام بھی مل جاتا ہے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام رات کے ابتدائی نصف حصے میں سو جایا کرتے تھے تاکہ خوب چست اور ہلکے پھلکے ہو کر عبادت کے لئے اٹھیں۔ چنانچہ آپ رات کا ایک تہائی حصہ نماز پڑھتے اور پھر جب آخری چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جاتے تاکہ دن کے ابتدائی حصے کی عبادت کے لئے فعال ہو جائیں۔ یہی وہ عبادت کا انداز ہے جس کی نبی ﷺ نے ترغیب دی ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

عن عبد الله بن عَمْرِو بن العاص رضي الله عنهما قال: «أُخبِر رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أقول: والله لَأَصُومَنَّ النهار، وَلَأَقُومَنَّ الليل مَا عِشْتُ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنت الذي قلتَ ذلك؟ فقلتُ له: قد قُلتُه -بأبي أنت وأمي-. فقال: فإنك لا تستطيع ذلك، فصُم وأفطِر، وَقُمْ وَنَمْ ، الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وذلك مثل صيام الدَّهْرِ. قلت: فإني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأَفطر يومين. قلت: أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأفطر يوما، فذلك مثل صيام داود، وهو أفضل الصيام. فقلت: إني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: لا أفضل من ذلك»، وفي رواية: «لا صوم فوق صوم أخي داود -شَطْرَ الدَّهَرِ-، صم يوما وأفطر يوما».
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن میں روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا، لہٰذا آپ ﷺ نے کہا: تم ہی ہو وہ شخص، جس نے یہ بات کہی ہے؟، میں نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ رات کو قیام بھی کر اور سو بھی جا اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر؛ کیوںکہ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ :میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزے کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ میرے پاس اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے رکھنا-سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کو یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما نے اس بات کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیشہ روزے سے رہیں گے؛ کبھی بے روزہ نہ رہیں گے اور ہمیشہ قیام اللیل ہی کریں گے؛ کبھی نہیں سوئیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عمل تمھارے لیے باعث مشقت ہوجائے گا اور تم اس کو برداشت نہ کرسکو گے۔ آپ ﷺ نے انھیں آرام اور عبادت دونوں ہی کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی کہ روزہ بھی رکھیں اور نہ بھی رکھیں، قیام اللیل بھی کریں اور سوئیں بھی اور ہر ماہ تین روزے ہی رکھیں؛ تاکہ انھیں سال بھر روز رہ کھنے کا اجر وثواب حاصل ہوجائے۔ لیکن انھوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ آپ ﷺ سے مزید روزوں کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ روزہ رکھنے کے افضل ترین طریقے پر یہ بات موقوف ہوگئی۔ روزہ رکھنے کا افضل ترین طریقہ داؤد علیہ السلام کا تھا؛ کیوں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن کا روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ تاہم خیر و بھلائی کی شدید خواہش کی بنا پر صحابی رسول ﷺ نے مزید روزوں کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ. خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ . صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «تُعْرَضُ الأعمالُ يومَ الاثنين والخميس، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَملي وأنا صائم». وفي رواية: «تُفْتَحُ أبوابُ الجَنَّةِ يومَ الاثنين والخميس، فَيُغْفَرُ لكلِّ عبد لا يُشْرِكُ بالله شيئا، إِلا رجلا كان بينه وبين أخيه شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنظِروا هذيْن حتى يَصْطَلِحَا، أنظروا هذين حتى يصطلحا». وفي رواية: «تُعْرَضُ الأَعْمَالُ في كلِّ اثْنَيْنِ وَخَميسٍ، فَيَغْفِرُ اللهُ لِكُلِّ امْرِئٍ لا يُشْرِكُ بالله شيئاً، إِلاَّ امْرَءاً كانت بينه وبين أخِيهِ شَحْنَاءُ، فيقول: اتْرُكُوا هذَيْنِ حتى يَصْطَلِحَا».
ابو ہريرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہےکہ: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا، سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت ہو، چناں چہ کہا جاتا ہے کہ: ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں، ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہے کہ: ”ہر سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں بندوں کے) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، تو اللہ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت و دشمنی ہو، اور اللہ کہتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

”اعمال پيش کیے جاتے ہيں“ یعنی اللہ کے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ ”سوموار اور جمعرات کو، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں“ یعنی بلندیٔ درجات میں کثرت و زیادتی طلب کرنے اجر و ثواب کے حصول کے لیے۔ اس حديث کے دوسرے الفاظ اس طرح ہيں: ”ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں“ جنت کا کھلنا حقیقت پر مبنی ہے کیوں کہ جنت مخلوق ہے۔ اور آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”ان دو دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا“ یعنی بندے کے صغیرہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے، اور رہے کبیرہ گناہ تو اس کے لیے توبہ ضروری ہے۔ اور آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”سوائے اس آدمی کے“ یعنی اس انسان کے سوا۔ ”کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان“ یعنی مسلمان بھائی کے درمیان، ”شحناء“ یعنی عداوت و دشمنی، ”چناں چہ کہا جاتا ہے کہ: ان دونوں کو مہلت دے دو“ یعنی اللہ فرشتوں سے کہتا ہے ان کے معاملے کو مؤخر کر کے انہیں مہلت دے دو، ”یہ دونوں“ یعنی یہ دونوں آدمی جن کے درمیان عداوت و دشمنی ہے اور ایسا ان کی سرزنش اور قطع تعلقی کے گناہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے، يہاں تک کہ دشمنی رفع دفع ہو جائے اور دونوں آپس ميں صلح کر ليں یعنی آپسی تعلق کو قائم کر لیں کہ جس سے دشمنی ختم ہو جائے، یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ عداوت و دشمنی اور آپسی بغض و نفرت کو جلدی ختم کرنے کی کوشش کرے، بھلے ہی وہ نفرت و عداوت کو ختم کرنے کی درخواست کرنے میں ذلت محسوس کرے۔ لھٰذا اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اجر و ثواب کی امید رکھے کیوں کہ اس سے متعلق انجام کار قابلِ ستائش ہے، اور انسان جب کسی عمل سے متعلق خیر و بھلائی اور اجر و ثواب کو جان لیتا ہے تو وہ عمل اس کے لیے آسان ہوتا ہے، ایسے ہی انسان جب کسی کام کے ترک کرنے پر وعید کو جان لیتا ہے تو اس کام کا کرنا اس کے لیے سہل و آسان ہو جاتا ہے۔

حوالہ

شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير - بيروت، الطبعة الأولى 1428هـ - 2007م. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407هـ. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة الثانية 1405 هـ - 1985م. كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ - 2009م. سنن الترمذي، تحقيق بشار عواد، دار الغرب الإسلامي – بيروت، 1998م. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، للمباركفورى، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري، الناشر:دار الفكر، بيروت - لبنان، الطبعة الأولى، 1422هـ - 2002م. فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر، الطبعة الأولى، 1356.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے دراصل روزہ ہی نہیں رکھا۔ مہینے کے تین روزے سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہیں

عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟»، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ العَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ»، قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى».
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کیا تم دن میں ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں ہمیشہ قیام کرتے ہو؟" میں نے عرض کیا: جی ہاں! تو فرمایا: "ایسا کرنے سے آنکھ تھک جائے گی اور جسم کمزور ہو جائے گا۔ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے دراصل روزہ ہی نہیں رکھا۔ مہینے کے تین روزے سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہیں" ۔ میں نے عرض کیا: میرے اندر اس سے زیادہ روزہ رکھنے کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: "تب داود علیہ السلام کا روزہ رکھو۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے اور دشمن سے مقابلے کے وقت بھاگتے نہیں تھے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطلاع ملی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سال بھر لگاتار روزہ رکھتے ہیں اور ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتے۔ اسی طرح رات رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں اور سوتے ہی نہیں ہيں۔ لہذا انھیں اس سے منع کیا اور فرمایا: روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو۔ رات میں قیام بھی کرو اور سو بھی لیا کرو۔ ان کو لگاتار روزہ رکھنے اور رات رات بھر قیام کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا کروگے، تو تمھاری آنکھ کمزور ہو جائے گی اور اندر دھنس جائے گی۔ تمھارا جسم کمزور ہوجائے گا اور تھک جائے گا۔ جس نے سال بھر روزہ رکھا، اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔ کیوں کہ نہی کی مخالفت کی وجہ سے اجر وثواب سے محروم رہا اور کھایا پیا بھی نہيں۔ اس کے بعد ان کی رہ نمائی مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی جانب فرمائی کہ یہ سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہے۔ کیوں کہ ایک دن کا ثواب دس دن کے برابر ملے گا، جو کہ نیکیوں میں اضافے کی قلیل ترین مقدار ہے۔ آپ کی اس رہنمائی کے بعد عبداللہ نے عرض کیا: میرے اندر اس سے زیادہ کرنے کی طاقت ہے۔ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر ایسا ہے، تو تم داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو سب سے افضل روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت بھاگتے نہیں تھے، کیوں کہ ان کے روزہ رکھنے کا طریقہ ان کے جسم کو کمزور نہيں ہونے دیتا تھا۔

فوائد
  1. ہر مہینے کے تین روزے سال بھر کے روزے کی طرح ہيں۔ کیوں کہ نیکی کا ثواب دس گنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح تین روزے تیس دن کے روزے ہوئے۔ اس لیے جس نے ہر مہینے تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزہ رکھا۔
  2. الله کی طرف دعوت دينے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عمل کی ترغیب دی جائے اور اس کے اجر اور اس پر ثابت قدم رہنے کا ثواب ذکر کیا جائے۔
  3. خطابی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کے قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت صرف روزے تک محدود نہيں ہے، بلکہ اور بھی مختلف طریقے کی عبادتیں ہیں۔ ایسے میں اگر بندہ اپنی پوری توانائی روزے میں صرف کر دے، تو دوسری عبادتوں میں کوتاہی کا شکار ہو جائے گا۔ لہذا یہاں میانہ روی سے کام لینا چاہیے، تاکہ دوسری عبادتوں کے لیے بھی طاقت وقوت بچی رہے۔ اس کی جانب اشارہ داؤد علیہ السلام کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ملتا ہے: "دشمن سے مقابلے کے وقت بھاگتے نہيں تھے۔" کیوں کہ وہ روزہ نہ رکھ کر جہاد کے لیے قوت حاصل کرتے تھے۔
  4. عبادت میں تعمق وتکلف کی ممانعت۔ خیر سنت کے التزام میں ہے۔
  5. جمہور اہل علم کے یہاں بلاناغہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے نفس پر سختی کرے، اسے نقصان پہنچائے، اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے اعراض کرے اور غیر سنت کو سنت سے افضل سمجھے تو حرام ہو جائے گا۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 40) (1979). صحيح مسلم (2/ 812) (1159). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 214). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 297).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
14 میں سے 8
14 احادیث
  1. رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔
  2. جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔
  3. تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو۔
  4. مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
  5. اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے۔
  6. میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
  7. سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں
  8. جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے دراصل روزہ ہی نہیں رکھا۔ مہینے کے تین روزے سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہیں
  9. اللہ کے رسول ﷺ سوموار اور جمعرات کا روزہ خاص اہتمام سے رکھتے تھے۔
  10. نبی کریم ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔
  11. اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔
  12. اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو۔
  13. کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔
  14. رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com