سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔

عن معاذة العدوية: أنها سألتْ عائشةَ رضي الله عنها : أكانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثة أيَّامٍ؟ قالتَ: نعم. فقلتُ: مِنْ أيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوم؟ قالتَ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أيِّ الشَّهْرِ يَصُومُ.
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ’ہاں‘ ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ مہینے کے کس حصے میں روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اس کی فکر نہیں کیا کرتے تھے کہ مہینے کی کن تاریخوں میں روزے رکھیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔ یعنی کم از کم آپ ﷺ مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ ”میں نے پوچھا کہ وہ مہینے کے کس دن روزہ رکھا کرتے تھے“ اس میں ہفتے کے دنوں سے احتراز ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ مہینے کے ابتدائی حصے میں روزہ رکھا کرتے تھے یا پھر اس کے درمیانی یا آخری حصے میں اور پہ درپہ رکھا رکھا کرتے تھے یا پھر الگ الگ؟۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مہینے کے دنوں کو متعین کرنے کی فکر نہیں کیا کرتے تھے بلکہ بلا تخصیص روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ثواب ہر صورت میں ملتا ہے چاہے کوئی بھی دن ہو۔ یعنی آپ ﷺ اپنی مرضی سے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی مشغولیت ایسی ہوتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ اس بات کی رعایت نہیں کرسکتے تھے یا پھر آپ ﷺ ایسا بیان جواز کے لئے کرتے تھے۔ بہرطور جیسے بھی رکھیں آپﷺ کے حق میں وہ افضل ہی ہیں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح؛ تأليف ملا علي القاري، تحقيق صدقي العطار، دار الفكر-بيروت، الطبعة الأولى، 1412هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نفلی روزہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com