اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطلاع ملی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سال بھر لگاتار روزہ رکھتے ہیں اور ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتے۔ اسی طرح رات رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں اور سوتے ہی نہیں ہيں۔ لہذا انھیں اس سے منع کیا اور فرمایا: روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو۔ رات میں قیام بھی کرو اور سو بھی لیا کرو۔ ان کو لگاتار روزہ رکھنے اور رات رات بھر قیام کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا کروگے، تو تمھاری آنکھ کمزور ہو جائے گی اور اندر دھنس جائے گی۔ تمھارا جسم کمزور ہوجائے گا اور تھک جائے گا۔ جس نے سال بھر روزہ رکھا، اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔ کیوں کہ نہی کی مخالفت کی وجہ سے اجر وثواب سے محروم رہا اور کھایا پیا بھی نہيں۔ اس کے بعد ان کی رہ نمائی مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی جانب فرمائی کہ یہ سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہے۔ کیوں کہ ایک دن کا ثواب دس دن کے برابر ملے گا، جو کہ نیکیوں میں اضافے کی قلیل ترین مقدار ہے۔ آپ کی اس رہنمائی کے بعد عبداللہ نے عرض کیا: میرے اندر اس سے زیادہ کرنے کی طاقت ہے۔ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر ایسا ہے، تو تم داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو سب سے افضل روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت بھاگتے نہیں تھے، کیوں کہ ان کے روزہ رکھنے کا طریقہ ان کے جسم کو کمزور نہيں ہونے دیتا تھا۔
- ہر مہینے کے تین روزے سال بھر کے روزے کی طرح ہيں۔ کیوں کہ نیکی کا ثواب دس گنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح تین روزے تیس دن کے روزے ہوئے۔ اس لیے جس نے ہر مہینے تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزہ رکھا۔
- الله کی طرف دعوت دينے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عمل کی ترغیب دی جائے اور اس کے اجر اور اس پر ثابت قدم رہنے کا ثواب ذکر کیا جائے۔
- خطابی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کے قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت صرف روزے تک محدود نہيں ہے، بلکہ اور بھی مختلف طریقے کی عبادتیں ہیں۔ ایسے میں اگر بندہ اپنی پوری توانائی روزے میں صرف کر دے، تو دوسری عبادتوں میں کوتاہی کا شکار ہو جائے گا۔ لہذا یہاں میانہ روی سے کام لینا چاہیے، تاکہ دوسری عبادتوں کے لیے بھی طاقت وقوت بچی رہے۔ اس کی جانب اشارہ داؤد علیہ السلام کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ملتا ہے: "دشمن سے مقابلے کے وقت بھاگتے نہيں تھے۔" کیوں کہ وہ روزہ نہ رکھ کر جہاد کے لیے قوت حاصل کرتے تھے۔
- عبادت میں تعمق وتکلف کی ممانعت۔ خیر سنت کے التزام میں ہے۔
- جمہور اہل علم کے یہاں بلاناغہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے نفس پر سختی کرے، اسے نقصان پہنچائے، اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے اعراض کرے اور غیر سنت کو سنت سے افضل سمجھے تو حرام ہو جائے گا۔
صحيح البخاري (3/ 40) (1979). صحيح مسلم (2/ 812) (1159). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 214). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 297).