سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟

عن أبي موسى رضي الله عنه مرفوعاً: «ما من ميِّت يموت فيقوم باكِيهم فيقول: واجَبَلَاه، واسَيِّدَاه، أو نحو ذلك إلا وُكِّلَ به مَلَكَان يَلْهَزَانِه: أهكذا كُنت؟».
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟“
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

مسلمان کی جب وفات ہوتی ہے اور كوئی اس کی میت پر کھڑا ہو کر روتا اور نوحہ کرتا ہے اورجھوٹ موٹ ہی کہتا جاتا ہے کہ مرنے والا اس کے لئے پہاڑ کی مانند تھا جس کی طرف وہ مصائب میں رجوع کیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ اس کا سہارا اور پناہ گاہ تھا یا اس طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے تو اس مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کے سینے پر مارتے ہوئے اس سے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں : کیا تم ایسے ہی تھے جیسے کہا جا رہا ہے؟

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ عمدة القاري، شرح صحيح البخاري، تأليف: محمود بن أحمد بن موسى العيني، الناشر: دار إحياء التراث العربي. رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
موت اور اس سے متعلق احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com