عن عَائِشَةَ رضيَ الله عنها قالت: إِنِّي سمعْتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت ہو“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ انسان کا دل کھانے میں لگا رہے اور وہ پوری توجہ کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے۔
اسی طرح اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، جب پیشاب پاخانہ کی بہت زیادہ حاجت ہو اور انسان ذہنی طور پر مشغول ہونے کی وجہ سے نماز پر توجہ مرکوز نہ کر سکے۔
فوائد
انسان کو نماز میں داخل ہونے سے پہلے ان تمام چیزوں سے دور ہو جانا چاہیے، جو اس کی توجہ کو نماز پر مرکوز ہونے نہيں دیتیں۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 393) (560).
شرح النووي على مسلم (5/ 46).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص96).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 123).
عن معاوية بن الحَكم السُّلَمي رضي الله عنه قال: بَيْنَا أنا أُصلِّي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، إذ عَطَس رجُل من القوم، فقلت: يَرْحَمُكَ الله، فَرَمَانِي القوم بأبْصَارهم، فقلت: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، ما شَأنُكُم تنظرون إليَّ؟، فجعلوا يضربون بأيْدِيهم على أفْخَاذِهم، فلما رأيتهم يُصَمِّتُونَنِي لكنِّي سَكَتُّ، فلما صلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَبِأَبِي هو وأمِّي، ما رأيت معَلِّما قَبْلَه ولا بَعده أحْسَن تَعليما منه، فوالله، ما كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبني وَلَا شَتَمَنِي، قال: «إن هذه الصلاة لا يَصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التَّسبيح والتَّكبير وقراءة القرآن»، أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: يا رسول الله، إنِّي حديث عَهد بِجَاهلية، وقد جاء الله بالإسلام، وإن مِنَّا رجَالا يَأتون الكُهَّان، قال: «فلا تَأْتِهِم» قال: ومِنَّا رجَال يَتَطَيَّرُونَ، قال: ذَاك شَيء يَجِدونه في صُدورهم، فلا يَصُدَّنَّهُمْ -قال ابن الصَّبَّاحِ: فلا يَصُدَّنَّكُم- قال قلت: ومِنَّا رجال يَخُطُّونَ، قال: «كان نَبِي من الأنبياء يَخُطُّ، فمن وافق خَطَه فَذَاك»، قال: وكانت لي جَارية تَرعى غَنَما لي قِبَل أُحُدٍ والْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذات يوم فإذا الذِّيب قد ذهب بِشَاة من غَنَمِهَا، وأنا رجُلٌ من بَني آدم، آسَف كما يَأْسَفُونَ؛ لكني صَكَكْتُهَا صَكَّة، فَأَتَيْت رسول الله صلى الله عليه وسلم فَعظَّم ذلك عليَّ، قلت: يا رسول الله أفلا أُعْتِقُهَا؟ قال: «ائْتِنِي بها»، فَأَتَيْتُهُ بها، فقال لها: «أَيْن الله؟» قالت: في السَّماء، قال: «من أنا؟»، قالت: أنت رسول الله، قال: «أَعْتِقْهَا، فَإِنها مُؤْمِنَةٌ».
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ”یَرحَمُکَ اللہ“ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا۔ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔یارسولﷺ نے اس جیسی بات کہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا ہے (اور مجھے اس سے شرف یاب کیا ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے ۔ تم اس طرح نہ کرو۔ پھر میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے۔ چنانچہ جس آدمی کا لکیر کھینچنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ راوئ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا۔ میں نے عرض کیاکہ کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے جواب دیا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ وہ قصہ بیان کر رہے ہیں جواس وقت پیش آیا جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ باجماعت نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں سنائی دیا کہ ایک شخص نے چھینک مار کر الحمدللہ کہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کے اس قول کا جلدی سے جواب دیا جیسا کہ قاعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہےاور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی یرحمک اللہ کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ چھینکنے والے کا جواب دینے کا استحباب نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں ہے۔
” لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا“ یعنی بغیر بولے انہوں نے آنکھوں سے ان کو اشارہ کیا اور خشمگیں نظروں سے انہیں گھورا تاہم معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس ناگواری کا سبب نہ جان سکے چنانچہ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ” میری ماں مجھے گم پائے“ يعنی ہائے میری ماں مجھے گم پائے اور میں ہلا ک ہوا۔ تمہیں کیا ہوا ہے اور کیا بات ہے؟ تم غصہ بھری نگاہوں سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ ”وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے“ یعنی ان لوگوں کی ان پر ناگواری مزید بڑھ گئی اور وہ ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں اور بولنا بند کر دیں چنانچہ وہ چپ ہو گئے۔
پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا یعنی جب میں جان گیا کہ وہ مجھے گفتگو سے خاموش ہونے کو کہہ رہے ہیں تو مجھے ان کی طرف سے بہت زیادہ ناگواری کے اظہار پرحیرت ہوئی کیونکہ اپنےعمل کی برائی سے میں ناواقف تھا۔ میں نے ارادہ تو کیا کہ ان سے جھگڑوں تاہم حکم کی تعمیل میں مَیں چپ ہو گیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ باعلم تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے غصے کو چھوڑ دیا اور وجہ دریافت نہ کی۔
جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز ختم کی اور اس سے فارغ ہوئے۔
”فَبِأَبِي هو وأمِّي“ یعنی میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ یہ قسم نہیں۔ بلکہ یہ صرف ماں باپ کو فدا کرنے کا اظہار ہے۔
میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا کیونکہ نبی ﷺ نہ ان سے درشتگی سے پیش آئے اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ایسے طریقے سے شرعی حکم کی وضاحت کی جسے انسان فورا قبول کرلیتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ کوئی سخت بات کہی۔ نہ ہی مجھے مارا میں نے حکم شرعی کی جو مخالفت کی تھی اس پر آپ ﷺ نے مار کر میری تادیب نہ کی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی درشت بات کہی بلکہ آپ ﷺ نے نرمی کے ساتھ میرے سامنے حکم شرعی کی وضاحت فرمائی اور فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی آپس کی بات چیت درست نہیں، بلکہ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت کا نام ہے“ یعنی نماز میں لوگوں کا آپس میں بات چیت کرنا جائز نہیں۔ ابتدائےاسلام میں اسے روا رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نماز میں صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یعنی مجھے جاہلیت کو چھوڑے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔ جاہلیت کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جو شریعت کے آنے سے پہلے تھی۔ اسے جاہلیت کا نام ان لوگوں کی بہت زیادہ جہالت اور برائی کی وجہ سے دیا گیا۔ میں کفر سے اسلام کی طرف منتقل ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک مجھے دین کے احکام کا علم نہیں ہے۔ ان کے کچھ ساتھی کاہنوں کے پاس جاتے اور ان سے مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امور کے بارے میں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ، کاہنوں کے پاس آنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ وہ غیبی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بات صحیح نکل آتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لیے بہت سے شرعی امور کو مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ کئی صحیح احادیث میں کاہنوں کے پاس آنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے کی ممانعت اور ان کی دی گئی شیرینی کے حرام ہونے کا حکم آیا ہے۔
ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں، تَطَیّر کا معنی ہے کسی دیکھی یا سنی گئی بات یا پھر کسی وقت یا جگہ سے برا شگون لینا۔ عرب لوگ بدشگونی لینے میں معروف تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ کرتا اور پھر پرندے کو دائیں یا بائیں جانب جاتے ہوئے دیکھ لیتا جیسا کہ ان کے ہاں معروف تھا تو وہ اپنے ارادے سے بازآجاتا۔اسی طرح کوئی شخص کسی آواز کو سن کر یا کسی آدمی کو دیکھ کر اس سے برا شگون لیتا۔ بعض لوگ نکاح کے سلسلے میں شوال کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ بعض لوگ بدھ کے دن یا صفر کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ ان سب باتوں کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انسان کی عقل، سوچ اور طرزِعمل کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ انسان کا ان امور کی پرواہ نہ کرنا ہی دراصل اللہ پر توکل ہے۔
”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے“ یعنی بدشگونی ایسی شے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو ہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان پر کوئی عتاب بھی نہیں۔ اسے وہ خود سے نہیں لاتے چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی ان پرعائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے امور میں تصرف کرنے سے نہ رکیں۔ اس بات پر انہیں قدرت حاصل ہے چنانچہ اس کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے بدشگونی پرعمل کرنے اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے کاموں سے رک جائیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں بدشگونی کی ممانعت آئی ہے۔ بدشگونی کو یہاں بدشگونی پر عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس سوچ پر جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تاہم لوگوں کے ہاں اس کا جو تقاضا ہوتا ہے اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔
”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“ عربوں کے ہاں ”خط“ یہ تھا کہ کاہن آکر اپنے سامنے موجود لڑکے کو حکم دیتا کہ وہ ریت میں بہت سی لکیریں کھینچے۔ پھر اسے کہتا کہ وہ دو دو کر کے ان کو مٹاتا جائے۔پھر وہ ان لکیروں میں جوآخری لکیریں بچ جاتی ان کو دیکھتا۔ اگر باقی ماندہ لکیریں جفت (جوڑ) ہوتیں تو یہ فلاح و کامیابی کی دلیل ہوتی اور اگر اکیلی (طاق) ہوتی تو یہ نامرادی اور مایوسی کی دلیل ہوتی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے یعنی وہ نبی ریت میں کھینچی گئی لکیروں کی طرح لکیرں کھینچتے اور ان لکیروں کے توسط سے فراست کے بل بوتے پر امور کو جاننے کی کوشش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نبی ادریس علیہ السلام یا دانیال علیہ السلام تھے۔ ”فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ“ یعنی جس کا خط اس نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے موافق ہو گیا۔ ”فَذَاك“ یعنی جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہو گیا اس کے لیے یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے اس موافقت کا یقینی طور پرعلم ہو سکے اس لیے ایسا کرنا مباح نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ یہ جائز صرف اسی وقت ہو گا جب موافقت کا یقین ہو جائے اوراس کا یقین ہمیں ہو نہیں سکتا۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ایسا کرنا ہماری شریعت میں منسوخ ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ علم رمل اس نبی کی نبوت کی علامت ہو اور چونکہ ان کی نبوت ختم ہو چکی اس لیے ہمیں اسے اپنانے سے منع کر دیا گیا۔ بہرحال یہ حدیث علم رمل پر عمل کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اس کے جائز ہونے پر۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم رمل کے بارے میں لوگوں کے طرزِعمل اور اس کے فاسد ہونے کی بھی نشاندہی ہے کیونکہ موافقت کا تقاضا ہے کہ اس کا علم ہو اور علم دو طریقوں میں سے کسی سے حاصل ہو سکتا ہے:
اول: اس علم کی کیفیت کے بیان میں کوئی صریح اورصحیح نص موجود ہو۔
دوم: اس نبی سے لے کر ہمارے نبی ﷺ کے دور تک یہ تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اور یہ دونوں ہی باتیں موجود نہیں۔
یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ انبیاء علمِ غیب کی طرف دعوت نہیں دیتے اور نہ ہی لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کو علمِ غیب حاصل ہے۔ لوگوں کو انہوں نے امورِغیب میں سے جو کچھ بتایا وہ انہیں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی علم ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا﴾ ”وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے(غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے“۔ (الجن 26، 27) کیونکہ علمِ غیب اللہ نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو شخص بھی اپنے بارے میں اس کا دعوی کرے گا وہ ربوبیت کی بعض خصوصیات کا حامل ہونے کا مدعی ہو گا اور یہی کچھ اس کاروبار کے کرنے والے کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ان لوگوں کے اس جھوٹے دعوے کا پول کھل جاتا ہے کہ یہ نبی ان کے استاد ہیں۔
معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی یعنی ان کی ایک باندی تھی جو احد کے قریب واقع ایک جگہ پر ان کی بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے یعنی انہیں پتا چلا کہ بھیڑیے نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ ڈالا ہے۔ اگرچہ بھیڑ بکریاں ان کی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ ”اس باندی کی بھیڑ بکریاں“یعنی جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے، ”اسف“ کا معنی ہے: غصہ، یعنی بھیڑیے کے بھیڑ کو کھا لینے کی وجہ سے میں اس پر غصے ہوا۔ چنانچہ میں نے اسے سختی کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جیسا کہ غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ اسے ایک تھپڑ مارنے پر ہی اکتفاء کیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا، اس باندی کو تھپڑ مارنے کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے ان کا باندی کو تھپڑ مارنا بہت بڑا عمل جانا۔ جب معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ پر ان کے اس عمل کا بہت اثر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے دل پر لیا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ یعنی اسے مارنے کے بدلے میں اسے میں غلامی سے آزاد کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کرآؤ۔چنانچہ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ یعنی وہ معبود کہاں ہے جو عبادت کا حق دار اور صفات کمال سے متصف ہے؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: تیرا رب کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے اس سوال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہی کہ وہ موحّد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایسی بات پوچھی جس کا مقصود سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اللہ کے آسمان میں ہونے پر اعتقاد رکھنا موحدین کی علامت ہے۔ اس نے کہا: آسمان میں۔ یہاں سے ”السماء“ سے مراد ”اوپر“ ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہرشے سے بالا تر اپنے عرش کے اوپر ہے جو کہ مخلوقات کے لیے چھت ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ یہ مومنہ ہے۔ جب اس نے اللہ کےاوپر ہونے اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دے دی تو آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کی دلیل تھی۔
حوالہ
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
معالم السنن (شرح سنن أبي داود)، أبو سليمان حمد بن محمد المعروف بالخطابي، الناشر: المطبعة العلمية، حلب، الطبعة: الأولى 1351هـ، 1932م.
إكمال المعلم بفوائد مسلم، عياض بن موسى اليحصبي السبتي، المحقق: يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1998م.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1392هـ.
شرح سنن أبي داود، محمود بن أحمد بدر الدين العيني، تحقيق: خالد بن إبراهيم المصري، الناشر: مكتبة الرشد، الرياض، الطبعة: الأولى، 1420 هـ،1999م.
مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري ، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م.
شرح سنن أبي داود، عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م.
التنجيم والمنجمون وحكم ذلك في الإسلام، عبد المجيد بن سالم المشعبي، الناشر: أضواء السلف، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الطبعة: الثانية 1419هـ، 1998م.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، الطبعة: الأولى 1427هـ.
القول المفيد على كتاب التوحيد، محمد بن صالح العثيمين، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية, الطبعة: الثانية 1424هـ.
رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
معجم اللغة العربية المعاصرة، أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى 1429هـ، 2008م.
عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يصلي الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے آدمی کو اپنی کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، 1423 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، 1432 هـ.
عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تكره أن يجعل يده في خَاصِرَتِهِ، وتقول: إن اليهود تفعله.
عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حالتِ نماز میں اپنے ہاتھ کو کوکھ پر رکھا جائے۔ وہ فرماتی تھیں کہ ایسا یہودی کرتے ہیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ کوئی شخص حالتِ نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے اور اس کی وجہ اور سبب یہ بیان کیا کہ یہ یہودیوں کا فعل ہے۔
حوالہ
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003م.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
عن أبي ذر رضي الله عنه مرفوعًا: «إذا قام أَحَدُكُمْ إلى الصلاة؛ فإنَّ الرَّحمة تُوَاجِهُهُ، فلا يَمْسَح الحَصَى».
وعن معيقيب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: في الرجل يُسَوِّي التُّراب حيث يسجُد، قال: «إِنْ كُنْت فاعِلا فَوَاحِدة».
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“۔
مُعَیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک ہی بار کرو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج ذیل باتوں کا بیان ہے:
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو“ یعنی جب وہ نماز شروع کر دے۔ مطلب تکبیرِ تحریمہ سے پہلے کنکریاں صاف کرنا ممنوع نہیں ہے۔
”وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“ یعنی کسی معمولی چیز کی وجہ سے نماز سے رو گردانی نہ کرے کیوں کہ اس سے نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتا ہے جو نماز کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے ملا کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب ایسا سجدے کے مقام کو درست کرنے کے لیے نہ کیا جائے وگرنہ بقدر ضرورت ایک دفعہ ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ "حصی" چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں۔ یہاں کنکریوں کا ذکر تغلیبا ہوا ہے کیوں کہ مساجد کے فرش پر عموما یہی ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کنکریوں، مٹی اور ریت کےمابین کوئی فرق نہیں۔
معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو سجدے میں جاتے وقت مٹی برابر کرتا تھا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کرلو۔
”آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں کہا“ یعنی جس نے آپ ﷺ سے اپنے متعلق پوچھا تھا، کہ وہ جہاں سجدہ کرتا ہے اس جگہ کی مٹی کو برابر کرتا ہے۔ یعنی سجدے کی جگہ کو برابر کرتا ہے یا اس پر سجدہ کرنے کے لیے اسے برابر کرتا ہے۔ (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)
آپ ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہو اورؤتمہیں اس کی ضرورت ہو تو پھر ایک دفعہ کرلیا کرو، ایک سے زیادہ بار نہ کرو۔ چنانچہ کنکریوں کو صاف کرنا مکروہ ہے اِلاّ یہ کہ کنکریوں کی وجہ سے سجدہ کرنا ممکن نہ ہو یعنی یہ بہت زیادہ اوپر نیچے ہوں اور پیشانی اس پر اتنی دیر نہ ٹھہر سکتی ہو جس سے فرض پورا ہو سکے۔ اس صورت میں ایک یا دو دفعہ انھیں برابر کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں دو روایات ہیں۔ ایک روایت میں ایک دفعہ برابر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دو بار برابر کرنے کا ذکر ہے۔ دونوں میں سے جو روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مطابق ایک ہی دفعہ برابر کرے، اس سے زیادہ دفعہ نہیں۔
”رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے“ میں نہی کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ (نماز میں) اس پر رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ نہی کی علت ہے۔ یعنی کسی عقل مند کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اتنے ہیچ کام میں لگ کر اتنی عظیم الشان نعمت کو وصول کرے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کنکریاں صاف کرنے سے ممانعت اس لیے وارد ہے کہ نمازی اپنے دل کو کسی ایسے کام میں مشغول نہ کرے جو اسے اس کی طرف آنے والی اللہ کی رحمت سے غافل کر دے اور یوں وہ اس سے اپنا حصہ پانے سے محروم رہ جائے۔
حوالہ
سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد.
سنن ابن ماجه، ابن ماجه محمد بن يزيد القزويني، تعليق: محمود خليل، مكتبة أبي المعاطي.
المجتبى من السنن ( السنن الصغرى )، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية 1406هـ، 1986م.
سنن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1412هـ، 2000م.
سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي، بيروت.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: سَألتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتِفَات في الصلاة؟ فقال: «هو اخْتِلاس يَختَلِسُهُ الشَّيطان من صلاة العَبْد».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بندے کی نماز سے شیطان کا کچھ اُچک لینا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے نماز کے دوران ادھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ یہ نماز کے لیے نقصان دہ ہے یا اس میں کوئی فرق پیدا کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان بندے کی نماز سے جلدی اور خفیہ طریقے سے اُچک لیتا ہے، جس کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثواب کم ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.
المغني، تأليف: أبي محمد موفق الدين عبد الله بن أحمد بن محمد، الشهير بابن قدامة المقدسي، الناشر: مكتبة القاهرة، الطبعة: بدون طبعة.
كشاف القناع عن متن الإقناع، تأليف: منصور بن يونس بن صلاح الدين البهوتي الحنبلي، الناشر: دار الكتب العلمية.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427هـ -2006 م.
فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1427 هــ 1431هـ.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى نُخْامَة في القِبْلَة، فَشَقَّ ذلك عليه حتى رُئِي في وجْهِه، فقام فَحَكَّه بِيَده، فقال: «إن أحدكم إذا قام في صلاته فإنه يُنَاجِي رَبَّه، أو إن رَبَّه بينه وبين القِبْلَة، فلا يَبْزُقَنَّ أحدُكم قِبَل قِبْلتِه، ولكن عن يَسَاره أو تحت قَدَمَيه» ثم أخذ طَرف رِدَائِه، فَبَصَقَ فيه ثم ردَّ بَعْضَهُ على بعض، فقال: «أو يفعل هكذا».
انس بن مالک روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو لگے دیکھا جو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: یا اس طرح کر لیا کرے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے مسجد کی قبلہ کی طرف والی دیوار میں بلغم لگا دیکھا تو آپ ﷺ کو یہ بہت ناگوار گزرا یہاں تک کہ ناگواری کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے خود کھڑے ہو کر اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے، اپنے رب کے سامنے اظہار تواضع کے لئے اور اس کے گھر کی محبت کے اظہار کی غرض سے اپنے ہاتھ مبارک سے اس بلغم کو دور کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کا ذکر کر رہا ہوتا ہے اور اس سے دعا میں مشغول ہوتا ہے اور اس کی آیات کی تلاوت کررہا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقام کے لائق یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرے، اس ذات کی عظمت کو یاد رکھے جس سے وہ ہم کلام ہے اور دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو اور اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی طرح کی بے ادبی کرنے سے باز رہے۔چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ قبلہ کی سمت میں نہ تھوکے۔ پھر آپ ﷺ نے اس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جس کا نمازی کے لیے اس طرح کی صورت میں کرنا مناسب ہے۔ یعنی وہ اپنے بائیں جانب تھوکے یا پھر اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے یا پھر اپنے کپڑے وغیرہ میں تھوکے اور پھر اسے دور کرنے کے لئے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دے۔
نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ اس بات كا احساس ركھے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے ہے اوریہ کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اگرچہ وہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے، پھر بھی وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“ (سورہ شوری: 11)۔
اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا ہے یا پھر وہ اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں نمازی نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالی نمازی اور دعا کرنے والے کے اس طور پر قریب ہوتا ہے جو اس کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اللہ کا قرب ایسا نہیں ہوتا جیسا مخلوق کا مخلوق سے قرب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو خالق بزرگ و برتر کا مخلوق کے ساتھ قرب ہے۔ مخلوقات میں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سورج ہوتا ہے۔ سورج گو آپ کے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلوع و غروب ہونے کی حالت میں آپ کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ وللہ المثل الأعلى.
حوالہ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
معجم لغة الفقهاء، تأليف: محمد رواس قلعجي - حامد صادق قنيبي، الناشر: دار النفائس للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988م.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: عبيد الله بن محمد المباركفوري، الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الطبعة: الثالثة - 1404 هـ.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ _ 2006 م.
فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى ، 1427 هـ ـ 1431هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 150) (750).
كشاف القناع عن متن الإقناع، لمنصور بن يونس البهوتي (2/ 404).
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 101).
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 587).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (2/ 159).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com