سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا کچھ اُچک لینا ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: سَألتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتِفَات في الصلاة؟ فقال: «هو اخْتِلاس يَختَلِسُهُ الشَّيطان من صلاة العَبْد».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بندے کی نماز سے شیطان کا کچھ اُچک لینا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے نماز کے دوران ادھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ یہ نماز کے لیے نقصان دہ ہے یا اس میں کوئی فرق پیدا کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان بندے کی نماز سے جلدی اور خفیہ طریقے سے اُچک لیتا ہے، جس کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثواب کم ہوتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. المغني، تأليف: أبي محمد موفق الدين عبد الله بن أحمد بن محمد، الشهير بابن قدامة المقدسي، الناشر: مكتبة القاهرة، الطبعة: بدون طبعة. كشاف القناع عن متن الإقناع، تأليف: منصور بن يونس بن صلاح الدين البهوتي الحنبلي، الناشر: دار الكتب العلمية. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427هـ -2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1427 هــ 1431هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نمازیوں کی غلطیاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com