ایک دن نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔ (دوران نماز) آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتےاتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انھوں نے آپﷺ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے۔رسول اللہﷺ جب نماز سے فارغ کر ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو انھیں جس حالت میں نماز میں داخل ہوئے تھے، اس سے الگ حالت میں پایا۔ ان سے اس کا سبب دریافت کیا۔ تو انھوں نے جواب دیا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں، تو ہم نے بھی اتار دیے“ یعنی آپ کی اتباع کرتے ہوئے۔ انھوں نے سمجھا کہ شاید جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا جواز منسوخ ہو گیا ہے۔ رسول اللہﷺنے انھیں اپنے جوتے اتارنے کا سبب بیان کرتےہوئے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ -یا پھر کہا کہ کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی ہے“ یعنی جبریل نبی کریمﷺکے پاس حالت نماز میں تشریف لائے اور آپ ﷺکو اطلاع دی کہ آپ کے جوتوں میں گندگی یا ناپاکی -اس میں راوی کو شک ہے- لگنے کی وجہ سے ان میں نماز کی ادائیگی درست نہیں۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے۔ اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے“۔ جب کوئی شخص جوتوں سمیت مسجد میں آئے اور جوتوں سمیت نماز پڑھنا چاہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جوتوں کودیکھ لے۔ اگر ان میں گندگی یا ناپاکی لگی ہو، تو انھیں زمین یا کسی اور چیز سے رگڑ کر ناپاکی کو زائل کر لے اور پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جوتوں سمیت نماز پڑھنا واجب ہے، بلکہ پڑھ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اگر ارادہ جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا ہے، تو پھر ضروری ہوگا کہ پہلے ان کی نظافت کا تیقن کر لے، پھر نماز پڑھے۔ جس نے نماز شروع کر دی اور نجاست کا خیال نہ رہا؛ چاہے نجاست اس کے جوتوں، چوغے، ٹوپی، یا کپڑوں میں ہو، پھر دوران نماز اس سے آگاہ ہوگیا، تو فورا اسے اتار دے۔ نجاست اگر اس کے کپڑے یا پاجامے میں ہو اور ستر عورت کے ساتھ اسے ہٹانا ممکن ہو، تو اسے اتار دے اور نماز جاری رکھے۔ نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر اس کو اتارنے سے نماز میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو پھر نماز توڑ دے ،اپنا ستر ڈھانکے اور نماز کو دوہرائے۔
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ. سنن الدارمي، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن الفضل الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني الناشر: دار المغني للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة الثالثة، 1985م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة الأولى، 1422هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية الطبعة الأولى، 1435 هـ - 2014 م. شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.