جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا قُدِّمَ العَشَاءُ ، فابدءوا به قبل أن تُصَلُّوا صلاة المغرب، ولا تَعْجَلوا عن عَشَائِكم».
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جب کھانا حاضر ہو جائے اور نماز کا وقت بھی قریب آ جائے تو نماز پڑھنے سے قبل کھانے کو تناول کرلو اگر چہ نماز کا وقت تھوڑا یا محدود وقت ہو جیساکہ نماز مغرب ہے، تاکہ نمازی کا ذہن کھانے میں مشغول نہ رہے۔
ابو درداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقلمندی اسی میں ہے کہ پہلے وہ اپنی حاجت پوری کر لے تاکہ جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو اس کا دل فارغ ہو۔ (امام بخاری نے تعلیقاً اسے روایت کیا ہے)
حوالہ
صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان، ط 1 ،1427هـ /2006م.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com