سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وضو کے نواقض

8 احادیث

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم على عَهدِه ينتظرون العشاء حتى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ، ثم يصلُّون ولا يَتَوَضَّئُونَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کريم ﷺ کی زندگی ميں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے پَر گہری نیند نہ سوتے، پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔ آپ ﷺ کے زمانے میں کسی نے کوئی کام کيا اور آپ ﷺ نےاس پر نکیر نہ فرمائى تو اسے اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اور اقرار بھی سنت نبوی کا ايک روپ (قسم) ہے جو قول، یا فعل یا تقريرپر مشتمل ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے زمانے میں جو کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر نکیر نہ فرمائیں تو اسے تقریری سنت (حدیث) شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر ان کی نماز باطل ہوتی یا ان کا یہ فعل جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں اس پرمتنبہ فرماتے۔ اس لیے کہ یا تو آپ کو اس کے باطل ہونے کے علم ہوتا یا بذريعۂ وحی آپ کو بتلادیا جاتا۔ بر خلاف اس کے جو آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ ”تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ“ یعنی اونگھ کے غلبے کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے۔ ايک دوسری روايت ميں ہے: ”صحابی فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ میں کسی کے خرّاٹوں کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے“۔ ايک اور روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام اپنے پہلؤوں کو (زمين پر) رکھ لیتے تھے، پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے، كيونکہ ان کی نیند گہری نہیں ہوتی تھی، اور دوسرے اس لیے کہ اگر ان کی نیند سے وضو ٹوٹتا تو آپ ﷺ انہیں اس پر برقرار نہ رکھتے۔ دلائل کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے ہم نے يہ بات کہی ہے۔ کيونکہ یہ بات ثابت ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے بول وبراز سے ٹوٹ جاتا ہے جيسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”لیکن پیشاب، پاخانہ اور نیند سے“۔ اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے جیساکہ علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کر لے“۔ نیز معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت ميں ہے کہ: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، جب آنکھيں سو جاتى ہيں تو بندھن ڈھيلا ہوجاتا ہے“ ان دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جب کہ باب كى حديث اور اس کے ساتھ جو دوسری روايتيں ہیں، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ چنانچہ اسی کے پیشِ نظر باب كى حديث اور ”خراٹے اور پہلو رکھنے“ والی روایت کی تاویل کی جائے گی کہ یہ نیند اتنی گہری نہیں تھی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ کيونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی ابتدائی نیند میں خرّاٹے لیتا ہو، اور پہلو رکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نیند گہری ہو، جیسا کہ یہ بات ظاہر ہے۔ اس طرح تمام دلائل یکجا ہوجاتے ہیں اور ان سب پر عمل ہوجاتا ہے۔ اور جب دلائل کے درميان تطبيق ممکن ہو، تو یہ بعض روایات کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ خلاصۂ كلام يہ ہے کہ جب انسان سو جائے اور اس کی نیند اتنی گہری ہو جائے کہ وه پوری طرح سے شعور وادراک کوکھو دے، تواس کے لیے وضو کرنا لازم ہے۔ اور اگر نیند گہری نہ ہو تو وضو کرنا لازم نہیں ہوگا۔ اگرچہ احتیاطاً عبادت کے لیے بہتر اور محتاط رویہ يہی ہے کہ وہ وضو کرلے۔ اور اگر کسی کو شک ہو کہ آیا اس کی نیند گہری تھی یا نہیں؟ تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ اصل طہارت کا باقی رہنا ہے اور یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ نیند جس میں شک ہو کہ آیا اس میں ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ طہارت (پاکی) یقین کے ساتھ ثابت ہے، اوریقین شک کى وجہ سے ختم نہیں ہوتا۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. صحيح وضعيف سنن أبي داود، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431 هـ. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔

عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ بعض نسائه، ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضَّأ»، قال: قلت: من هي إلا أنت؟ فَضَحِكت.
عُروہ رحمہ اللہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔ عروہ نے کہا: وہ آپ کے علاوہ کون ہو سکتی ہیں؟ تو وہ ہنسنے لگیں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی کسی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر بغیر وضو کئے نماز کے لیے چلے گئے۔ پھر عروہ رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں، اس معاملے کو سمجھ گئے اور جان گئے کہ حدیث میں جو بیوی مذکور نہیں وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں۔ جب عروہ نے ان کو اس بارے میں بتلایا تو وہ ہنسنے لگیں، جو اس بات کا اقرار تھا کہ وہ ٹھیک سمجھے ہیں۔ ”وَلَمْ يَتَوَضَّأْ“ اور وضو نہیں کیا۔ اور اصل بات یہی ہے کہ: شوہر کے اپنے بیوی کو چھُونے یا بوسہ دینے سے وضو بالکل نہیں ٹوٹتا، خواہ یہ بوسہ دینا شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ہو۔ اس لیے کہ اصل وضو اور طہارت کا باقی رہنا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں کسی دوسری دلیل کے بغیر یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اس پر کوئی دلیل موجود نہیں کہ عورت کو مطلقاً چھُونےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اصل طہارت کا باقی رہنا ہے۔ رہی بات اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ“ (يا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو) کی، تو اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد جماع ہے، اسی طرح دوسری قراءت: ”أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ“ میں بھی (چھونے) سے مُراد جماع ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے۔ نیز اس لیے کہ شوہر کا بیوی کو بوسہ دینا اکثر شہوت سے ہی ہوتا ہے، لھٰذا یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شہوت کے ساتھ بیوی کو چھُونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ ہاں اگر انزال ہوجائے، تو انزال کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

حوالہ

مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ. السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: الناشر: دار إحياء الكتب العربية. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. مجموع فتاوى ومقالات، تأليف: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ اسی کا ایک لوتھڑا ہے۔

عن طلق بن علي رضي الله عنه قال: قَدِمْنَا على نَبِيِّ الله صلى الله عليه وسلم فجاء رَجُل كأنه بَدَوي، فقال: يا نَبِيَّ الله، ما ترى في مَسِّ الرَّجل ذَكَره بعد ما يتوضأ؟ فقال: «هل هو إلا مُضْغَةٌ منه»، أو قال: « بَضْعَةٌ منه».
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے۔ اسی درمیان ایک شخص آیا، جو حلیے سے بدوی لگ رہا تھا۔ اس نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! آدمی اگر وضو کرنے کے بعد اپنے آلۂ تناسل کو چھو لے، تو اس کے بارے آپ کیا فرماتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسی کا ایک لوتھڑا ہے۔ یا کہا ٹکڑا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

مفہوم حدیث: ”مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ“ یعنی وضو کرنے کے بعد اگر آدمی اپنے آلۂ تناسل کو چھو لے، تو اس سلسلے میں ازروئے شریعت اس شخص پر کیا واجب ہوتا ہے؟ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آدمی نماز میں اپنے ذکر کو چھو لیتا ہے، کیا اس پر دوبارہ وضو کرنا واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں!اس کا آلۂ تناسل اس کے جسم ہی کا ایک حصہ ہے"۔ ”هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ؟ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ بَضْعَةٌ مِنْهُ“ یعنی آلۂ تناسل جسم کے تمام اعضا کی مانند ہے۔ جب وضو کرنے والا اپنے ہاتھ، اپنے پاؤں، ناک یا سر کو چھوتا ہے، تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، بالکل ایسے ہی اگر وہ اپنے آلۂ تناسل کو چھولے، تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا پھر اس صورت پر محمول ہے، جب آلۂ تناسل کو کسی پردے کے پیچھے سے چھوا جائے۔ براہ راست آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؛ کیوںکہ دوسری احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421هـ. السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ. سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: دار الرسالة العالمية، الطبعة: الأولى، 1430هـ. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. النهاية في غريب الحديث والأثر، تأليف: مجد الدين أبو السعادات المعروف بابن الأثير، الناشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

عن عروة قال: دخلت على مروان بن الحكم فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء، فقال مروان: ومن مَسِّ الذَّكَر؟ فقال عروة: ما علمت ذلك، فقال مروان: أخبرتني بُسْرَة بنت صفوان، أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ».
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مروان بن حکم کے پاس آیا۔ جن وجوہات کی بنا پر وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے بارے میں ہمارے مابین گفتگو ہوئی۔ مروان نے پوچھا کہ کیا آلۂ تناسل کو چھونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: عروہ رحمہ اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ مروان بن حکم کے پاس گئے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے۔ ”فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ“ یعنی ہمارے مابین ان باتوں اور اشیاء کے بارے میں گفتگو اور بحث چل نکلی جن کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا کہ ”ومِنْ مَسِّ الذَّكَر“ یعنی جن چیزوں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے ایک آلہ تناسل کو چھونا بھی ہے۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ“ یعنی مجھے اس کی دلیل کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی کوئی حدیث میرے پاس ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسْرَہ بنت صفوان نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے“۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ”وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے“۔ یہ روایت تو اس بات کی کھلی وضاحت ہے کہ آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے شہوت کے ساتھ چھوا جائے یا پھر بغیر شہوت کے ساتھ اور چاہے اس شخص نے چھونے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ یہ چھونا براہ راست ہو اور درمیان میں کوئی شے حائل نہ ہو۔ اگر درمیان میں کوئی شے حائل ہو تو پھر چھونے سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اب درحقیقت مس ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عضو براہ راست دوسرے عضو کے ساتھ لگے۔ اس پر نسائی کی روایت کردہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے ” إذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إلَى فَرْجِهِ وَلَيْسَ بَيْنَها سِتْرٌ وَلَا حَائِلٌ فَلْيَتَوَضَّأْ“ یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو اس طرح سے ہاتھ لگا لے کہ درمیان میں کوئی پردہ یا آڑ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔

حوالہ

سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. صحيح أبي داود – الأم -محمد ناصر الدين الألباني، مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس نے پوچھا کہ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں!

عن جابر بن سمرة رضي الله عنه أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أَأَتَوضأ من لحوم الغنم؟ قال: «إن شِئْتَ فتوضأْ، وإن شِئْتَ فلا تَوَضَّأْ» قال أتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: «نعم فتوضَّأْ من لحوم الإبِل» قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟ قال: «نعم» قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟ قال: «لا».
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کیا میں بکری کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہو تو وضو کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو۔ اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹ کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اونٹ کے گوشت ( کو کھانے) سے وضو کرو۔ عرض کیا: میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: ”أأتَوضأ من لحوم الغنم“ یہ صحابی کی طرف سے بکریوں کے گوشت کے بارے میں استفسار ہے کہ کیا اس کے کھانے سے وضو واجب ہو جاتا ہے، جب کہ نماز پڑھنے کا ارادہ ہو یا کوئی ایسا کام کرنا ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے؟ آپ ﷺ نے اسے وضو کرنے اور نہ کرنے کے مابین اختیار دیا۔ دونوں ہی صورتیں جائز ہیں۔ ”قال أتوضأ من لحوم الإبل“ یعنی جب نماز پڑھنے کا یا کسی ایسے کام کا ارادہ ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے، تو کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا واجب ہو جاتا ہے؟ ”نعم فتوضأ من لحوم الإبِل“ یعنی اونٹ کا گوشت کھا کر تمھارے لیے وضو کرنا واجب ہے، اگرچہ بہت کم ہی کیا کھایا ہو۔ جب کہ اس کے دودھ یا یخنی پینے سے وضو واجب نہیں ہوتا؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے قبیلۂ عرینہ کے لوگوں کو اونٹ کا دودھ پینے کے بعد وضو کا حکم نہیں دیا تھا، حالاں کہ آپ ﷺ نے انھیں اونٹ کا دودھ پینے کا حکم دیا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بوقت ضرورت وضاحت میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ ”قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟“ یعنی جن جگہوں پر بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں، کیا ان جگہوں پر نماز پڑھنا جائز ہے؟ فرمایا ہاں، یعنی ان جگہوں پر تمھارے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؛ کیوں کہ بھیڑ بکریوں سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔ ”قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟“ یعنی جن جگہوں پر اونٹ رہتے ہیں اور جہاں وہ بیٹھتے ہیں، کیا ان میں میرے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؟ فرمایا نہیں، یعنی ان جگہوں میں نماز نہ پڑھو؛ کیوں کہ ان کے بدکنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس سے ہو سکتا ہے کہ نمازی کو کوئی ضرر ٹھوکر وغیرہ کی شکل میں لاحق ہو جائے۔ بھیڑ بکریوں سے اس بات کا خوف نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ پرسکون رہتی ہیں اور بہت کم بدکتی ہیں اور ان سے اذیت پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ. النهاية في غريب الحديث والأثر، تأليف: مجد الدين أبو السعادات المعروف بابن الأثير، الناشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوي - محمود محمد الطناحي. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو میت کو نہلائے اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ غَسَّل الميـِّت فلْيَغْتَسلْ، ومَنْ حَمَلَه فلْيَتَوضَّأْ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میت کو نہلائے، اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے، اسے چاہیے کہ وضو کر لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث کا پہلا جملہ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص کسی میت کو غسل دے؛ چاہے میت کسی چھوٹے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی اور چاہے براہ راست اپنے ہاتھ سے غسل دے یا دونوں کے درمیان کوئی آڑ ہو، جیسے ہاتھ پر کوئی کپڑے کا چیتھڑا یا دستانہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنابت جیسا معروف غسل کرلے۔ حدیث کے دوسرے جملے میں میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کاحکم دیا جارہا ہے اور یہاں وضو کی تفسیر و توضیح محض دونوں ہاتھوں کو دھولینے سے کی گئی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے حکم سے مقصود وہ لوگ ہوں، جو میت کو اٹھانے کے خواہاں ہوں؛ تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خیال رہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کسی بھی اہل علم کی جانب سے میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کے واجب ہونے کا فتویٰ موجود نہیں ہے۔

حوالہ

- سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ. - مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. - سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. - سنن ابن ماجه, ابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. - توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق صبحي رمضان وآخر، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. - سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 ه - 1431 هـ. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل, محمد ناصر الدين الألباني, إشراف: زهير الشاويش, المكتب الإسلامي – بيروت, الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔

عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العَيْنَين وِكَاء السَّه، فإذا نَامَت العَينان اسْتٌطْلِقَ الوِكَاءُ».
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

حدیث کا معنی: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں“ یعنی دونوں آنکھیں بیداری کی حالت میں سرین کی حفاظت کرتی ہیں اور ازخود سرین سے کوئی چیز نکلے، اُسے روک دیتی ہیں اور اگر کوئی چیز نکلے تو انسان اسے محسوس کر لے۔ ”جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“ یعنی انسان جب سوجاتا ہے تو اس کے بدن کے حصے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ رسی اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہے جو سرین کے دائرے کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور پھر وہا ں سے ہوا (بو) احساس ہوئے بغیر نکلنے لگتی ہے۔ حدیث کے اس ٹکڑے میں نبی ﷺ نے آنکھ کو اس رسی سے تشبیہ دی ہے جس سے برتن باندھا جاتا ہے دونوں آنکھیں اگر بیدار ہوں گی تو سرین کے دائرے پر رسی کی پکڑ مضبوط ہوگی اور وہاں سے کوئی چیز نکلی تو اسے محسوس ہو گی اس کے برخلاف جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور مشک کے اندر کی چیز اسے محسوس ہوئے بغیر نکل جاتی ہے۔یہاں پر نبی ﷺ نے انتہائی عمدہ اور لا جواب تشبیہ بطور مثال کے ذکر دی ہے تاکہ شرعی حکم کو ذہن کے قریب کیا جا سکے، اس (تشبیہ) کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے اور یہ نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔

حوالہ

مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. مسند الدارمي المعروف بـ (سنن الدارمي), المؤلف: أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن بن الفضل الدارمي التميمي, تحقيق: حسين سليم أسد الداراني, الناشر: دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية, الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م. صحيح الجامع الصغير وزيادته، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي. فيض القدير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد عبد الرؤوف بن زين العابدين المناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى، 1356 هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب نمازی کے پیٹ میں کوئی چیز ادھر سے ادھر آئے جائے اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو نماز توڑ کر دوبارہ وضو کرنے کے لیے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹ ہی گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ ریح خارج ہونے کی آواز سن لے یا اس کی بدبو محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہيں ہوتا اور یہاں طہارت کا ہونا ایک یقینی امر ہے، جب کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں، اس بات میں شک ہے۔

فوائد
  1. یہ حدیث اسلام کی ایک اہم ترین اساس ہے, اور اس کے اندر ایک فقہی قاعدہ کا بیان ہے جو کہ یہ ہے کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ جو چیز تھی اور جس حالت میں تھی، وہ رہے گی اور اسی حالت میں رہے گی، جب تک اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ معاملہ برعکس ہو گیا ہے۔
  2. شک طہارت پر اثر انداز نہيں ہوتا۔ نمازی کی طہارت اس وقت تک باقی رہے گی، جب تک طہارت ٹوٹنے کا یقین نہ ہو جائے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 276) (362)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (8/ 374)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 608).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com