حدیث کا معنی: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں“ یعنی دونوں آنکھیں بیداری کی حالت میں سرین کی حفاظت کرتی ہیں اور ازخود سرین سے کوئی چیز نکلے، اُسے روک دیتی ہیں اور اگر کوئی چیز نکلے تو انسان اسے محسوس کر لے۔ ”جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“ یعنی انسان جب سوجاتا ہے تو اس کے بدن کے حصے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ رسی اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہے جو سرین کے دائرے کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور پھر وہا ں سے ہوا (بو) احساس ہوئے بغیر نکلنے لگتی ہے۔ حدیث کے اس ٹکڑے میں نبی ﷺ نے آنکھ کو اس رسی سے تشبیہ دی ہے جس سے برتن باندھا جاتا ہے دونوں آنکھیں اگر بیدار ہوں گی تو سرین کے دائرے پر رسی کی پکڑ مضبوط ہوگی اور وہاں سے کوئی چیز نکلی تو اسے محسوس ہو گی اس کے برخلاف جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور مشک کے اندر کی چیز اسے محسوس ہوئے بغیر نکل جاتی ہے۔یہاں پر نبی ﷺ نے انتہائی عمدہ اور لا جواب تشبیہ بطور مثال کے ذکر دی ہے تاکہ شرعی حکم کو ذہن کے قریب کیا جا سکے، اس (تشبیہ) کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے اور یہ نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔
مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. مسند الدارمي المعروف بـ (سنن الدارمي), المؤلف: أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن بن الفضل الدارمي التميمي, تحقيق: حسين سليم أسد الداراني, الناشر: دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية, الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م. صحيح الجامع الصغير وزيادته، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي. فيض القدير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد عبد الرؤوف بن زين العابدين المناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى، 1356 هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.