سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔

عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم قَبَّلَ بعض نسائه، ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضَّأ»، قال: قلت: من هي إلا أنت؟ فَضَحِكت.
عُروہ رحمہ اللہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکل گئے اور وضو نہیں کیا۔ عروہ نے کہا: وہ آپ کے علاوہ کون ہو سکتی ہیں؟ تو وہ ہنسنے لگیں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی کسی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر بغیر وضو کئے نماز کے لیے چلے گئے۔ پھر عروہ رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں، اس معاملے کو سمجھ گئے اور جان گئے کہ حدیث میں جو بیوی مذکور نہیں وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں۔ جب عروہ نے ان کو اس بارے میں بتلایا تو وہ ہنسنے لگیں، جو اس بات کا اقرار تھا کہ وہ ٹھیک سمجھے ہیں۔ ”وَلَمْ يَتَوَضَّأْ“ اور وضو نہیں کیا۔ اور اصل بات یہی ہے کہ: شوہر کے اپنے بیوی کو چھُونے یا بوسہ دینے سے وضو بالکل نہیں ٹوٹتا، خواہ یہ بوسہ دینا شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ہو۔ اس لیے کہ اصل وضو اور طہارت کا باقی رہنا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں کسی دوسری دلیل کے بغیر یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اس پر کوئی دلیل موجود نہیں کہ عورت کو مطلقاً چھُونےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اصل طہارت کا باقی رہنا ہے۔ رہی بات اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ“ (يا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو) کی، تو اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد جماع ہے، اسی طرح دوسری قراءت: ”أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ“ میں بھی (چھونے) سے مُراد جماع ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے۔ نیز اس لیے کہ شوہر کا بیوی کو بوسہ دینا اکثر شہوت سے ہی ہوتا ہے، لھٰذا یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شہوت کے ساتھ بیوی کو چھُونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ ہاں اگر انزال ہوجائے، تو انزال کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

حوالہ

مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ. السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: الناشر: دار إحياء الكتب العربية. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. مجموع فتاوى ومقالات، تأليف: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
وضو کے نواقض

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com