سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وضوء کا طریقہ

11 احادیث

جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے

عَنْ ‌حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه: أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، وَقَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ».
عثمان بن عفان کے غلام حمران سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، برتن کا پانی دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، ان کو تین بار دھویا، پھر وضو کے پانی میں دائیں ہاتھ کو داخل کیا، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر چہرے کو تین بار اور دونوں ہاتھوں کو تین بار کہنیوں سمیت دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر ایک پیر کو تین تین بار دھویا اور اس کے بعد فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور اس کے بعد فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے وضو کا طریقہ سکھایا، تاکہ بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ چنانچہ انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، پھر پانی کو دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، بعد ازاں اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، پانی لے کر اپنے منہ میں ڈالا، اندر گھمایا اور باہر نکال دیا، پھر سانس کے ساتھ ناک کے اندر پانی کھینچا، پھر اسے نکال کر ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھویا، پھر پانی سے بھیگے ہوئے ہاتھوں کو ایک بار سر پر پھیرا، پھر اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھویا۔ جب وضو سے فارغ ہو گئے تو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح وضو کیا اور اس کے بعد یہ خوش خبری دی کہ جس نے آپ کے وضو کی طرح وضو کیا اور خشوع و خضوع اور دلجمعی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوکر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس کے اس کامل وضو اور اس خالص نماز کے بدلے میں اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔

فوائد
  1. وضو شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے دھونا مستحب ہے، اگرچہ نیند سے نہ بھی اٹھاہو۔ اس کے برخلاف اگر رات کی نیند سے بیدار ہوا ہو، تو دونوں ہاتھوں کو دھونا واجب ہے۔
  2. معلم کو ایسا طریقہ اپنانا چاہیے کہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے اور سیکھنے والے کے دل میں بیٹھ جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے تعلیم عملی طور پر دی جائے۔
  3. مصلی کو دنیوی مصروفیتوں سے متعلق سبھی خیالات کو دور رکھ کر نماز پڑھنی چاہیے۔ کیوں کہ نماز مکمل اسی وقت ہوتی ہے، جب دل و دماغ کو حاضر رکھ کر پڑھی جائے۔ ورنہ دل میں آنے والے خیالات سے بچنا مشکل ہے۔ انسان کو خیالات کی رو میں بہنے کی بجائے اس سلسلے میں اپنے نفس سے لڑنا چاہیے۔
  4. وضو دائیں طرف سے کرنا سنت ہے۔
  5. کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا مشروع ہے۔
  6. چہرے، ہاتھوں اور پیروں کو تین تین بار دھونا مستحب اور ایک بار دھونا واجب ہے۔
  7. اللہ کی جانب سے پچھلے گناہ اس وقت معاف کیے جاتے ہیں، جب دو کام ایک ساتھ ہوں؛ حدیث میں بیان کیے گئے طریقے کے مطابق وضو کیا جائے اور دو رکعت نماز پڑھی جائے۔
  8. وضو کے وقت دھوئے جانے والے ہر عضو کی حدود متعین ہیں۔ چنانچہ چہرے کی حد لمبائی میں سر کے بال اگنے کی قدرتی جگہ سے ٹھڈی اور داڑھی کے بالوں تک اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک ہے۔ ہاتھ کی حد انگلیوں کے کناروں سے کہنی تک ہے۔ کہنی سے مراد بازو اور ہاتھ کے بیچ کا جوڑ ہے۔ سر کی حد سر کے بال اگنے کی قدرتی جگہوں سے گردن کے اوپری حصے تک ہے۔ کانوں کا مسح سر ہی میں داخل ہے۔ جب کہ پاؤں کی حد پورا قدم نیز قدم اور پنڈلی کے بیچ کے جوڑ کے ساتھ ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 44) (164). صحيح مسلم (1/ 204) (226). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 16). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص26). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 24).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔

عَنْ يحيى بنِ عُمَارةَ المَازِنِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الكَعْبَيْنِ.
یحی بن عمارہ مازنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

یہاں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وضو کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ انھوں نے پانی کا ایک چھوٹا سا برتن منگوایا۔ سب سے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا۔ وہ اس طرح کہ برتن کو جھکا کر دونوں ہتھیلیوں پر پانی ڈالا اور ان کو تین بار برتن سے باہر دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر تین چلو پانی لیا اور ہر چلو سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑی۔ پھر برتن سے تین چلو پانی لے کر تین بار اپنے چہرے کو دھویا۔ پھر اس سے دو دو چلو پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین بار دھویا۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا اور گردن کے اوپری حصے میں واقع گدی تک پہنچے۔ پھر دونوں ہاتھوں کو واپس وہیں لائے، جہاں سے آغاز کیا تھا۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا۔

فوائد
  1. معلم کا طرز عمل بات کو سمجھانے اور ذہن نشین کرنے کا سب سے کارگر ذریعہ ہے۔ عمل کے ذریعے تعلیم بھی اس کی ایک مثال ہے۔
  2. وضو کے کچھ اعضا کو تین تین بار اور کچھ کو دو دو بار دھونا جائز ہے۔ اور ایک ایک بار دھونا واجب ہے۔
  3. اعضائے وضو کے درمیان اسی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے، جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
  4. چہرے کی حد سر کے بال اگنے کی عام جگہ سے داڑھی اور ٹھڈی کے نچلے حصے تک اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک ہے
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 48) (186). صحيح مسلم (1/ 210) (235). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 18). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص72). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص29). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 27). شرح العمدة للسعدي (ص 50).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ)وہ یہی ہے۔

عن عبْدِ خيْرٍقال: أتانا علي رضي الله عنه وقد صلَّى فدعا بطَهور، فقلنا ما يصنع بالطَّهور وقد صلَّى ما يُريد، إلا ليعلِّمَنا، فأُتِي بإناء فيه ماء وطَسْت، فأفْرَغَ من الإناء على يمينه، فغسل يديه ثلاثا، ثم تَمَضْمَضَ واسْتَنْثَر ثلاثا، فمَضْمَض ونَثَرَ من الكفِّ الذي يأخُذ فِيه، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يده اليمنى ثلاثا، وغسل يده الشِّمال ثلاثا، ثم جعل يده في الإناء فمسَحَ بِرأسه مرَّة واحدة، ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا، ورِجْلَه الشمال ثلاثا. ثم قال: «مَنْ سرَّه أن يعْلَم وُضُوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو هذا».
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے،(پھر بھی) وضو کا پانی منگوایا، تو ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا: آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، جب کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ؟ شاید آپ ہمیں وضو کا طریقہ سکھانا چاہتے ہوں گے! خیر پانی بھرا ہوا ایک برتن اور ایک طشت لایا گیا۔ آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی؛ آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے۔ پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اوراپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے، تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس پوری حدیث میں نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ عبد خیر اس بات کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر لینے کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ حاضرین کو یہ امر عجیب لگا کہ نماز پڑھ لینے کے باوجود آپ پانی طلب فرمارہے ہیں۔ پھر وہ خود جان گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں نبی ﷺ کے وضو طریقہ سکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پانی سے بھرا برتن لاکر دیا۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر برتن سے پانی انڈیلتے ہوئے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ ایک چلو پانی ہی سے کلی کی اور ناک بھی جھاڑی۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ چہرے کے حدود میں سر کے بالوں کے آغاز سے لے کر داڑھی کے ظاہری حصے کے ساتھ ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک کا حصہ آتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا۔ دونوں ہاتھوں کے دھونے میں کہنیاں شامل ہیں۔ پھر ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح فرمایا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں تین تین مرتبہ دھویا۔ بعد ازاں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔

حوالہ

سنن أبي داود, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. سنن ابن ماجه, تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. تاج العروس من جواهر القاموس, محمّد بن محمّد الحسيني، الملقّب بمرتضى الزَّبيدي, مجموعة من المحققين, الناشر: دار الهداية. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ، 1431 هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427، 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "استنثار" کے معنی ہیں ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ شیطان انسان کی ناک کے اندر رات گزارتا ہے۔

فوائد
  1. نیند سے بیدار ہونے والے ہر شخص کے لیے شیطان کے اثر کو زائل کرنے کے لیے ناک جھاڑنا مشروع ہے۔ اگر وضو کا ارادہ ہو تو ناک جھاڑنے کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
  2. ناک جھاڑنے سے ناک میں پانی چڑھانے کا فائدہ پورے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ ناک میں پانی چڑھانا ناک کے اندرونی حصے کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ جب کہ ناک جھاڑنے سے اندر کی گندگی پانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔
  3. اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، اسے رات میں سونے تک محدود اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "يَبيت" کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس لفظ کا استعمال رات میں سونے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی رات کی نیند لمبی اور گہری ہوتی ہے۔
  4. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے اور انسان کو اس کا احساس نہيں ہوتا۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 126) (3295). صحيح مسلم (1/ 212) (238). توضيح الأحكام، للشيخ للبسام (1/ 211). سُبل السلام، للصنعاني (1/ 64). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 179). منحة العلَّام، لعبد الله الفوزان (1/ 166).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا

عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه مرفوعاً: «أن النبي صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ فجعل يَدْلُكُ ذِرَاعَه».
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا“۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہمیں اس پانی کی مقدار کے بارے میں بتا رہے ہیں جس سے نبی ﷺ وضو کیا کرتے تھے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ دو تہائی مد سے وضو فرمایا کرتے تھے (اگرچہ یہ مقدار کم تھی) تاہم اس سے بغیر کسی اسراف کے مقصود پورا ہو جاتا تھا اور یہ کہ نبی ﷺ نےاپنا بازو ملنا شروع کردیا تاکہ پانی کو دھوئے جانے والے سارے عضو تک پہنچایا جا سکے۔

حوالہ

مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. صحيح ابن خزيمة، تأليف: أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة ، المحقق: د. محمد مصطفى الأعظمي، الناشر: المكتب الإسلامي، بيروت. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه، محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: دار باوزير للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1424 هـ - 2003 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا

عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه يَذْكُر أنه: «رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ فَمَضْمَض، ثم اسْتَنْثَرَ، ثم غسل وجهه ثلاثا، ويَدَه اليُمنى ثلاثا والأخرى ثلاثا، ومسح برأسه بماء غير فَضْلِ يَدِهِ، وغسل رجْلَيْه حتى أنْقَاهُما».
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کی کیفیت ذکر کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے پانی کو منہ میں داخل کیا، پھر اس کو گھمایا، پھر کلی کی، پھر پانی کو ناک میں داخل کیا اور باہر نکالا پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر داہنا ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح نئے پانی سے کیا اور پھر اپنے دونوں پیر دھوئے ٹخنوں تک یہاں تک کہ ان سے گندگی کو صاف کیا۔

حوالہ

المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392هـ. مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: عبيد الله بن محمد المباركفوري، الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الطبعة: الثالثة - 1404هـ. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، نشر: مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423هـ - 2003 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی، عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔

عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ، فمسح بِنَاصِيَتِهِ، وعلى العِمَامة والخُفَّين.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی، عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی پیشانی کے بالوں پر مسح فرمایا۔''ناصية'' سر کے بالوں کے اگلے حصے کو کہتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے عمامہ پر مسح کو پورا کیا۔ آپ ﷺ نے سر کے کچھ حصے پر مسح کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ عمامہ پر مسح کر کے اسے مکمل کیا۔ موزوں پر مسح کرنا بھی آپ ﷺ کی سنت ہے۔ جیسا کہ اس حدیث اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431 هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا توضأ أدار الماء على مِرْفَقَيْهِ.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ وضو کے واجبات میں سے ایک چیز ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ہے اور کہنیوں کو دھونے کی تاکید سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ ان دونوں کا دھونا بھی ہاتھوں کے دھونے میں شامل ہے۔

حوالہ

سنن الدارقطني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وآخرون، ط1، مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1424 هـ. سنن البيهقي الكبرى، أحمد بن الحسين بن علي أبو بكر البيهقي، مكتبة دار الباز - مكة المكرمة ، 1414 – 1994، تحقيق: محمد عبد القادر عطا. السلسلة الصحيحة، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف – الرياض, الطبعة الأولى, 1422ه. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان، ط 1، 1427ه/2006م. توضيح الأحكام من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، عبدالله بن عبد الرحمن البسام ، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة، 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي - الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
11 میں سے 8
11 احادیث
  1. جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے
  2. انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔
  3. جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ)وہ یہی ہے۔
  4. ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔
  5. نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا
  6. رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو آپ نے کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، اور داہنا ہاتھ تین بار دھویا اور دوسرا تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہو ئے پا نی کے علا وہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا
  7. نبی ﷺ نے وضو کیا اور اپنی پیشانی، عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔
  8. نبی ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی کہنیوں پر اچھی طرح پانی ڈالتے۔
  9. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
  10. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔
  11. ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com