سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو، تو تین مرتبہ اپنی ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے، کیوں کہ شیطان اس کی ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "استنثار" کے معنی ہیں ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ شیطان انسان کی ناک کے اندر رات گزارتا ہے۔

فوائد
  1. نیند سے بیدار ہونے والے ہر شخص کے لیے شیطان کے اثر کو زائل کرنے کے لیے ناک جھاڑنا مشروع ہے۔ اگر وضو کا ارادہ ہو تو ناک جھاڑنے کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
  2. ناک جھاڑنے سے ناک میں پانی چڑھانے کا فائدہ پورے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ ناک میں پانی چڑھانا ناک کے اندرونی حصے کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ جب کہ ناک جھاڑنے سے اندر کی گندگی پانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔
  3. اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، اسے رات میں سونے تک محدود اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "يَبيت" کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس لفظ کا استعمال رات میں سونے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی رات کی نیند لمبی اور گہری ہوتی ہے۔
  4. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے اور انسان کو اس کا احساس نہيں ہوتا۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 126) (3295). صحيح مسلم (1/ 212) (238). توضيح الأحكام، للشيخ للبسام (1/ 211). سُبل السلام، للصنعاني (1/ 64). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 179). منحة العلَّام، لعبد الله الفوزان (1/ 166).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
وضوء کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com