عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھی وضو کرتے وقت وضو کے سارے اعضا کو ایک ایک بار ہی دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک ہی بار چہرہ دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو بھی ایک ایک بار ہی دھوتے۔ دراصل واجب ایک بار دھونا ہی ہے۔
فوائد
- اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا واجب اور ایک سے زیادہ بار دھونا مستحب ہے۔
- وضو کے اعضا کو کبھی کبھی ایک ایک بار ہی دھویا جا سکتا ہے۔
- سر کا مسح ایک ہی بار کرنا مشروع ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 43) (157)، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 244).