عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «إِذَا لَبِسْتُم، وَإِذَا تَوَضَّأتُم، فَابْدَأُوا بَأَيَامِنُكُم».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں اچھے کاموں کے دائیں طرف سے آغاز کے استحباب کی تاکید ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
"إذا لبستم" یعنی جب تم لباس پہننے کا ارادہ کرو۔
"إذا توضأتم" یعنی جب تمھارا وضو کے اعمال سر انجام دینے کا ارادہ ہو۔
”فابدءوا بأيامنكم“ 'أيامن' جمع ہے 'أيمن' کی، جو کہ 'الأيسر' کی ضد ہے۔ چنانچہ قمیص وغیرہ میں دائیں جانب کو بائیں طرف سے پہلے داخل کرے اور وضو میں اپنے دائیں ہاتھ اور پاؤں کو مقدم رکھے۔ حتی کہ معذور شخص بھی وضو کے تمام اعمال میں دائیں طرف سے آغاز کرے گا۔
واضح رہے کہ وضو کے کچھ اعضا ایسے ہیں، جن میں دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب نہیں، بلکہ انھیں یکبارگی پاک کیا جاتا ہے، جیسے دونوں کان، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں رخسار۔ اگر کسی کے لیے ایک ساتھ پاک کرنا ممکن نہ ہو، جیسے ایک ہاتھ سے معذور آدمی، تو وہ داہنے حصے کو مقدم رکھے گا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ.
جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ط2، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر، 1395هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
سنن أبي داود ،تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي.
الشرح الممتع على زاد المستقنع، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، ط1، دار ابن الجوزي، 1422 - 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ.
مشكاة المصابيح للتبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1985م.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: كُنَّا نُعِدُّ لرسول الله صلى الله عليه وسلم سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ الله ما شاء أن يَبْعَثَهُ من الليل، فَيَتَسَوَّكُ، ويتوضَّأ ويُصلي.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے۔ رات کو اللہ تعالی جب چاہتا، آپ ﷺ کو بیدار کر دیتا اور آپ ﷺ مسواک اور وضو کرکے نماز پڑھتے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی مسواک اور پانی تیار کر کے رکھ دیتیں، جس سے آپ ﷺ رات کو وضو فرماتے تھے۔ پھر رات کو اللہ تبارک وتعالی آپ ﷺ کو نیند سے جب چاہتا، بیدار کرتا۔ آپ ﷺ جب اٹھتے تو منہ کی اس بو کو دور کرنے کے لیے دانتوں پر مسواک کرتے، جو عموما نیند کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے وضو فرماتے اور نماز تہجد ادا کرتے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423 هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
عن سعيد بن الحارث: أنه سأل جابرا رضي الله عنه عن الوضوء مما مَسَّتِ النارُ، فقال: لا، قد كنا زمن النبي - صلى الله عليه وسلم - لا نجد مثل ذلك الطعام إلا قليلا، فإذا نحن وجدناه، لم يكن لنا مَنَادِيلُ إلا أَكُفَّنَا، وسَوَاعِدَنَا، وأَقْدَامَنَا، ثم نصلي ولا نتوضأ.
سعيد بن الحارث روايت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے (کھانے کے بعد) جو آگ پر پکی ہو وضو کے متعلق پوچھا (کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا (اور ہم انہی سے اپنے ہاتھ صاف کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
سعید بن الحارث نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ پر پکایا یا بھونا گیا ہو کہ آیا اس پر پھر سے وضو کرنا واجب ہے یا نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی شے کھانے سے وضو کرنا واجب نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نبی ﷺ کے زمانے میں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آیا کرتا تھا اور جب کبھی ہمیں ایسا کھانا مل جاتا تو (کھانے کے بعد) کھانے کی چکنائی کو صاف کرنے کے لیے ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم اپنی انگلیوں کو چاٹ کر انہیں اپنی ہتھیلیوں، بازؤوں اور پاؤں کے ساتھ پونچھ لیا کرتے تھے اور پھر نماز پڑھ لیتے اور نئے سرے سے وضو نہیں کرتے تھے۔
حوالہ
.دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَوْلا أنْ أَشُقِّ على أُمَّتِي لَأَمَرْتُهم بالسِّواكِ مع كلِّ وُضُوء».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کو مشقت و تکلیف میں مبتلا کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انھیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ یہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی امت اور اہل ایمان کے صبر آزما محنت و مشقت اور دشواری سے دوچار ہونے کا خدشہ نہ ہوتا، تو آپ انھیں وجوبی طور پر حکم دیتے کہ وہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کیا کریں، لیکن آپ نے اپنی امت پر رحمت و شفقت کا خیال رکھتے ہوئے وجوبی حکم سے احتراز فرمایا اور اس عمل کو حتمی و قطعی فرائض میں شامل نہیں کیا؛ لہٰذا یہ ان مستحب سنتوں میں سے ہے، جن پر عمل کرنے والے کو اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔
حوالہ
موطأ الإمام مالك, مالك بن أنس بن مالك الأصبحي المدني, صححه ورقمه وخرج أحاديثه وعلق عليه: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان, عام النشر: 1406 هـ - 1985 م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل, محمد ناصر الدين الألباني, إشراف: زهير الشاويش, المكتب الإسلامي – بيروت, الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431 هـ.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ گھر میں نہیں ملے۔ ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں۔ انھوں نے ہمارے لیے خزیر۱ (ایک قسم کا کھانا) تیار کرنے کا حکم کیا۔ وہ تیار کیا گیا۔ ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں "قناع" کا لفظ نہیں کہا ہے۔ "قناع" اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی ہوئی ہو) پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمھارے لیے کسی چیز کا حکم دیا گیا؟“ ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول!
ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔
لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔
پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جلیل القدر صحابی لقیط بن صبرۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمارہے ہیں کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنی قوم کےایک وفد کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔ وفود کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی ﷺ سے اپنے اہمیت کے حامل اور غیر واضح مسائل دریافت کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے شوربا( جس میں گوشت کو ابالے جانے کے بعد آٹا یا چاول ڈالا جاتا ہے) اور کھجور پیش کیے۔ (اسی دوران) نبی ﷺ کے چرواہے پر اس وفد کی نظر پڑی، جس کے ساتھ بکری کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس چرواہے کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کردے اور وفد سے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ آپ نے اس وفد کی خاطر اس بکری کو ذبح نہیں کروایا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ گمان کربیٹھیں کہ آپ نے پرتکلف مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا ہے۔ اس لیے آپ نے اس امکانی خیال کو دور فرمادیا۔ صحابی رسول ﷺ کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ بدزبان و بدگو بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس بیوی میں کچھ خیر و بھلائی موجود ہوتو اس کے حق میں وعظ و نصیحت کارگر ہوجائے گی؛ ورنہ طلاق ہی اس کا حل ہے۔ نیز آپ نے انھیں اس بات کا بھی حکم دیا کہ اپنی بیوی کو اس طرح نہ ماریں پیٹیں، جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
نیز صحابی رسول ﷺ نے آپ سے وضو کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے واضح فرمادیا کہ کامل وضو کرنا واجب ہے۔ یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضا میں سے ہر عضو کو کامل طریقے سے دھویا جائے۔ مسح کامل طریقے سے کیا جائےاور انگلیوں کے درمیان خلال کی سنت کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ سب اس لیے تاکہ وضو کے تمام اعضا تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو جائےاور اگر خلال ہی کے ذریعہ پانی انگلیوں کے درمیان پہنچ سکتا ہو تو کامل طریقے سے وضو کا پانی پہنچانا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حد درجہ ناک میں پانی چڑھانے کی سنت کو واضح فرماتے ہوئے روزے دار کو اس خدشے کے ساتھ مستثنی فرمادیا کہ کہیں اس کے پیٹ میں پانی داخل نہ ہوجائے اور اس عمل کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ صرف عدم روزہ ہی میں اس کو پسندیدہ قرار دیا گیا۔
حوالہ
سنن أبي داود (1/ 99) (142).
سنن الترمذي (2/ 146) (788).
سنن النسائي (1/ 66) (87).
سنن ابن ماجه (1/ 262) (407).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (1/ 217).
سُبل السلام، للصنعاني (1/ 66 ).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 183).
منحة العلَّام، لعبد الله الفوزان (1/ 174).
عن حسان بن بلال قال: رأيت عمار بن ياسر رضي الله عنه توضأ فخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، فقيل له: -أو قال: فقلت له:- أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَك؟ قال: «وما يمنعُني؟ ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يُخَلِّلُ لِحْيَتَه».
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لیے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حسان بن بلال بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دوران وضو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ان سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کے بارے میں پوچھا۔ گویا کہ ایسے طریقے سے وضو کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا جس سے وہ پہلے واقف نہیں تھے بلکہ انہیں اس کا تب ہی علم ہوا تھا جب عمار بن یاسر کو انہوں نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ کوئی ایسی بات نہیں جو داڑھی کے خلال میں مانع ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
داڑھی کے خلال کے دو طریقے ہیں:
اول: ایک یہ کہ آدمی پانی کا ایک چلو لے اور اسے داڑھی کے نیچے لے جائے اور پھر اسے ملے یہاں تک کہ اس میں پانی گھس جائے۔
دوم: پانی کا چلو لے اور اپنی انگلیوں کو اس میں ایسے پھیرتے ہوئے خلال کرے جیسے کنگھی پھیری جاتی ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية: 1395هـ، 1975م.
سنن ابن ماجه، ابن ماجه محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي.
النهاية في غريب الحديث والأثر، مجد الدين أبو السعادات المبارك بن الأثير، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى، محمود محمد الطناحي، نشر: المكتبة العلمية، بيروت، الطبعة: 1399هـ، 1979م.
الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1422، 1428هـ.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م.
صحيح وضعيف سنن الترمذي، محمد ناصر الدين الألباني، مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية -المجاني- من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية.
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا صلاةَ لِمن لا وُضوءَ له، ولا وُضوءَ لِمن لم يَذْكر اسم الله تعالى عليه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس شخص کا وضو نہیں، جس نے وضو کے شروع میں ”بسم الله“ نہیں کہا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی اس بات سےعلم و آگہی دے رہے ہیں کہ آپ نے بے وضو نماز ادا کرنے والے کی نماز کو باطل قرار دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے وضو سے پہلے ”بسم اللہ“ پڑھے بغیر کیے جانے والے وضو کو باطل قرار دیا۔ لہذا اس حدیث میں وضو کرتے وقت ”بسم اللہ“ کہنے کے وجوب کی دلیل ملتی ہے اور یہ کہ جس نے جان بوجھ کر بسم اللہ نہیں کہا، اس کا وضو باطل ہے۔ البتہ جس نے بھول کر یا شرعی حکم سے ناواقفیت کی بنا پر بسم اللہ کہے بغیر وضو کرلیا، اس کا وضو درست ہوگا۔
حوالہ
-سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي.
-سنن أبي داود ،تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت.
-مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421 هـ.
-إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل لمحمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، ط2، المكتب الإسلامي، بيروت، 1405 هـ.
-توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423ه.
-تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427ه.
-شرح الشيخ ابن عثيمين على البلوغ، تحقيق صبحي رمضان وآخر، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
-عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته للعظيم آبادي، ط3، دار الكتب العلمية، بيروت، 1415 هـ.
-منحة العلَّام للشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1427ه.
-فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى, اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء, جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش, الناشر: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع – الرياض.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی سے نہا لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتھے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غسل جنابت ایک صاع سے پانچ مد تک پانی سے کیا کرتے تھے۔ جب کہ وضو ایک مد پانی سے کیا کرتے تھے۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے۔ جب کہ ایک مد معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر کا ہوا کرتا ہے۔
فوائد
یہ حدیث وضو اور غسل کرتے وقت پانی بچانے اور اسراف سے بچنے کی مشروعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، چاہے پانی میسر ہی کیوں نہ ہو۔
مستحب یہ ہے کہ وضو اور غسل کرتے وقت پانی بقدر حاجت اور کم سے کم استعمال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے۔
اس حدیث کا مقصد وضو اور غسل کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے، پانی کے استعمال میں فضول خرچی اور کنجوسی کیے بغیر، وقت اور پانی کی کثرت وقلت کو دھیان میں رکھتے ہوئے مکمل طور سے وضو اور غسل کرنا ہے۔
جنابت کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جس نے منی کا انزال یا جماع کیا ہو۔ جنابت کو جنابت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس حالت میں انسان پاک ہو جانے تک نماز اور عبادتوں سے دور رہتا ہے۔
صاع ناپنے کا ایک معروف آلہ ہے۔ یہاں مراد صاع نبوی ہے۔ اس کا وزن عمدہ قسم کے گیہوں کا 480 مثقال اور لیٹر میں تین لیٹر ہے۔
مد ایک شرعی ماپ ہے۔ اس سے مراد ایک معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر ہے، جب ان کو بھر کر ہاتھ پھیلا دیا جائے۔ مد ایک چوتھائی صاع ہے، اس پر تمام فقہا متفق ہیں۔ اس کی مقدار 750 ملی لیٹر ہوا کرتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 51) (201).
صحيح مسلم (1/ 258) (325).
توضيح الأحكام، للبسام (1/ 250).
سُبل السلام، للصنعاني (1/ 79 ).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (1/ 212).
منحة العلَّام، لعبد الله الفوزان (1/ 186).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (1/ 272).
تحقيق مقدار المد والصاع النبوي، للدكتور عبدالمحسن القاسم
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com