سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لئے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عن حسان بن بلال قال: رأيت عمار بن ياسر رضي الله عنه توضأ فخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، فقيل له: -أو قال: فقلت له:- أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَك؟ قال: «وما يمنعُني؟ ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يُخَلِّلُ لِحْيَتَه».
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لیے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حسان بن بلال بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دوران وضو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ان سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کے بارے میں پوچھا۔ گویا کہ ایسے طریقے سے وضو کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا جس سے وہ پہلے واقف نہیں تھے بلکہ انہیں اس کا تب ہی علم ہوا تھا جب عمار بن یاسر کو انہوں نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ کوئی ایسی بات نہیں جو داڑھی کے خلال میں مانع ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ داڑھی کے خلال کے دو طریقے ہیں: اول: ایک یہ کہ آدمی پانی کا ایک چلو لے اور اسے داڑھی کے نیچے لے جائے اور پھر اسے ملے یہاں تک کہ اس میں پانی گھس جائے۔ دوم: پانی کا چلو لے اور اپنی انگلیوں کو اس میں ایسے پھیرتے ہوئے خلال کرے جیسے کنگھی پھیری جاتی ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية: 1395هـ، 1975م. سنن ابن ماجه، ابن ماجه محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي. النهاية في غريب الحديث والأثر، مجد الدين أبو السعادات المبارك بن الأثير، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى، محمود محمد الطناحي، نشر: المكتبة العلمية، بيروت، الطبعة: 1399هـ، 1979م. الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1422، 1428هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م. صحيح وضعيف سنن الترمذي، محمد ناصر الدين الألباني، مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية -المجاني- من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
وضوء کی سنتیں اور آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com