ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا : میں استحاضے کی شکار ہوں اور پاک نہیں ہو پاتی۔ کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ان کا خون بند نہيں ہوتا اور حیض کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی خون جاری رہتا ہے، تو کیا یہ خون حیض کا خون مانا جائے گا اور وہ نماز چھوڑ سکتی ہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ یہ حیض کا نہیں، بلکہ استحاضہ کا خون ہے۔ یہ رحم کی نس پھٹ جانے کی وجہ سے نکلتا ہے۔ لہذا جب حیض کے وہ دن آئيں، جن دنوں میں تم کو استحاضہ کی شکار ہونے سے پہلے حسب معمول خون آیا کرتا تھا، تو نماز اور روزہ وغیرہ وہ چیزیں چھوڑ دو، جو حیض کے دنوں میں منع ہیں۔ پھر جب حیض کی مدت کے برابر وقت گزر جائے، تو تم حیض سے پاک ہو گئی۔ اس لیے خون کی جگہ کو دھو ڈالو اور مکمل طریقے سے حیض سے پاکی کا غسل کر لو اور پھر نماز پڑھو۔
فوائد
حیض کے دن ختم ہونے کے بعد عورت پر غسل واجب ہے۔
مستحاضہ پر نماز واجب ہے۔
حیض : وہ طبعی خون ہے، جو بالغ عورت کے رحم سے شرم گاہ کے راستے مخصوص دنوں میں باہر آتا ہے۔
استحاضہ : رحم کى گہرائى کی بجائے اس کے اوپرى والے حصے سے بے وقت خون بہنا۔
حیض کے خون اور استحاضہ کے خون کے درمیان فرق یہ ہے کہ حیض کا خون کالا، گاڑھا اور بدبودار ہوتا ہے، جب کہ استحاضہ کا خون لال، پتلا اور غیر بدبودار ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 72) (325).
صحيح مسلم (1/ 262) (333).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص77).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 63).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص40).
عن عائشة رضي الله عنها قالت: "إن أم حبيبة اسْتُحِيضَتْ سبع سنين، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك؟ فأمرها أن تغتسل، قالت: فكانت تغتسل لكل صلاة".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں، تو وہ ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ استحاضہ میں انہیں کیا کرنا چاہئے تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں۔ انہیں سات سال تک استحاضہ کا خون آیا تھا۔
استحاضہ ایک عارضی امر ہے جو کم ہی عورتوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اصل تو حیض ہے جو مہینے کے چند گنے چنے دنوں میں آتا ہے اور اس کی کچھ ایسی علامات ہوتی ہیں جسے عورتیں پہچانتی ہیں۔
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی جانب سے ہی تطوّعاً ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرتی تھیں۔
حوالہ
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
معاذۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
معاذۃ رضی اللہ عنہا نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے شارع علیہ السلا نے حائضہ عورت کے لیے ان روزوں کی قضا فرض کی، جنھیں وہ نہ رکھ سکے؛ تاہم حیض کے دوران چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا اس پر واجب نہیں کی، حالاں کہ دونوں ہی عبادتیں فرض ہیں۔ بلکہ نماز، روزے سے زیادہ بڑی عبادت ہے۔ قضا کے اعتبار سے ان دونوں کے مابین فرق نہ کرنا خوارج کا مذہب تھا، جس میں بے جا سختی اور تنگی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو حروریہ ہے کہ تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے، جو ان کا ہے اورتو بھی اسی طرح سختی چاہتی ہے، جیسے وہ کرتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ میرا سوال علم اور راہ نمائی کے حصول کے لیے ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تھا۔ ہم حیض کے دنوں میں روزے اور نماز چھوڑ دیتے تھے۔ نبی ﷺ ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیتے، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے۔ اگر نماز کی قضا واجب ہوتی، تو آپ ﷺ اس پر سکوت نہ فرماتے۔ گویا کہ وہ یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ شارع علیہ السلام کے احکامات کو بجا لانے پراکتفا کرنا چاہیے اور آپ کی وضع کردہ حدود پر رک جانا ہی حکمت و دانائی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 71) (321).
صحيح مسلم (1/ 265) (335).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 68).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص81).
عن عَائِشَة رضي الله عنها قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَتَكِّئُ فِي حِجرِي، فَيَقرَأُ القرآن وأنا حَائِض».
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھا کرتے تھے جب کہ میں حالتِ حیض میں ہوتی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ حالتِ حیض میں ہوتی تھیں اور نبی ﷺ ان کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت کا جسم پاک ہوتا ہے، یہ حیض کے سبب نجس نہیں ہوتا۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عن أسماءَ رضي الله عنها قالت: جاءت امرأةٌ النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقالت: أرأَيْتَ إحدانا تَحِيضُ في الثَّوب، كيف تصنعُ؟ قال: «تَحُتُّهُ، ثم تَقْرُصُه بالماء، وتَنْضَحُه، وتُصَلِّي فيه».
اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ذرا یہ بتائیں کہ ہم میں سے کسی کو کپڑے میں حیض آ جائے، تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے کپڑوں کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے کپڑے سے اس کو زائل کرنے کی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ عورت سب سے پہلے اس کو کھرچے گی؛ تاکہ جما ہوا خون نکل جائے، پھر خون لگے مقام کو اپنی انگلیوں کے کناروں سے رگڑے گی؛ تاکہ اس کے ذریعہ اس کی سختی دور ہو جائے اور کپڑے میں جذب شدہ خون نکل جائے اور پھر اس کے بعد اس کو دھو ئے گی؛ تاکہ بچی ہوئی نجاست زائل ہوجائے۔ اس ضمن میں اس ترتیب کا لحاظ رکھے، جو خشک نجاست کو دور کرنے میں نہایت ہی قابل عمل نمونہ ہے؛ کیوں کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے، تو نجاست پھیل کر اس جگہ بھی لگ جائے گی، جہاں قبل ازیں نہ لگی تھی۔ اس طرح اس عورت کے لیے جائز ہوگا کہ اس طریقے سے اس حیض کے کپڑے کو پاک کرنے کے بعد اسی میں نماز پڑھے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
نيل الأوطار, محمد بن علي الشوكاني اليمني, تحقيق: عصام الدين الصبابطي, دار الحديث، مصر, الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1993م.
سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه _ 2006 م
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 ه - 1431 هـ.
عَنْ كَثِيرِ بن زِيَاد، قال: حدثتني الأزْدِيَّة يعني مُسَّةَ قالت: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ المؤْمِنِين، إِنَّ سَمُرَةَ بن جندب يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ فَقَالَتْ: «لَا يَقْضِينَ كَانَتِ المَرْأَةُ من نِسَاءِ النبي صلى الله عليه وسلم تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا يَأْمُرُهَا النبي صلى الله عليه وسلم بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ»
وفي رواية: و«كنا نطلي على وُجُوهنا بِالوَرْسِ -تعني- من الكَلَف».
كثیر بن زیاد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مُسّہ ازدیہ نے بیان کیا: میں حج کو گئی تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حیض کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: وہ قضا نہیں کریں گی۔ نبی ﷺ کی (رشتہ دار) خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ہم جھائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر وَرس (ایک قسم کا پودا جو رنگائی کے کام ميں لايا جاتا ہے ) ملا کرتی تھیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
ہماری ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عظیم القدر صحابی سمره بن جندب رضی اللہ عنہ کے فتوے کی اصلاح فرمائی جب انہوں نے عورتوں پر لازم قرار دیا کہ وہ مدتِ حیض میں چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا کریں۔ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ قضا نہیں کریں گی، یعنی نماز کی قضا نہیں کریں گی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس فتوے کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: نبی ﷺ کی رشتہ دار خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یہاں ”نساء النبی“ سے مراد آپ ﷺ کی بیویوں کے علاوہ آپ ﷺ کی بیٹیاں اور قریبی رشتہ دار خواتین ہیں۔ ”النساء“ کا لفظ بیویوں سے عام ہے کیونکہ اس کے تحت بیٹیاں اور باقی رشتہ دار خواتین آتی ہیں۔
یہاں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول: ”نفاس میں رہتی ...الخ“ کی وجہ سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مسہ ازدیہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حالت ِحیض میں نماز پڑھنے کے حکم کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں بتلايا تھا کہ سمرۃ رضی اللہ عنہ ان کی قضا کا حکم دیتے ہیں، جب کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نفاس والی عورتوں کی نماز کے بارے میں جواب دیا۔
اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے:
اول: جواب کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حیض کے لفظ سے نفاس مراد ہے۔
دوم: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حالتِ نفاس کی نماز کے بارے میں جواب دیا جو مدت میں حیض سے کم ہوتا ہے۔ کیوں کہ حیض دورانِ سال بارہ دفعہ آتا ہے، جب کہ نفاس اس طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی بنسبت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب شارع نے حالتِ نفاس میں نماز کو معاف کر دیا جو بار بار نہیں آتا تو حالت حیض کی نمازوں کو کیسے معاف نہیں کرے گا جو بار بار آتا ہے؟!۔ واللہ اعلم۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول: ”وكنا نطلي على وجوهنا“ یعنی ہم ملتی تھیں۔ ”الطلی“ کا معنی تیل ملنا آتا ہے۔
”الورس“ ایک زرد رنگ کا پودا ہے جس سے چہرے پر ملنے کی کریم بنائی جاتی ہے۔
”تعني من الكَلَف“ الکلف سے مراد وہ رنگ ہے جو سیاہی اور سرخی کے درميان ہوتا ہے یعنی سرخی مائل مٹیالی رنگت يا کوئی اور چيز جو چہرے پر ظاہر ہوجاتی ہے۔
حوالہ
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل للألباني، إشراف: زهير الشاويش، ط2، المكتب الإسلامي - بيروت، 1405هـ.
توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423هـ.
تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427هـ.
منحة العلَّام للشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1427هـ.
سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت.
فتاوى اللجنة الدائمة، المجموعة الأولى: اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.
عن ابن عباس رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي يأتي امرأته وهي حائض قال: «يتصدق بدينار أو نصف دينار».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حالتِ حیض میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لیتا ہے کہ ’’وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں اس شخص کا کفارہ بیان فرما رہے ہیں جو اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں ہمبستری کر لے۔ اُس کا کفارہ ایک یا نصف دینار صدقہ کرنا ہے۔ اور حدیث سے حائضہ عورت سے ہمبستری کرنے کی حرمت کا علم ہوتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس پر کفارہ لاگو کیا ہے۔ اور یہ اس صدقہ کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے کیونکہ یہ گناہ کے مقابلے میں ہے۔
حوالہ
توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423هـ.
سُبل السلام، للصنعاني، دار الحديث.
تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427هـ.
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام: الشيخ ابن عثيمين، تحقيق صبحي رمضان وآخر، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ.
سنن أبي داود، لسليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن ابن ماجه: ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي.
دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
السنن الكبرى للنسائي، حققه وخرج أحاديثه: حسن عبد المنعم شلبي، أشرف عليه: شعيب الأرناءوط مؤسسة الرسالة – بيروت الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
سنن الدارمي، للدارمي، التميمي تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م.
فتاوى اللجنة الدائمة، المجموعة الأولى، المؤلف: اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء، جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.
عن أنس رضي الله عنه : أن اليَهُود كانوا إذا حَاضَت المرأة فيهم لم يؤَاكِلُوها، ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت فسأل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم النبي صلى الله عليه وسلم فأنزل الله تعالى: {ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض} [البقرة: 222] إلى آخر الآية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اصْنَعُوا كلَّ شيء إلا النكاح». فَبَلغ ذلك اليهود، فقالوا: ما يُريد هذا الرَّجُل أن يَدع من أمْرِنا شيئا إلا خَالفَنَا فيه، فجاء أُسَيْدُ بن حُضَيْر، وعَبَّاد بن بِشْر فقالا يا رسول الله، إن اليهود تقول: كذا وكذا، فلا نُجَامِعُهُن؟ فَتغيَّر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ظَنَنَا أن قد وجَد عليهما، فخرجا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّة من لَبَنٍ إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فأَرسَل في آثَارِهِما فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أن لم يَجِد عليهما.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ نبى ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے (اس بارے میں) دریافت کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222)۔ ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے صحبت کے تم سب کچھ کرو۔ یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی چاہتا ہے۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) صحبت نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ اس سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض نہیں ہوئے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بيان كر رہے ہیں کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ یعنی یہودی لوگ حائضہ عورت کو نہ تو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے، نہ ہی اس کا جھوٹا پانی پیتے اور نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے تھے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق حائضہ عورت اور اس کا پسینہ ناپاک تھا۔
” ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت“ یہاں مجامعت سے مراد رہائش اختیار کرنا اور مل جل کر رہنا ہے۔ جب عورت کو حیض آتا تو یہودی اس سے میل جول نہ رکھتے بلکہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے جیسا کہ سنن ابی داود میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو اسے گھر سے نکال دیتے تھے۔ وہ نہ تو اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔
”صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے دریافت کیا“ یعنی اصحابِ رسول ﷺ کو جب یہودیوں کا حال معلوم ہوا کہ وہ مدتِ حیض میں عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا۔
تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے صحبت کے تم سب کچھ کر سکتے ہو“۔ شریعت نے ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے، انہیں چھونے، ان کے ساتھ ایک بستر میں سونے اور سوائے شرم گاہ میں وطی کرنے کے سب کچھ کرنا مباح کر دیا۔
آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”سوائے جماع کے تم سب کچھ کرو“ اس ميں آیت کے اجمال کی وضاحت ہے۔ کیونکہ اعتزال کا لفظ مل جل کر رہنے، اکٹھے کھانے پینے اور ایک ساتھ رہنے جیسے سب معانی کو محیط ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اعتزال سے مراد صرف اور صرف جماع (صحبت) کو ترک کرنا ہے۔
”یہ بات یہودیوں تک پہنچی“یعنی یہودیوں تک یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مدتِ حیض میں اپنی بیویوں کے ساتھ سوائے وطی کے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ یعنی جب یہ ہمیں کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کی مخالفت کا حکم دیتا ہے اور اس کا الٹ کرنے کو کہتا ہے۔ پس وہ ہر بات میں ہماری مخالفت کرنے کے درپے رہتا ہے۔
تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: یا رسول اللہ! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) جماع نہ کرلیا کریں؟۔ یعنی اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے سامنے یہودیوں کی اس بات کا تذکرہ کیا جو انہوں نے اس وقت کہی تھی جب انہیں یہ علم ہوا تھا کہ نبی ﷺ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ پھر انھوں نے آپ ﷺ سے وطی کو بھی جائز ٹھہرا دینے کے بارے میں پوچھا تاکہ یہودیوں کی ہر چیز میں مخالفت ہو سکے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ جب ہم نے عورتوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کی ہے اور اس کی بنا پر ہم ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، ان کے ساتھ سوتے اور ان کے ساتھ اکٹھے کھاتے پیتے ہیں اور سوائے جماع کے ہر چیز کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان سے جماع بھی کر لیا کریں تاکہ تمام امور میں ان کے مخالفت ہو سکے؟
”تو رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا“ یعنی نبی ﷺ نے ان کے اجتہاد کی تائيد نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ غصے میں آگئے اور غصے کے آثار بھی آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوگئے۔ کیونکہ ان کی بات شریعت کے برخلاف تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ اور آپ ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ آیت میں مذکور اعتزال سے کیا مراد ہے اور وہ یہ کہ مدت حیض میں تمہارے لیے ان کے ساتھ جماع کرنا جائز نہیں ہے۔
”یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان کی بات کی وجہ سے ان پر غصہ ہو گئے ہیں۔
چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ یعنی وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ اور ان کے نکلنے کے دوران ایک شخص نبی ﷺ کے لئے بطور تحفہ دودھ لے کر آیا۔ جب یہ تحفہ لے کر آنے والا شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلانے کے لیے ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا۔ جب وہ دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اظہارِ شفقت اور انہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ آپ ﷺ ان سے راضی ہیں انہیں یہ دودھ پلایا۔
”پس انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان سے غصہ نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ اچھی نیت کے ساتھ کہا تھا۔ یا پھر (ابتدا ميں آپ ﷺ کو غصہ آیا) لیکن وہ غصہ جاری نہ رہا بلکہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ لطف و مہربانی کا برتاؤ کرنے کا ایک مظہر ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ _ 2006 م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392هـ.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
عون المعبود شرح سنن أبي داود، تأليف: محمد شمس الحق العظيم آبادي، الناشر: دار الكتب العلمية، الطبعة: الثانية، 1415هـ.
شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com