سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔

عن أُمِّ عَطِيَّةَ رَضي الله عنها، وكَانَتْ بايَعَت النبيَّ صلى الله عليه وسلم، قالت: كُنَّا لا نَعُدّ الكُدرَةَ والصُّفْرَةَ بعدَ الطُّهرِ شيئًا.
ام عطیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، جنھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔
اسے ابو داود نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور بخاری نے (بعد الطہر) کے اضافہ کے بغیر روایت کیا ہےدرجہصحيح
تشریح

صحابیہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ عورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں حیض سے پاک ہونے کے بعد فرج سے نکلنے والے سیاہی مائل یا زردی مائل پانی کو حیض نہیں سمجھتی تھیں۔ چنانچہ اس کی وجہ سے نماز اور روزہ نہیں چھوڑتی تھیں۔

فوائد
  1. حیض سے پاکی کے بعد، عورت کی شرمگاہ سے جو پانی نکلتا ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، گرچہ اس میں خون سے حاصل ہونے والا گدلہ پیلہ رنگ ہی کیوں نہ ہو۔
  2. لیکن اگر حیض اور معمول کے دوران گدلے اور زرد رنگ کا مادہ نکلے، تو اسے حیض ہى سمجھا جائے گا؛ کیونکہ یہ اپنے وقت پر آنے والا خون ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں پانی کی ملاوٹ ہے۔
  3. عورت پاک ہو جانے کے بعد آنے والے گدلے اور زرد رنگ کے مادے کی وجہ سے نماز اور روزہ نہيں چھوڑے گی۔ وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے گی۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 72) (326). سنن أبي داود (1/ 226) (307). توضيح الأحكام، للبسام (1/ 450). سُبل السلام، للصنعاني (1/ 153).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حیض، نفاس اور استحاضہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com