انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ چنانچہ آپ ﷺ پانی سے استنجا کرتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کے خادم انس بن مالک بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ جایا کرتے، تو وہ اور ان کے ساتھ ایک اور لڑکا آپ ﷺ کی طہارت کے لیے پانی لایا کرتے، جس سے آپ ﷺ نجاست صاف کیا کرتے تھے۔ یہ پانی چمڑے سے بنے ایک چھوٹے سے برتن میں ہواکرتا تھا۔ اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپنے کے لیے ایک چھوٹی سی لاٹھی بھی لایا کرتے، جس کے ایک کنارے پر لوہے کا پھل لگا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ اسے زمین میں گاڑ کر اس پر کوئی چیز جیسے چادر وغیرہ ڈال دیاکرتے، جس سے آپ راہ گیروں کی نظروں سے محفوظ رہتے اور جب نماز کا ارادہ ہوتا، تو اسے بطور سترہ استعمال کرلیتے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 42) (152).
صحيح مسلم (1/ 227) (271).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص40).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 43).
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص84).
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «جاء أعرابِيُّ، فبَالَ في طَائِفَة المَسجد، فَزَجَرَه النَّاسُ، فَنَهَاهُمُ النبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلمَّا قَضَى بَولَه أَمر النبي صلى الله عليه وسلم بِذَنُوب من ماء، فَأُهرِيقَ عليه».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے انہیں منع کر دیا۔ جب وہ پیشاب کر چکا تو نبی ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا جسے اس پر بہا دیا گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اعرابی لوگ عموماً سخت مزاج اور جاہل ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان باتوں کو نہیں سیکھ پاتے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں۔
نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی نے آکر مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ اس کے خیال میں یہ مسجد بھی ویرانے ہی کی مانند تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اس کا یہ فعل بہت گراں گزرا کیونکہ مساجد تو بہت حرمت والی جگہیں ہوتی ہیں۔ چنانچہ پیشاب کرنے کے دوران ہی انہوں نے اسے جھڑکنا شروع کر دیا۔ تاہم نبی ﷺ نے جو بہت بلند اخلاق سے متصف تھے اور جنہیں خوشخبری دینے اور آسانی پیدا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا انہیں اسے جھڑکنے سے منع کر دیا کیونکہ آپ ﷺ اعرابی لوگوں کے احوال سے خوب آگاہ تھے۔آپ ﷺ کے منع کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ مسجد کی مختلف جگہوں، اپنے جسم اور کپڑوں کو خراب نہ کرے اور اس لیے کہ اسے پیشاب سے روکنے کی وجہ سے کوئی ضرر لاحق نہ ہو اور جب نبی ﷺ اسے تعلیم دیں اور نصیحت کریں تو وہ پورے طریقے سے اسے قبول کرے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ پیشاب والی جگہ پر پانی کا ڈول بہا کر اسے صاف کر دیں۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مدینہ کے کسی راستے پر ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہو گئی۔ اس وقت وہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں چپکے سے لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مدینہ کے ایک راستے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے وہ اس وقت جنبی تھے۔ نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم کے تقاضے کے تحت انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ اس حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھیں اور آپ سے گفتگو کریں۔ چنانچہ وہ چپکے سے نبیﷺ کے ہاں سے نکل گئے اور غسل کر کے واپس آئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتا دی کہ انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھیں۔
آپﷺ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ جنبی کو نجس خیال کر رہے تھے چنانچہ اس وجہ سے غسل کرنے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ:مومن کسی بھی حال میں نجس نہیں ہوتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 65) (285).
صحيح مسلم (1/ 282) (371).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 46).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص61).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 74).
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ عز و جل سے استغفار کرتے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قضائے حاجت یعنی پیشاب اور پاخانہ کا ارادہ کرنے والے کو قبلہ اور کعبہ کی جانب منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ اسے مشرق یا مغرب کی جانب رخ کر کے بیٹھنا چاہیے، اگر اس کا قبلہ اہل مدینہ کا قبلہ ہو۔ پھر ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ جب وہ شام پہنچے تو دیکھا کہ وہاں قضائے حاجت کے لیے بنے ہوئے بیت الخلا کعبہ رخ بنے ہوئے ہيں۔ اس لیے وہ اپنے جسم کو کعبہ کے رخ سے موڑ کر بیٹھتے اور قضائے حاجت کے بعد اللہ سے مغفرت طلب کر لیا کرتے۔
فوائد
اس میں پنہاں حکمت کعبہ کی تعظیم اور اس كا احترام ہے۔
قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد استغفار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم کا خوب صورت طریقہ سامنے آتا ہے کہ جب حرام کا ذکر کیا، تو مباح کی جانب بھی رہنمائی کر دی۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 88) (394).
صحيح مسلم (1/ 224) (264).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص37).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 39).
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا».
ولمسلم: « أولاهُنَّ بالتُراب».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے (کچھ) پی لے، تو اسے سات مرتبہ دھو لے۔" مسلم کی روایت میں ہے : "پہلی مرتبہ مٹی سے دھویا جائے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جب کتا برتن ميں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھویا جائے۔ سات میں سے پہلی بار مٹی سے دھویا جائے، تاکہ اس کے بعد جب پانی سے دھویا جائے، تو برتن پوری طرح صاف ہو جائے۔ گندگی اور نقصان دہ چيزیں باقی نہ رہیں۔
فوائد
کتے کی رال نجاست مغلظہ ہے۔
کسی برتن میں کتے کے منہ ڈال دینے سے وہ برتن اور اس میں موجود پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔
مٹی سے پاک کرنے اور سات مرتبہ دھونے کا حکم کتے کے منہ ڈالے ہوئے برتن کو صاف کرنے کے لیے ہے۔ اس کے پیشاب، پاخانہ اور اس کے ذریعے دیگر طریقوں سے آلودہ کی گئی چیزوں کو صاف کرنے کے لیے نہيں۔
برتن کو مٹی سے دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن میں پانی ڈال کر اس میں مٹی ملا دی جائے اور اس سے برتن کو دھویا جائے۔
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام کتوں کے لیےعام ہے، حتیٰ کہ ان کتوں کے لیے بھی جنہيں شريعت نے پالنے کا اختیار دیا ہے۔ جیسے شکار کے لیے، گھر کی نگہبانی کے لیے اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے پالے جانے والا کتے۔
صابن اور اس جیسی دوسری چيزیں مٹی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے صراحت کے ساتھ مٹی کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 45) (172).
صحيح مسلم (1/ 234) (279).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 14).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص24).
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جسے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سم کے داماد ہونے کے ناتے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو پوچھنے کا حکم دیا (اور انھوں نے پوچھا)، تو آپ نے کہا : "وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔" صحیح بخاری میں ہے: آپ نے کہا : "وضو کرو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ ان کو اکثر مذی نکل جایا کرتی تھی۔ دراصل مذی ایک طرح کا پتلا، چپچپا، سفید پانی ہے، جو شہوت کے وقت یا جماع سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔ ان کو پتہ بھی نہیں تھا کہ مذی نکلنے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھنے میں بھی حیا رکاوٹ بن رہی تھی، کیوں کہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں تھیں۔ لہذا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے بارے میں پوچھیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ وہ پہلے اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور اس کے بعد وضو کر لیں۔
فوائد
علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ حیا کو انھوں نے رکاوٹ بننے نہيں دیا اور آپ سے بالواسطہ مسئلہ پوچھ لیا۔
فتوى پوچھنے میں کسی کو نمائندہ بنانے کا جواز۔
کسی مصلحت کی بنا پر انسان وہ باتیں بتا سکتا ہے، جن کو بتانے سے حیا رکاوٹ بنتی ہے۔
مذی ناپاک ہے اور کپڑے اور بدن سے اسے دھونا واجب ہے۔
مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
شرمگاہ کے ساتھ ساتھ دونوں خصیوں کو بھی دھونا ضروری ہے، کیوں کہ ایک دوسری حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 62) (269).
صحيح مسلم (1/ 247) (303).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 39).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص53).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص29).
امّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں، جو اپنی کم سنی کی وجہ سے ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ بچے نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
فوائد
اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاقِ کریمہ، اور آپ کی بے پناہ تواضع۔
حسن سلوک، تواضع اور چھوٹوں کے ساتھ نرمی برتنے، بچوں کی عزت کرکے اور انہیں گود میں بٹھا کر بڑوں کی دل جوئی کرنے، وغیرہ کی ترغیب۔
لڑکے کا پیشاب نا پاک ہے خواہ وہ رغبت کے ساتھ کھانا نہ کھاتا ہو۔
نبی ﷺ کے اس فعل کو نَضْح (چھڑکاؤ) کہا جاتا ہے، یہ اس دودھ پیتے لڑکے کے ساتھ خاص ہے جو ابھی کھانا نہ کھاتا ہو۔ البتہ لڑکی کے پیشاب کو دھونا واجب ہے، چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
شیرخوار لڑکے کے پاخانے کو دیگر ناپاکیوں کی طرح دھونا لازم ہے۔
غسل صرف جسم تک پانی پہنچا دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ غسل کے لیے اس کے علاوہ بھی کچھ کام مشروط ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ نجاست کی جگہ کو فوراً پاک کر لیا جائے، تاکہ ناپاکی سے جلد طہارت حاصل ہو اور انسان اسے بھول نہ جائے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 54) (223).
صحيح مسلم (1/ 238) (287).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 42).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص55).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 68).
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بال أعرابي في المسجد، فقام الناس إليه لِيَقَعُوا فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «دعوه وأريقوا على بوله سَجْلاً من ماء، أو ذَنُوبًا من ماء، فإنما بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، ولم تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگ اس کی طرف بڑھے، تاکہ اسے ڈانٹیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح
ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر مسجد نبوی میں پیشاب کرنا شروع کردیا۔ لوگ اسے آواز دینے لگے، تاہم کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اس پر نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا ،تو آپ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ جس جگہ اس نے پیشاب کیا ہے، وہاں ایک ڈول پانی بہا دیں۔ آپ ﷺ نے ان پر واضح کیا کہ وہ آسانی کے داعی ہیں، نہ کہ لوگوں کو متنفر اور ہدایت سے دور کرنے والے ۔
حوالہ
الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422.
رياض الصالحين-النووي-تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت-الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, تأليف: أبو العباس أحمد بن محمد القسطلاني, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية, ط7 عام 1323.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com