سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بال أعرابي في المسجد، فقام الناس إليه لِيَقَعُوا فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «دعوه وأريقوا على بوله سَجْلاً من ماء، أو ذَنُوبًا من ماء، فإنما بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، ولم تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگ اس کی طرف بڑھے، تاکہ اسے ڈانٹیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر مسجد نبوی میں پیشاب کرنا شروع کردیا۔ لوگ اسے آواز دینے لگے، تاہم کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اس پر نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا ،تو آپ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ جس جگہ اس نے پیشاب کیا ہے، وہاں ایک ڈول پانی بہا دیں۔ آپ ﷺ نے ان پر واضح کیا کہ وہ آسانی کے داعی ہیں، نہ کہ لوگوں کو متنفر اور ہدایت سے دور کرنے والے ۔

حوالہ

الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422. رياض الصالحين-النووي-تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت-الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, تأليف: أبو العباس أحمد بن محمد القسطلاني, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية, ط7 عام 1323.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نجاستوں کا ازالہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com