ابو سمح رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور جب کبھی آپ ﷺ غسل کا ارادہ فرماتے، تو ابو سمح کو ہدایت دیتے کہ وہ اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے کھڑے ہوجائیں اور ابو سمح اپنے جسم کے ذریعے نبی ﷺ کو یوں آڑ میں لے کر کھڑے ہوجاتے کہ ان کی پشت نبی ﷺ سے قریب ہوتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا لوگوں سے اور خود سے ستر فرماتے۔ انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو ان کی موجودگی میں نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا کہ آپ کی خدمت میں حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور انھوں نے آپ کے سینے کی جگہ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ لیکن جب ابو سمح رضی اللہ عنہ نے اس کو دھونا چاہا، تو آپ ﷺ نے ان سے اس مسئلے کی بابت وضاحت فرمائی کہ تاحال کھانا کھانا شروع نہ کرنے والے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کی پاکی کے لیے (اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے) بس اتنا کافی ہے کہ جہاں پیشاب لگا ہو ،اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے، اسے دھونا واجب نہیں۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کو کپڑوں سے دھونا واجب ہے؛ چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔ لڑکا اور لڑکی کے مابین کیے گئے فرق کی وجوہات کے تئیں اہل علم کا کہنہا ہے کہ نرینہ اولاد کو مرد اور خواتین بکثرت اٹھائے پھرتے ہیں، جس کی بنا پر اس کے پیشاب کی وجہ سے ہونے والی مشقت بہت عام ہوتی ہے اور اس طرح اسے دھونا دشواری کا باعث ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے بالمقابل، لڑکی کے پیشاب میں گندگی اور بدبو کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے؛ کیوں کہ بچے کے پیشاب میں حرارت اور لڑکی کے پیشاب میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا حرارت، پیشاب کی بدبو کے اثرات کی شدت کو گھٹا دیتی ہے اور پیشاب سے اس چیز کو تحلیل کردیتی ہے، جو رطوبت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ لڑکا اور لڑکی کے پیشاب میں جو فرق ہے اس کے متعلق یہ کچھ حکمتیں ہیں جنہیں علماء کرام نے بیان کی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں تو بہت ہی معقول حکمتیں ہیں اس لیے کہ فرق بلکل واضح ہے، اور اگر یہ حکمتیں صحیح نہیں ہیں تو اس حکم میں اصل حکمت تو ہے ہی، یعنی کہ یہ اللہ تعالی کا حُکم ہے، اور ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت ہی عین حکمت ہے، یقینا شریعت بظاہر ایک جیسی دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی مگر یہ کہ حقیقی معنوں میں ان میں فرق موجود ہو، اسی طرح شریعت کسی دو چیزوں کو جمع نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو جمع کرنا ہی حکمت کا عین تقاضہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کے احکام مصلحت کے عین موافق ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ مصلحتیں کبھی ظاہر ہو جاتی ہیں تو کبھی مخفی رہتی ہیں۔
سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م. سنن ابن ماجه, ابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. صحيح أبي داود – الأم, أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني, مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ ـ 1431 هـ التَّحبير لإيضَاح مَعَاني التَّيسير, محمد بن إسماعيل الكحلاني ثم الصنعاني، أبو إبراهيم, حققه محَمَّد صُبْحي بن حَسَن حَلّاق أبو مصعب, مَكتَبَةُ الرُّشد، الرياض - المملكة الْعَرَبيَّة السعودية, الطبعة: الأولى، 1433 هـ - 2012 م. حاشية السندي على سنن النسائي (مطبوع مع السنن), محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب, الطبعة: الثانية، 1406 – 1986م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية, أبو نصر إسماعيل بن حماد الجوهري الفارابي, تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار, دار العلم للملايين – بيروت, الطبعة: الرابعة 1407 هـ - 1987 م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.