عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "لا يَبُولَنَّ أحَدُكم في الماء الدَّائِم الذي لا يجْرِي، ثمَّ يَغتَسِل مِنه".
وفي رواية: "لا يغتسل أحدكُم في الماء الدَّائم وهو جُنُب".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے، اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول ﷺ نے فرمایا) ”تم میں سے کوئی بھی حالتِ جنابت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے ایسے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا جو ٹھہرا ہوا ہو اورجاری نہ ہو۔ کیونکہ اس کی وجہ سے یہ نجاست سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ وہ امراض جو پیشاب کے بسبب در آ سکتے ہیں ہر اس شخص کو نقصان دے سکتے ہیں جو پانی کو استعمال کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود پیشاب کرنے والا ہی اس پانی کو استعمال کرے اور اس سے غسل کرے۔ چنانچہ اس کے لیے کیسے روا ہے کہ وہ ایسی شے میں پیشاب کرے جو بعد میں اس کے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ ہو گی۔
اسی طرح نبی ﷺ نے جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کرنا پانی کو جنابت کی گندگی سے آلودہ کر دیتا ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَن أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَرْكَبُ البَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا القَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الحِلُّ مَيْتَتُهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا : "یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں اور ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے۔ اگرہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں۔ لہذا کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟"۔ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا : "سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : ہم شکار، تجارت اور اس طرح کے دوسرے مقاصد کے تحت کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر کا سفر کرتے ہيں۔ ہمارے ساتھ پینے کا پانی بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کا استعمال وضو اور غسل میں کریں گے، تو وہ ختم ہو جائے گا اور پینے کا پانی نہیں بچے گا۔ لہذا کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز ہوگا؟
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سمندر کے پانی کے بارے میں فرمایا : اس کا پانی خود بھی پاک ہے اور اس کے اندر دوسرے کو پاک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس سے نکلنے والی مچھلیوں وغیرہ کا کھانا بھی جائز ہے۔ اگرچہ وہ مردہ حالت میں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی ہی کیوں نہ پائی جائيں اور کسی نے ان کا شکار نہ بھی کیا ہو۔
فوائد
- سمندری جانور مرے ہوئے حالت میں بھی حلال ہیں۔ یعنی ایسے جانور جو سمندر ہی میں رہتے ہوں اور اس کے اندر مر جائيں، تو انھیں کھانا جائز ہے۔
- سوال کرنے والے کو اتمام فائدہ کے لیے اس کے سوال سے زیادہ جواب دیا جا سکتا ہے۔
- کسی طاہر چيز کے ملنے سے پانی کا مزہ، رنگ یا بو بدل جائے، تو وہ پاک ہی رہتا ہے، بشرطیکہ وہ پانی اپنی حقیقی حالت پر باقی رہے۔ خواہ وہ سخت نمکین، سخت گرم یا سخت ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو جائے۔
- سمندر کا پانی چھوٹی اور بڑی ناپاکیوں کو دور کردیتا ہے اور کسی پاک چيز، مثلا بدن یا کپڑے وغیرہ پر لگنے والی گندگی کو بھی اس سے دور کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (1/ 62) (83).
سنن الترمذي (1/ 111) (69).
سنن النسائي (1/ 50) (59).
سنن ابن ماجه (1/ 250) (386).
مسند أحمد (12/ 171) (7233).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (1/ 28).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 59).
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 116).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أنه قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أنتوضأ من بِئر بُضَاعَةَ وهي بئر يُطرحُ فيها الحَيضُ ولحم الكلاب والنَّتَنُ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «الماء طهور لا ينجسه شيء».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم بئرِ بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں، جو کہ ایسا کنواں ہے، جس میں حائضہ عورتوں کے کپڑے اور کتوں کا گوشت اور گندگی پھینکی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہے؛ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ پانی پاک ہے اور صرف نجاست کے گرنےسے پاک پانی ناپاک نہیں ہوتا، جب تک کہ پانی کا رنگ، مزہ یا بو تبدیل نہ ہو۔
حوالہ
- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- السنن الكبرى، للنسائي، حققه وخرج أحاديثه: حسن عبد المنعم شلبي.
أشرف عليه: شعيب الأرناؤوط مؤسسة الرسالة – بيروت الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
- مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: أبو الحسن عبيد الله المباركفوري - إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء - الجامعة السلفية - بنارس الهند الطبعة: الثالثة - 1404 هـ، 1984.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ».
عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس پانی کے بارے پوچھا گیا، جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے رہتے ہوں (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : ”جب پانی کی مقدار دو قلہ (دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر) ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دیتا۔“
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ وہ پانی پاک ہے یا نہیں، جس پر چوپائے اور درندے پانی پینے وغیرہ کے لیے آتے جاتے رہتے ہوں، تو آپ نے جواب دیا کہ جب پانی دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر ہو ، جو موجودہ حساب سے 210 لیٹر ہوتا ہے، تو وہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی ہے اور وہ ناپاک نہيں ہوتا۔ ہاں، اگر کوئی ناپاک چيز ملنے کی وجہ سے اس کے رنگ، مزہ یا بو میں سے کوئی وصف بدل جائے، تو بات الگ ہے۔
فوائد
- کوئی ناپاک چيز ملنے کی وجہ سے پانی کے رنگ، مزہ یا بو میں سے کوئی ایک وصف بدل جائے، تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عموم کے طور پر ہے۔ تحدید کے طور پر نہيں۔
- علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی ناپاک چيز پانی کو بدل دے، تو پانی ناپاک ہو جائے گا۔ خواہ کم ہو یا زیادہ۔
حوالہ
سنن أبي داود (1/ 46) (63).
سنن الترمذي (1/ 109) (67).
سنن النسائي (1/ 46) (52).
سنن ابن ماجه (1/ 324) (517).
مسند أحمد (8/ 211) (4605).
توضيح الأحكام، للبسام (1/ 121).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 67).
منحة العلام، لعبد الله الفوزان (1/ 35).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغتسل بفضل ميمونة رضي الله عنها .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اپنی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان - طبعة دار ابن الجوزي - الطبعة الأولى 1428.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- مؤسسة الرسالة.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام - مكتبة الأسدي – مكة المكرمة – الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: اغتسل بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في جَفْنَةٍ، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم ليتوضأ منها أو يغتسل، فقالت: له يا رسول الله، إني كنت جُنُبًا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الماء لا يَجْنُبُ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے کسی زوجہ نے ایک بڑے برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا۔ بعد ازاں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ اس برتن (میں موجود پانی) سے وضوء یا غسل کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی اس زوجہ نے کہا کہ یارسول اللہ! میں تو جنبی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا۔ آپ ﷺ وضو یا غسل کے ارادے سے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ جنبی تھیں (اس لیے انہوں نے اُس پانی سے غسلِ جنابت کیا تھا)۔ آپ ﷺ نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ کہ پانی تو پاک ہوتا ہے اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔
حوالہ
توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423ه.
سُبل السلام، للصنعاني، دار الحديث.
تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427ه.
شرح الشيخ ابن عثيمين، تحقيق صبحي رمضان وآخر، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
منحة العلَّام للشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1427ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com